fbpx
اے ایم خان

پس وپیش تعلیم سے علمی سوچ !

موجودہ دور میں تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں ، اور جو ترقی دُنیا کے کسی کونے میں اِس کے بغیر ہو بھی رہا ہے وہ پائید ار نہیں ہوتی ۔ ترقی کا دارومدار جب ہنر مند افرادی قوت کے بجائے وسائل پر ہوتی ہے توقدرتی وسائل کی عمر اور نوعیت مستقل نہیں ہوتی ۔ ہنر مند افرادی قوت ملک یا ایک علاقے میں ایک انفراسٹرکچر بنا لیتا ہے جس سے آنیوالے لوگ سیکھ بھی لیتے ہیں۔ ترقی کی طرح تعلیم بھی ایک عمل (process ) ہے جوکہ ضلع چترال میں تعلیم اور تعلیمی سرگرمیوں کا بڑھتا ہوا رجحان اِس بات کی عکاسی کرتا ہے یعنی کہ چترال میں ترقی ہور ہی ہے۔ اِس عمل میں پبلک سیکٹر کے ساتھ ،پرائیوٹ سیکٹر کا کردار بہت قابل ستائش ہے ، کیونکہ ریاست کی آئینی ذمہ داری میں پرائیوٹ سیکٹر ادارے علاقے کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کررہے ہیں۔
پاکستان میں اسیر (ASER)کے ایک رپورٹ کے مطا بق چھ سال سے سولہ سال کے عمر کے بچوں کا پانجواں حصہ ا سکول سے اب بھی باہر ہے ،اور ڈان اخبار کے کل کے ایک رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سولہ ہزار بچے اب بھی سکول سے باہر ہیں۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اب تک سکول سے باہر بچوں کو کلاس روم میں لانے میں ریاست ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکا ہے اور خیبر پختونخوا صوبہ بھی۔ ماہر ین کا رائے یہ ہے کہ تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے اِسے غیر سیاسی (depoliticised) توجہ کی ضرورت ہے ۔ ہمارے قومی پالیسی میں بہت زیادہ چیزیں شامل کی گئی ہیں جن میں کمپیوٹر کی تعلیم، اِنفارمیشنن ٹیکنالوجی ، جدید طرز تدریس کا نفاذ، اور ٹیچرز کی ٹریننگ وٖغیرہ کے احدا ف ہمارے تعلیمی کریکلم curriculum) ( میں شامل ہیں اُن پر ابھی تک خاطر خواہ کام ہونہیں رہا ، جو کہ ضروری ہیں ۔
میرے خیال میں کمپیوٹر کی تعلیم سے بڑھ کر اولین ضروری کام جوکہ وفاقی حکومت کو اور خصوصاً صوبائی حکومت کو کرنا چاہیے ، وہ تعلیمی کریکلم پر کام ہے، اور یہ کام بھی غیر سیاسی بنیادوں پر! کریکلم تعلیم کا نقشہ یا ایک ڈیزائن جوکہ اِس عمل کو اگے لے جانے کیلئے ایک فریم ورک مہیا کر دیتا ہے ،جسکے مطابق ایک عمارت تیار کی جاتی ہے ۔ جب تک یہ نقشہ یا ڈیزائن موجودہ اور مستقبل کے ضروریات کو سامنے رکھ کر طویل المیعاد مقاصد کے حصول کیلئے نہ بنایا جائے ، تو جو عمارت تو بن جاتی ہے وہ مستقل نہیں ہو سکتی، جو موجودہ بڑھتے ہوئے زلزلے کے پہلے جھٹکے سے ہی گر سکتا ہے۔ اور ایک اچھے ڈیزائن کی خوبی یہ ہوتی ہے جس میں ضرورت کے مطابق مزید اضافہ کرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور وہ مستقل ہوتی ہے ۔اور ساتھ ہمارے کریکلم میں چند عنوانات کے متعلق تعلیم دینا چاہیے تھا جن میں : پیس ایجوکیشنpeace education) ( ، ماحولیاتی تعلیم (environmental education) ، عالمگیریت اور تکثیریت (globalisation and diversity) اور خصوصا ً بچون میں تنقید ی سوچ (critical thinking )پید ا کرنا ، بھی موجو د نہیں جوکہ نہایت ضروری ہیں! وقت کی ضرورت یہ ہے کہ بچوں کو ڈیجیٹائزڈ (digitised ) کرنے کے بجا ئے ہمیں( digital citizenship )کے بارے میں اُنہیں پڑھانا چاہیے، جو کہ وقت کی ضرورت ہے۔ ملک میں فقد ان یہ ہے کہ جو لوگ اُس پوزیشن میں ہیں کہ وہ ایسے پروگرامز کا انتظام کر سکیں وہ یا اُنہیں ضروری نہیں سمجھتے یا اُنہیں اِ ن ضروریات کا اندازہ نہیں۔ اب گلوبل سٹیزنشپ(global citizenship ( پڑھانے کے بجائے کمپیوٹر، اور کمپیوٹر کے ذریعے تعلیم کے بجائے کمپیوٹر پر، یعنی انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم کو ایک کامیابی اور پروجیکشن کا عمل بنانا کم ازکم بچوں میں خاطرخواہ تبدیلی نہیں لاسکتا ۔
بچوں کو ہم اِس ڈیجیٹل دور میں کنٹرول تو نہیں کیا جاسکتا بلکہ ہمیں بچوں کو میڈیا میں مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنا وقت غیر ضروری چیزوں کو پڑھ کر اور دیکھ کر ضائع نہ کردیں۔ اور کسی بھی ادارے اور ٹیچرز کیلئے ضروری یہ ہے کہ وہ بچوں کو علم کے ساتھ منسلک کریں ، نہ کہ سماجی میل جول کے سائٹ میں پڑھنے کیلئے اُن پر اِتنا بوجھ ڈالیں کہ وہ سیکھنے کے عمل کو بوجھ سمجھنا شروع کر دیں۔ اور یہ عمل بچوں کے نفسیات کے کم ازکم منافی ہے!اب بچوں کو وہ چیزین دینا چاہیے کہ وہ اُن کی ضرورت ہیں ، اور جو کچھ وہ پڑھنے کے بعد وہ بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ ایک طرف کتاب پڑھنے کا عندیہ اور دوسری طرف بچوں کو ڈیجیٹائیزڈdigitised ))کر نا ایک مفید حکمت عملی اور تجربہ نہیں ہے۔
اب دور کی ضرورت یہ ہے کہ خصوصاً ہمارے تعلیمی اداروں میں زور بچوں میں تنقید ی سوچ پید ا کرنے پر دینا چاہیے کیونکہ اب وہ طوطے کے طرح یاد کرنے ، پھر اِسے اُسی طرح پروڈیوس، اور لکھنے کا نام علم نہیں ۔ اور نہ چند چیزوں کو زبانی یاد کرنے کا نام ۔ نہ صرف ہمارے تعلیمی اِداروں بلکہ معاشرے کے بعض تعلیمی حلقوں میں بھی اِس سوچ کا فقداں ہے ، حالانکہ وہ اِ س سوچ کو معاشرے میں پیدا کرنے کیلئے رائے عامہ ہموار کر سکتے ہیں ۔ بچوں میں زباندانی کو مضبوط کرنا چاہیے، اور خصوصاً اُس زبان کو جوکہ تعلیم کی بین الاقوامی ضروریات کو پورا کرسکے، کیونکہ گلوبل سٹیزن شپ کیلئے بنیادی لوازمات میں بین الاقوامی زبان اور بین الاقوامی اخلاقیات کو سیکھنا ہوگا۔ بین الاقوامی اخلاقیات سے میری مراد وہ عالمگیر اخلاقی اُصول جوکہ ہر معاشرے میں اُن کی پیروی کی جاتی ہے۔
چترال کے تناظر میں پبلک اور پرائیوٹ سیکٹرمیں تعلیمی شعبے میں پڑھانے اور انتظامی امور سے جو حضرات منسلک ہیں ، اُن کیلئے ضروری یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے لیول پر اپنا کردار ادا کریں تاکہ بچوں میں موجودہ دور کے مطابق تیار کیاجائے تاکہ تعلیم پیدا ہونے والی سوچ یعنی تنقیدی سوچ عملی میدان میں اُن کا کام آئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

إغلاق