fbpx
مضامین

(رُموز شادؔ )’’بہترین نظام حکومت‘‘

……. (ارشاد اللہ شادؔ ۔۔ بکرآباد چترال)

عرب میں حضرت محمدﷺ نے ایک توحید دین کی بنیاد ڈالی ، جس نے آگے چل کر پورے عالم انسانیت کو اپنے سائے میں لے لیا ۔ اسلام جو دنیا کے عظیم اور عالمگیر مذاہب میں سب سے کم عمر ہے۔ کئی طرح سے نہایت آسان اور واضح مذہب ہے اس مذہب کے پیرو صرف ایک خدا کی عبادت و بندگی کرتے ہیں ، جو ہر شئے پر محیط ہے ۔ اسلام کے داعی حضرت محمدﷺ ، نہ تو مسیح تھے نہ نجات و ہندہ بلکہ وہ ایک انسان تھے جن کو خدا نے بنی نوع انسان تک اپنا پیغام پہنچانے کیلئے بطور واسطہ منتخب کیا تھا۔ اسلامی عقیدہ دنیا میں انسانی اخلاق و اعمال سے اتنا ہی تعلق رکھتا ہے ، جتناآخرت میں اعمال و اخلاق کی جزا و سزا سے دوسرے مذاہب کے بر عکس جن کے آغاز کے حالات مشکوک اور غیر واضح ہیں اور جو اپنی قدامت اور سست روی کے نتائج ہیں۔ اسلام کا آغاز تاریخ کی پوری روشنی میں ہوا، اور طوفانی رفتار کے ساتھ پھیل گیا ۔ حضرت محمدﷺکی وفات ۶۳۲ء کے کچھ ہی سال بعد اسلام پورے وسطی یورپ پر چھا گیااور تقریباََ ایک ہی صدی کے اندر اس کی حکومت کی سرحد جبرالٹر سے ہمالیہ تک وسیع ہو گئی۔
اسلام کے فتوحات کے اسباب بحرروم کے ہمسایہ ملکوں کی بد نظمی اور عربوں کے پرجوش جذبات اور عسکری طاقت میں مضمر نہیں ہیں ۔ بلکہ اسلام کی مستقل طاقت اور اس کے استحکام کا انحصار اس کے صاف اور مثبت واضح عقائد پر ہے جس نے اسلامی نظام کی ۱۴سو سال سے بر قرار رکھا ہے۔ اسلام صرف ایک مجموعہ عبادات ہی کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک ہمہ گیر نظام حیات ہے ، جو انسانی افکار و خیالات کے اس حد تک رہنمائی کرتا ہے جس کا ہمسر یورپ میں کوئی نہیں ہے۔
اسلام خود اپنی عظمت کا مظہر ہے ، جس کے معنی ہیں مطیع و منقاد ہو جانا یعنی اپنے آپ کو خدا کی رضا کے تابع کر دینا اور اس کے فرمانبردار بن جانا ۔ لفظ’’ مسلم‘‘ کا مصدر بھی اسلام ہی ہے جس کے معنی فرمانبردار کے ہیں ۔ اس لئے ہر سچا مسلمان اپنے کو خدا کے حضور اور خدا کو ہر جگہ حاضر و ناظر سمجھتا ہے۔ اسلام کے ماننے والوں کیلئے مذہب اور سیاست کے تعلق کو کبھی توڑا نہیں جا سکتا ۔ یہ اعتقاد کہ خدا حاضر و ناظر ہے حکیم و خبیر ہے، عادل ہے دنیا کے مسلمانوں میں ایسی ذہنی بلندی اور خود اعتمادی پیدا کرتا ہے جس کے ہوتے ہوئے انہیں اسلام سے پھر جانے یا مشکلات و مصائب سے گھبرا جانے کا اندیشہ نہیں ہوتا اپنے وسیع مفہوم کے اعتبار سے اسلام خدا کی رحمت کے سائے میں انسانی بھائی چارے کا نام ہے ، جو نسل اور قوم کی بندشوں سے آزاد خدا کی عبادت و فرمانبرداری کیلئے متحد ہو کر ایک اجتماعی جدو جہد میں مصروف ہے ۔ اسلام کا یہ عقیدہ کہ حضرت محمدﷺ کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے جو الفاظ قرآن میں موجود ہیں ۔ وہ آخری غیر مبدّل اور خدائی کلام ہیں۔ اسلام کی عظمت اور اس کی قوت و طاقت کی دوسری اہم بنیاد ہیں ۔ ایک مسلمان کے عقیدے کے مطابق قرآن تمام گزشتہ کتب سماوی کو منسوخ کرتا ہے اور ان کی تمام سچّا ئیوں کو تسلیم کرتا ہے ۔ یہودی اور عیسائی مذہب ہیں جس خدا کا تصور ہے ، بنیادی طور پر اسلام کا خدا بھی وہی ہے ، لیکن ایک مسلمان کی نظر میں سابقہ کتب سماوی میں خدا کے پیغام نا مکمل ہیں، صرف قرآن ہی ایک جامع اور مکمل خدائی پیغام ہے۔( اپنے سے قبل کی سماوی کتابوں کو قرآن ان کے زمانے کے مطابق نا مکمل نہیں کہتا بلکہ مکمل مانتا ہے، وہ نا مکمل قرار دیتا ہے اپنے زمانے اور آئندہ کی ترقی یافتہ دنیا کے لحاظ سے کیونکہ وہ کتابیں مخصوص ملک و قوم اور محدود زمانے کیلئے تھیں۔ قرآن تمام دنیا اور قیامت تک کیلئے دستور حیات ہے)۔۔اس طرح حضرت ابراہیم ؑ سے لے کر حضرت عیسیٰؑ تک بائبل کے ہر رسول کا اسلام احترام کرتا ہے اور حضرت محمدﷺ کو آخری اور عالمی پیغمبر مانتا ہے ، اور انہیں خاتم النّبین کے لقب سے ملقّب کرتا ہے ، جہاں اسلام نے حضرت عیسیٰ ؑ کی اُلوہیت سے انکار کیا وہیں اس نے حضرت محمدﷺ کو بھی معبود نہیں مانا ہے ۔ حضرت محمدﷺ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ وہ خدائی پیغام کو انسان تک پہنچانے کا ایک وسیلہ ہیں۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق