Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

دیر والے ہر انفرادی تنازعے کو قومی مسئلہ بناکر چترال اور دیر کے درمیان تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں ۔عوامی حلقے

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال کے عوامی حلقوں نے دیر میں مظاہرہ کرکے چترال کے لوگوں کو متعصب قرار دینے اور اشیاء خوردونوش کی ترسیل بند کرنے کی دھمکی پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ ایک حادثاتی واقعے کو دیر کے چند افراد اچھال کر چترال اور دیر کے عوام کو لڑانا چاہتے ہیں ۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ مختلف طبقہ فکر کے لوگوں نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ مشین چڑھائی میں ٹرک حادثے کی وجہ سے جو جانی اور مالی نقصان ہوا ، اُس کے لئے چترال کے تمام لوگوں کو متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی ہے ۔ اور اگر چترال کا کوئی فرد اس واقعے میں دانستہ طور پر ملوث ہے ۔ تو اُس کو قانون کے کٹہرے میں لا کر ضرور سزادی جانی چاہیے ۔ لیکن یہ بات باعث تعجب ہے ۔ کہ دیر والے ہر انفرادی تنازعے کو قومی مسئلہ بناکر چترال اور دیر کے درمیان تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں ۔ جو کہ ایک غیر سنجیدہ فعل ہے ۔ چترال اور دیر کے لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے مدد گار اور رشتوں میں پیروئے ہوئے ہیں ۔ جن کے کاروباری مراسم بھی بہت مضبوط ہیں ۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے ایک لابی انفرادی تنازعات کو ہوادے کر دیر اور چترال کے لوگوں کو لڑانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اور دیر میں حالیہ احتجاجی مظاہرہ اور اخباری بیانات بھی اس سلسلے کی کڑی ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ دیر والوں کی یہ بات بالکل بے بنیاد ہے ۔ کہ چترال کے لوگ دیر والوں کے ساتھ کاروباری رقابت یا تعصب رکھتے ہیں ۔ کیونکہ چترال کے لوگ بڑے دل والے ہیں انہوں نے نہ صرف اپنے ہمسایہ دیر کے بھائیوں کو چترال میں اپنی آنکھوں پر بیٹھایا ۔ بلکہ مہمند ، باجوڑ اور دیگر ایجنسی کے لوگوں کو بھی اپنے دل میں جگہ دی ،۔ آج چترال میں تمام کاروبار ان ہی افراد کے ہاتھوں میں ہیں ۔ اور چترال کے لوگوں نے ہمیشہ اُنہیں محبت اور احترام کی نظر سے دیکھا ہے ۔ عوامی حلقوں نے دیر والوں کی طرف سے اشیاء خوردو نوش بند کرنے کی دھمکی کو شدت پسندی سے تعبیرکرتے ہوئے اسے حکومتی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔کہ ایسے لوگوں سے نمٹنا حکومت کا کام ہے۔ جو ایک بڑے ضلع کے اشیاء خوردونوش کو بند کرنا چاہتے ہیں ۔ تاہم ایسی صورت میں بھی زیادہ نقصان دیر والوں کو ہو گا ۔ اور دیر کے باشعور لوگ اپنے پاؤں آپ کلہاڑی مارنے کیلئے ہر گز تیار نہیں ہوں گے ۔ اور نہ شدت پسند ذہنیت کے مالک چند لوگوں کی اس بات سے اتفاق کریں گے ،کہ چترال اور دیر کے صدیوں پر محیط رشتوں کو ایک انفرادی تنازعے کی بھینٹ چڑھایا جائے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔