fbpx
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیمضامین

داد بیداد…..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

…….ثقافت اور اقلیتوں کا مسئلہ……..

امیر حیدر خان ہوتی نے 7سال پہلے خیبر پختونخوا میں ثقافت کا محکمہ قائم کیا۔ اس کے لئے 25اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کیا اور صوبے کے مشہور دانشور ڈاکٹر اعظم خان اعظم مرحوم کو اس کا مشیر مقرر کیا۔ پروفیسر اباسین یوسفزئی، پروفیسر ناصر علی سید اور ڈاکٹر نذیر تبسم اس کے لئے پس منظر میں رہ کر کام کرتے تھے۔ 2010ء سے 2012تک محکمہ ثقافت نے اہم کتابیں شائع کیں۔ نمایاں اور مستحق شاعروں، فنکاروں اور ثقافتی شخصیات کو اعزازیہ جاری کر کے اچھی مثال قائم کی۔ 2013ء کے بعد صوبے کا محکمہ ثقافت ہوا میں معلق ہوگیا۔ اب تک ہوامیں معلق ہے۔ گزشتہ ہفتے دوسری بار صوبے کے مختلف اٖضلاع سے تعلق رکھنے والے شعراء ، ادیبوں اور فنکاروں کو وظائف دینے کی تقریب کا حال اخبارات میںآیا تو معلوم ہوا کہ محکمہ ثقافت صوبے کے ثقافتی ورثہ سے بے خبر ہو گیاہے۔ محکمہ کا رابطہ نہ صوبائی اسمبلی کے اراکین سے ہے۔ نہ صوبے کی ثقافتی انجمنوں سے اسکا رابطہ ہے۔ نہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنروں سے اس کا رابطہ ہے اور نہ ہی مئی 2015ء میں منتخب ہونے والی ضلعی سطح پر لوکل گورنمنٹ کے نمائندوں سے اسکا رابطہ ہے ۔ محکمہ ہوامیں معلق ہے۔ اس لئے اس محکمے کو یہ بھی علم نہیں کہ مردان، ڈیرہ اسماعیل خان، سوات اور ایبٹ آباد یا چترال میں معذور، بیمار اور بڑھاپے کی بیماریوں میں مبتلا کتنے ادیب، شعراء اور فنکار حکومت کی سرپرستی کے مستحق ہیں۔ محکمہ ثقافت کو یہ بھی علم نہیں کہ چترال میں ڈپٹی کمشنروں کے دفتر سے ایک فرلانگ اور فوزیہ بی بی ایم پی اے کے گھر سے 100گز کے فاصلے پر مشہور شاعر، موسیقار اور فنکار مبارک خان مبارک پار کنسنرز کی بیماری میں صاحب فراش ہے۔ ان کے کلام کا مجموعہ غزنیہ شائع ہو چکا ہے۔ریڈیو پاکستان سے ان کے سینکڑوں گیت، نغمے اور نظمیں نشر ہو تی ہیں۔ اگر ڈاکٹر اعظم خان اعظم مرحوم اور پروفیسر اباسین یوسفزئی، پروفیسر ناصر علی سید، ڈاکٹر نذیر تبسم جیسے بلند قامت دانشوروں کی مشاورت شامل ہوتی تو ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کے لئے وظائف کا اجراء کرنے سے پہلے اضلاع کی سطح پر سروے کرایا جاتا۔ ڈپٹی کمشنروں کی رائے لی جاتی۔ متعلقہ ضلع کے ایم پی ایز کی آراء سے استفادہ کیا جاتا۔ لوکل گورنمنٹ کے منتخب نمائندوں سے مشاورت کی جاتی۔ اضلاع کی سطح پر قائم ادبی اور ثقافتی تنظیموں کو اعتماد میں لیا جاتا۔ یہ مشکل کام نہیں تھا۔ محکمہ ثقافت نے مئی 2015ء میں اشتہار دیا تھا ۔فارم جمع کئے گئے تھے۔ ستمبر یا اکتوبر تک نمایاں ادبی اور ثقافتی شخصیات کے ساتھ بیمار، معذور اور مستحق فنکاروں، شاعروں کی فہرست آسانی سے مرتب ہو سکتی تھی۔ متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے اس فہرست کی تصدیق کرائی جا سکتی تھی۔ متعلقہ ضلع کے ایم پی ایز کے ذریعے اس کی تصدیق کرائی جا سکتی تھی۔ سب سے بڑا مسئلہ لسانی اقلیتوں کا ہے۔ کوہستان، سوات، دیر اور چترال میں 27لسانی اقلیتوں کے شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے۔ 400شاعر، ادیب اور فنکار چترال کے ضلع میں رہتے ہیں۔ ان میں سے 122فنکاروں کا تعلق کالاش اقلیت سے ہے۔ اگرچہ چترال کے 3شاعروں اور 2فنکاروں کو وظیفہ جاری کیا گیا ہے۔ مگر یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ بھی نہیں ہے۔ صوبائی حکومت نے ستمبر 2015 سے جولائی 2016تک ایک ہزار شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں کو وظائف جاری کئے۔ ان میں 10فیصد کے حسا ب سے بھی صوبے کے لسانی اقلیتی گروہوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں اور شاعروں کو کم از کم 100وظائف ملنے چاہیئے تھے۔ ایک فیصد کے حساب سے بھی کم از کم 10وظائف ملنا ان کا حق بنتا تھا۔ مثال کے طور پر کوستان، سوات، دیر اور چترال میں تعلیم خان، مبارک خان، ناجی خان ناجی، محمد حسن، مولا نگاہ، امین الرحمن چغتائی، جاوید اکرم فراق، تاج محمد فگار، فضل الرحمن شاہد، رحمت ملنگ، اقبال الدین سحر، اقبال حیات، منور شاہ رنگین اور حمید خان استاذ کی طرح معمر، سینئر اور مختلف بیماریوں میں مبتلا فنکاروں، شاعروں اور ادیبوں کی تعداد 200سے زیادہ ہے۔ 2010ء سے 2012ء تک اس طرح کے سینئر ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کو ان کی عمر کے حساب سے احترام کا لائق گردانتے ہوئے پھولوں کے گلدستہ کے ساتھ اعزازیہ کی رقم ڈپٹی کمشنر کی وساطت سے پیش کی جاتی تھی یا ادبی و ثقافتی تنظیموں کے ذریعے 60سال سے زائد عمر کے فنکاروں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ اُس وقت محکمہ ثقافت کے پاؤں زمین پر تھے۔ یہ محکمہ ہوا میں معلق نہیں ہوا تھا۔ تحقیق اور تفتیش کے بعد کسی کو اس کی خدمات کے لئے اور کسی کو اس کی بیماری یا معذوری کے لئے حوصلہ افزائی کے قابل قرار دیتا تھا۔ سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ کالاش اقلیت مشہور ہے۔ پاکستان کا ثقافتی ورثہ ہے۔ بلاوشٹ بی بی، ایران بی بی اور قدیرک خان کی طرح مشہور فنکار کالاش وادیوں میں رہتے ہیں۔ ان میں 20سے زیادہ خواتین فنکارائیں 60سال سے اوپر کی عمر میں ہیں۔ قدیرک خان کی طرح 15بڑے فنکار 70سال سے بڑی عمر کے ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی اور پذیرائی اس لئے نہیں ہوئی کہ محکمہ ثقافت کے حکام نے چترال کے جعرافیہ، اسکی تاریخ اور ثقافت سے معمولی واقفیت رکھنے والے کسی آفیسر یا دانشور کی رائے نہیں لی۔ منتخب نمائندوں کی رائے نہیں لی۔ ضلعی انتظامیہ کی رائے نہیں لی۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت میں عمران خان نے لسانی اقلیتوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ تو آگے جا کرکون انصاف کرے گا۔ چلیئے ہم مان لیتے ہیں۔ انصاف ممکن نہیں ہے۔ کم از کم امیر حیدر خان ہوتی کے دور حکومت کی مثال کو سامنے رکھ کرسینئر شاعروں اور بیمار فنکاروں کی حوصلہ افزائی ضرور ممکن ہے۔ لسانی اقلیتوں کے ساتھ انصاف کا یہ کم سے کم تقاضا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق