fbpx
مضامین

داد بیداد……ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ

…….کمپیوٹر کی تعلیم اور خیبر پختو نخوا……

جمعہ8 جنوری کے اخبا رات میں صدر ممنون حسین کی اہم تقر یر کے چیدہ چیدہ نکات پر مبنی خبریں آئی ہیں ۔نصاب سازی کے حوالے سے ایک تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے صدر مملکت نے اس بات کی ضرورت پرزور دیا ہے کہ وفاق کی تمام اکا ئیوں کے لئے یکساں نصاب تر تیب دیا جائے تا کہ قومی یک جہتی اور ہم آہنگی کے اعلیٰ مقا صد کا حصول ممکن بنانے میں آسانی ہو ۔صدر مملکت نے جس تقریب میں یہ با تیں کہیں اس تقریب میں خیبر پختونخوا کے لو گ بھی بیٹھے ہو ئے تھے ۔میر ے سا منے خیبر پختو نخوا میں کمپو ٹر کی تعلیم کا نصاب اور 2009 ء کی قومی تعلیمی پا لیسی میں نصاب سا زی کا اہم با ب ہے۔قو می تعلیمی پا لیسی آخری بار 2009 ء میں بنی تھی۔اس پر دو سال پہلے 2007 ء میں کام شروع ہو ا تھا۔ وِژن جنرل مشرف نے دیاتھا ۔پا لیسی صدر زرداری کے دور میں بن گئی۔پا لیسی میں بجا طور پر انفار میشن ٹیکنالو جی یعنی کمپیوٹر کی تعلیم کو جدید دور کی اہم ضرورت قرار دیا گیا ہے۔اور کمپیوٹر کی تعلیم کے لئے نو یں جما عت سے لیکر گر یجو یشن تک اعلیٰ اور جا مع نصاب دیا گیا ہے۔جو وقت کے تقا ضوں سے ہم آہنگ ہے۔اس نصاب میں دیگر مضامین کی طرح فضول با تیں نہیں ڈالی گئیں ۔چچا ، ما موں والا مسئلہ نہیں پیدا کیا گیا۔ بلکہ پڑھے لکھے لوگوں کے ذریعے بہترین مواد کو نصاب کا حصہ بنا یا گیا ۔یہ نصاب پنجاب اور سندھ میں ٹھیک ٹھا ک طریقے سے پڑھایا جا تا ہے۔خیبر پختونخوا کی حکو مت نے اس میں ر خنہ ڈال دیا ہے۔نو یں اور دسو یں کلا سوں میں کمپیوٹر کی تعلیم نہیں ہے ۔گیا ر ھویں اور با ر ھویں جما عت میں ابتدائی اسبا ق کو چھو ڑ کر ایڈوانس لیول کے یو نٹ پڑھا ئے جا تے ہیں ۔خیبرپختو نخوا کے محکمہ تعلیم میں کمپیوٹر سے وا قف اور آئی ٹی کے تصور کو جا ننے والا کو ئی وزیر یا افسر اب تک نہیں آیا۔خیبر پختو نخوا ٹیکسٹ بک بورڈ میں کمپیوٹر کے مبا دیا ت سے واقفیت رکھنے والا کو ئی آفیسر یا ما ہر مضمون نہیں ہے ۔کا لج کی سطح پر کمپیوٹر پڑھا نے والے 16 اسا تذہ نے محکمہ تعلیم اور ٹیکسٹ بک بو رڈ کی تو جہ اس صورت حال کی طرف مبذول کرانے کے لئے تفصیلی مقا لے تحریر کر کے بھیج دئیے۔ان کوپڑھنے والا کو ئی نہیں ۔جواب دینے والا کو ئی نہیں ۔اس حو الے سے جو مسا ئل اٹھا ئے گئے وہ دو نو عیت کے مسا ئل ہیں ۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر خیبر پختو نخوا میں سکول کی سطح پر کمپیو ٹر کی تعلیم ممکن نہیں ہے توقومی تعلیمی پا لیسی 2009 ء میں سکو لوں کے لئے نویں دسویں کا جو نصاب دیا گیا ہے۔اس کو کا لج کی سطح پر گیا رھویں اور با رھویں جما عت کے لئے رکھا جا ئے ،انٹر کی سطح کا نصاب تھو ڑی سی تر میم کے سا تھ گریجویٹ لیول کے لئے رکھا جا ئے۔اگر خیبر پختو نخوا کی حکو مت کہتی ہے۔ کہ قومی تعلیمی پا لیسی کے عین مطا بق کمپیوٹر کی تعلیم کا انتظام ہو سکتا ہے تو پھر قومی تعلیمی پا لیسی کے مطا بق سکو ل کی سطح پر کمپیو ٹر کی تعلیم کے بنیا دی تصورات ، ایم ایس ورڈ ، ایم ایس ایکسل ، ایم ایس پا ور پو ائنٹ، سی پلس پلس وغیرہ کی تعلیم کا انتظام کرے ۔انٹر لیول پر آرٹس گروپ کے لئے الیکٹیو اور کمپیوٹر سا ئنس گروپ کے لئے لا زمی مضمون کی حیثیت سے انفا ر میشن ٹیکنا لو جی کا جو نصاب ہے وہ ایڈ وانس لیول کا ہے ۔اُس میں یہ فرض کر لیا گیا گیا ہے کہ سٹو ڈنٹ نے ابتدائی تعلیم سکول کی سطح پر حا صل کی ہے۔پنجاب اور سندھ میں ایسا ہی ہے ۔خیبر پختو نخوا میں ایسا نہیں ۔یہاں کمپیوٹر کی ابتدائی تعلیم کو چھوڑ کر جمپ لگا یا گیا ہے ۔محکمہ تعلیم کے با ہر کمپیوٹر جا ننے والے پڑھے لکھے لو گ مو جو د ہیں ۔پا کستان تحریک انصاف کے اندر بھی پڑھے لکھے لو گو ں کی کمی نہیں ۔کمپیوٹر اور آئی ٹی کے شعبے سے معمو لی وا قفیت رکھنے والے بھی جا نتے ہیں ۔کہ ایم ایس آفس کو مجموعی طور پر پڑھا ئے اور پا س کرا ئے بغیر ایم ایس ایکسیس MS Access کو انفرادی طور پر نہیں پڑھا یا جا سکتا ۔ایسی کوشش احمقانہ کو شش ہو گی ۔اس طرح اگر کو ئی حکو مت کمپیوٹر کے طلبہ و طالبات کو سی پلس پلس (C++) پڑھائے بغیر اوبجیکٹ اورئنٹیڈ پرو گرامنگ (OOP)پڑھانے کا حکم دے تو اس حکومت کو اندھی، بہری اور گونگی بلکہ لولی لنگڑی حکومت سمجھا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے منشور میں تعلیم کو پہلی 10ترجیحات میں رکھا گیا ہے ۔لیکن حکومت آنے کے ڈھائی سال بعد یہ حال ہے کہ جنرل مشرف اور صدر زرداری کے دور میں سکولوں کے اندر قائم ہونے والی کمپیوٹر لیبارٹریاں بند پڑی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے کسی بھی سکول میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کوئی ٹیچر نہیں ہے۔ نصاب بنانے والوں کو اس بات کا علم نہیں کہ ہمارے سکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم کا انتظام نہیں۔ نصابی کتابیں چھاپنے والوں کو اس بات کا پتہ نہیں کہ خیبر پختونخوا میں جماعت نہم اوردہم کا کمپیوٹر کورس نہیں پڑھا یا جاتا۔ ایسے میں صدر ممنون حسین نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرکے ہمارے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ گورننس کے دو ترجمے رائج ہیں۔ اس کا ایک ترجمہ ہے نظم و نسق اور دوسرا ترجہ ہے فیصلہ سازی ۔ آپ جس ترجمے کو بھی لے لیں۔ خیبر پختونخوا میں گورننس کا برا حال نظر آئے گا۔ کسی اور شعبے پر چاہے توجہ نہ بھی ہو۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے پر سب کی توجہ ہے۔ میڈیا کی بھی توجہ ہے۔ اس لئے حکومت کو 2009ء کی تعلیمی پالیسی کے مطابق سکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم کا انتظام کرنا چاہیئے۔ یہ ممکن نہ ہو تو نہم اور دہم کے نصاب کو انٹر لیول پرپڑھایا جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق