fbpx
مضامین

حد سے تجاوز اور تجاوزات

ڈاکٹرنثار اللہ ( عشریت)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تجا وز لفظ ہی کچھ ایسا فکرانگیز ہے کہ جس کی حدود اور جس کا اختیارچیلنج کیا گیاہو۔یا پھر متا ثر ہوا تو توکر نے والا متجا وز اور اس فعل کو تجا وز کہا جا تا ہے۔ اور اگر باربار کیا جا ئے تو تجا وزات کا لفظ وجود میں آجاتاہے۔با زاروں میں تجا وزات کا لفظ بڑا ہی دلچسپ ہے جبکہ حکومت کبھی کبھی خود ہی ایکشن لیتی ہے تو اس کو ظالم اور تجا وزات کر نے والا مظلوم ہو نے کے نعرے لگا ئے جا تے ہیں۔ جبکہ تجا وزات کا لفظ ہی اس کا عکس ہے کہ کسی کے حدود میں دخل دیا گیا ہے ۔ایک تاجر بھائی سے ایک سا تھی نے کہا کہ یہ تم پر اللہ کا احسان ہے کہ تمھارا بو جھ تمہاری قیا مت کے قیام سے پہلے دنیا ہی میں ہلکا کر دیا گیا ورنہ قیا مت کے دن تم اس سا ری متجا وز زمین کو گلے میں ہا ر بنا کر در با ر خدا وندی میں حا ضر ہوتے اور لا کھوں نہیں بلکہ کروڑوں مدعیان تمہارے سا منے دعویٰ کے سا تھ کھڑے ہو تے اور اس وقت نہ بھا گنے کی جگہ ہو ئی اورنہ ہی چھینے کی جگہ پاتے۔
حکو مت کی مثال اس ما ں کی طرح ہے جو شفقت بھی کرتی ہے اور اپنے بچوں کی تر بیت کے لئے ڈانٹ ڈپٹ اور تھو ڑی بہت سزا کا بھی اہتمام کر تی ہے ۔بحرحال بات مختصر کر تے ہو ئے میں کہنا چا ہوں گا کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی زندگی کا خود ااحتساب کرنا چا ہیے۔اور دوسروں کی حدود میں داخل ہو نے سے پہلے اپنی حدود کا تعین کرنا چا ہیے۔حدود سے تجا وز کر نے والا ظالم کہلاتا ہے چا ہے بڑا افسر ہی کیوں نہ ہو ۔انفرادی زندگی میں بھی ہمیں اپنے حدود کو خود دیکھنا چا ہیے۔ورنہ اگر دوسروں نے اپنی حدود کا تعین کرایا تو اس میں محبت سب سے کم پا ئے جا نے والا لفظ ہو گا۔ کیو نکہ اس متاثر ہ شخص کو آپ کی عزت کی نہیں اپنی قبضہ شدہ عزت اور تجاوز کا غم زیادہ ہو تا ہے۔ حدود کا تعین پر امن بقائے با ہمی کے نظریہ کی سب سے پہلی کڑی ہے اور قیامت کے دن سب کچھ صاف و شفاف نظر آئے گا ۔حضرت اقبال نے ایک شعر میں اس سارے قضیے کو کچھ یوں کھولا ہے کہ دل سے ہر وقت ان کے لئے دعا نکلتی رہتی ہے۔
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشرمیں ہے
پیش کر غافل عمل کو ئی اگر دفتر میں ہے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق