fbpx

ایک جانا پہچانا نام موت کی آغوش میں

…….فراز خان چرون……

زندگی فانی ہے اور موت یقینی ہے اگر ایسا ہے تو ہمیں بھی ایک نہ ایک دن اس دنیا کو الوداع کہنا پڑے گاااور اپنے چاہنے والوں سے جدا ہونا پڑے گا البتہ جدائی اور جدائی میں فرق ہوتا ہے ۔ بعض ہم سے جدا ہونے وا لوں کے چاہنے والے کم اور آنسو بہانے والے بھی کم ہوتے ہیں جبکہ بعض کے چاہنے والے زیادہ اور وفا کے آنسو بہانے والے بھی زیادہ ہوتے ہیں جہاں تک میرا خیال ہے کہ جدائی سے قبل ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے کاش ایسی جانوں کی قدر جدائی سے پہلے ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا بحر حال آج مجھے جس عظیم شخص کی جدائی پر قلم کا سہارا لینا پڑا وہ عظیم انسان آج سے تقریبا پچھاسی سال قبل علاقہ موڑکہو کے ایک زرخیز نگری موردیر کے ایک خوشحال گھرانے میں آنکھ کھولی اور اس کی تربیت باصلاحیت والدین کے شفقت کے سائے میں ہوئی۔ مثبت تربیت کا اثر رنگ لائی اور ہونہار بچے کی نشوونما آگے چل کر والدین کی نیک نامی کا باعث بنا اور والدین کی یہ کوشش بھی قابل تعریف ہے کہ اپنے بچے کو بنیادی علم سے سرفراز فرمایا جسکی بدولت زندگی کے ہر موڑ میں کامیابی آپ کے قدموں کو چھومتے رہے انہوں نے اپنی کیرئیر کا آغاز فوجی ملازمت سے کیا ۔ اپنی خداداد صلاحیت اور فرض شناسی کی وجہ سے ملازمت کے دوران بڑا نام پیدا کیا اور ترقی کرتے ہوئے صوبیدار کے عہدے پر فائز ہوئے اور باعزت ملازمت کے ایام گزارنے کے بعد فوجی ملازمت سے دستبردار ہو گئے ۔ واپس اپنے علاقے میں اکر سماجی کارکن کی حیثیت سے لوگوں کی خبر گری اور بے سہارا لوگوں کی مدد کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سب کے دلوں میں اپنے لیے حصہ بنا ڈالا ۔سال ۱۹۸۸ کو پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے آ پ کو ٹکٹ ملا اور عوام کے ساتھ بے پناہ محبت رنگ لائی اور صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ اس دور ان فلاحی اور ترقیاتی کاموں کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں کو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے میں مدد کی جس کی وجہ سے آج وہ خاندان ہر حوالے سے خوشحال اور خود کفیل ہیں۔اس کے علاو ہ ریجنل کونسل کے پریزیڈنٹ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیتے رہے اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار رہے۔وہ عظیم شخص جس کی جدائی پرآنسو بہانے والے زیادہ جاننے والے زیادہ اور چاہنے والا بھی زیادہ ہیں اس انسان دوست ، ہمدرد، باوفا اور نرم مزاج شخصیت کا نام مرحوم زین العابدین سابق ایم پی اے چترال ہے جو کہ چند دن قبل لاہور میں واک کرنے کی غرض سے گھر سے نکلا اور حادثے کی زد میںآکر کومہ میں چلے گئے دیکھنے سے یوں لگتا تھا کہ وہ دنیا والوں سے خفا ہے اور اسی طرح مسلسل پندرہ دنوں سے زائد آنکھ کھولے بغیر اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کراپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ قالو اناللہ انا الیہ راجعوں۔

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب قیامت کا بھی ہو گا کو ئی دن اور

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق