Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

داد بیداد ……افسروں کے درمیان رسّہ کشی

…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ….

پشاور کے سول سیکریٹر یٹ میں ایک ہفتہ گزارنے والا صوبے کے مستقبل سے ما یو س ہو جاتا ہے ۔سیاسی قیادت سے ما یو سی کا اظہار کر تا ہے۔ صوبے کے افیسروں کی ہڑتال تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئی۔ صو بائی اسمبلی میں سرداربا بک کی طرف سے سوال اٹھا نے کے بعد کا بینہ کی 4 رکنی ٹیم نے ہڑتالی افیسروں سے تفصیلی مذا کر ات کئے ۔اگلے دو چار دنوں میں اس پر کو ئی فیصلہ سا منے آئے گا ۔مسئلہ سیدھا سا دہ سا ہے ۔قیام پا کستان سے اب تک 68 سال ہو گئے ۔ہر صو بے میں افیسروں کے دو کیڈر ہیں ۔و فا قی کیڈر اور صوبا ئی کیڈر کے درمیان قا نون کے مطا بق کو ٹہ مقرر ہے ۔اٹھا رویں تر میم کے بعد اختیارات صوبوں کے پاس آگئے ۔نئے رو لز آف بزنس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ جنرل مشرف نے اٹھارویں تر میم سے پہلے اس ضرورت کو محسوس کیا تھا۔ انہوں نے سرو سنرریفارمز کے لئے سٹیٹ بینک کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا تھا۔ اس کمیشن نے تفصیلی رپورٹ مر تب کی ہے اور رپورٹ کے بعض حصوں پر عملدرآمد بھی ہوا ہے۔ اٹھارویں آئنی تر میم کے بعد ایک دلچسپ مرحلہ ایسا بھی آیا جب وفاقی کیڈر کے افسر وں کی سربراہی خیبرپختونخوا کے موجودہ چیف سیکرٹری امجد علی خان کے پاس تھی ۔صوبائی کیڈر کے افسروں کی سربراہی کا فریضہ ایک اور پختون افسر خالد خان عمر زئی کے پاس تھی۔موجودہ حا لات میں دونوں کیڈر کے افسرو ں کے درمیان رسہ کشی کا بنیادی نکتہ اٹھارویں ترمیم ہے ۔اس تر میم کے تحت کنکرنٹ لسٹ کو ختم کیا گیا۔ صوبوں کو خود مختار ی دیدی گئی۔صو بائی کیڈر کے درمیان پھیلی ہوئی بے چینی کی فوری وجوہات پانچ ہیں۔پہلی وجہ یہ ہے کہ ایکس کیڈر کو باہر سے لا کر صوبائی کیڈر کی آسامیوں پر تعینات کیا گیا ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کی انڈکشن کے نام پر سیاستدانوں نے اپنے قریبی عزیزوں اور رشتہ داروں کو ایکس کیڈر سے بھی اوپر لے جا کر صوبائی کیڈر میں بٹھا دیا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ صوبائی کیڈر کے کوٹے میں اضافہ کی جو تجاویز منظور ہوئی تھیں ان کو روبہ عمل نہیں لایا گیا۔چوتھی وجہ یہ ہے کہ صوبائی کیڈرکے کوٹے میں اضافہ کی تجویز کو زیر عور نہیں لا یا گیا۔ پانچویں وجہ یہ ہے کہ کوٹے کی اسامیوں میں سے بھی صوبائی کیڈر کو کھڈے لائن والی آسامی دیکر اہم پوسٹیں وفاقی کیڈر کو دی گئی ہیں۔ان مسائل پر گفت وشنیدکی جگہ چیف سیکرٹری کو فریق کی حیثیت دی گئی ہے ۔چنا چہ اس بنا ء پر رسہ کشی میں اضافہ ہوا ہے اور کا بینہ کی ٹیم کے سا تھ مذاکرات میں صوبائی کیڈر کے افسروں نے اپنے نما ئندہ عبد اللہ محسود کے ذریعے سخت مو قف اپنا یا ہے ۔ آفتاب شیر پاؤ ،ارباب جہا نگیر، لیفٹیننٹ جنرل فضل حق ،لیفٹیننٹ جنرل افتخار حسین شاہ،محمد اکرم خان درانی اور امیر حیدر خان ہو تی جب حکو مت میں ہوتے تھے تو دفتری امور پر کا مل دسترس رکھتے تھے ۔ فائل ورک میں دلچسپی لیتے تھے۔افیسروں کے ساتھ گرم جو شی ،احترام اور با ہمی تعاون کا رویہ رکھتے تھے ۔ چھوٹی مو ٹی تلخیوں کے با وجود دفتری امور میں رخنہ نہیں آتا تھا ۔سرکاری کام بروقت انجام پاتے تھے ۔افیسروں کے ہڑتال کی نو بت نہیںآتی تھی ۔گو رننس اور سروس ڈیلوری میں اگر اسمبلی یا مقننہ کو ستون کا درجہ دیا جا تا ہے تو افسر شاہی کو ریڑ ھ کی ہڈی کا درجہ حاصل ہے۔ افسر شاہی کو ساتھ لئے بغیر کو ئی بھی حکومت عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتر سکتی ۔یہ وہ نکتہ ہے جو فوجی حکام بھی جانتے ہیں۔جمہوری حکمران بھی اس راز سے بخوبی واقف ہیں ۔ہمارے ادبیات میں جسٹس رستم کیانی اور قدرت اللہ شہاب کی یاد داشتوں کو افسر شاہی کی ڈائیری کا درجہ حاصل ہے ۔فیلڈ مارشل ایوب خان کی ڈائری شائع ہو ئی ہے ۔اس میں بھی افسر شاہی کی چیدہ چیدہ عادات و اطوار کاذکر آیا ہے ۔وفاقی کیڈر کو قیام پا کستا ن سے پہلے آئی سی ایس کہا جاتا تھا ۔قیام پاکستان کے بعد اسے سی ایس ایس یعنی سول سروس آف پا کستان کا سروس کا نام دیا گیا۔ 1970کے عشرے میں سی ایس ایس ،سنٹرل سپیرئیر سروس اور ضلعی انتظا میہ کی انتظامی اسامیوں پر آنے والوں کو ڈی ایم جی یعنی ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے نام سے پکا را گیا ۔اٹھا رویں ترمیم کے بعد اس کا نام پی اے ایس یعنی پا کستان ایڈ منسٹر یٹیو سروس رکھ دیا گیا ۔نا قدین کہتے ہیں کہ نام جب بدنام ہو تا ہے تو دوسرا نام رکھ دیا جاتا ہے تاکہ تازہ دم ہو کر آگے بڑھنے میں آسانی ہو ۔اگر نا قدین کی اس بات کو وزن دی جائے تو یہ بات صوبائی کیڈر پر بھی صادق آتی ہے ۔پہلے اس کیڈر کا نام پی سی ایس یعنی پر اونشل سول سروس تھا ۔پھر اس کو بدل کر پی ایم ایس یعنی پراونشل مینجمنٹ سروس رکھ دیا گیا ۔ڈی ایم جی کے مشہور اور دبنگ آفیسر ،سا بق چیف سیکریٹری عبد اللہ نے ما ہر ین کی ٹیم کو لیکر پی ایم ایس کے لئے مقابلے کے امتحان کا نصاب متعین کیا اور افیسروں کے انتخاب کا معیار وفاقی کیڈر کے برابر لانے کی کا میاب کو شش کی ۔وفاقی کیڈر کے افیسرز ہوںیا صوبائی کیڈر کے افیسرز ہوں۔ دونوں پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ لوگ ہیں ۔دونوں نے ملک اور قوم کی خدمت کی ہے اور دونوں سے ان کی اعلیٰ ترین صلا حیتوں کے مطابق کام لینا سیاسی قیادت کا کام ہے ۔اب ہر کام میں کور کمانڈر یا چیف جسٹس کو مدا خلت کی دعوت نہیں دی جا سکتی۔ صوبائی اسمبلی کا سپیکر بھی اس سلسلے میں مو ثر کردار ادا کر سکتا ہے ۔صوبائی گورنر بھی اس معاملے کو سلجھانے میں اپنے آئنی حدود کے اندر کام کر سکتا ہے ۔صوبائی چیف ایگز یکٹیو اگر چاہے تو مسا ئل کو حل کر سکتا ہے ۔ا فیسروں کے دو گروپوں کے درمیاں رسہ کشی کا براہ راست نقصان عوام کو ہو گا ۔دو ملاؤں کی مر غی حرام ہو تی ہے تو دو افیسروں کے جھگڑے میں مفا دعامہ متا ثر ہو تا ہے ۔انگر یزی میں گڈ سینس کی تر کیب ایسے موا قع پر استعمال ہو تی ہے ۔افیسروں کے درمیان پائی جانے والی بے چینی کی 5 وجو ہات بڑے واضح ہیں ۔ ان کا ازالہ بھی مشکل نہیں۔صرف قوت فیصلہ کی ضرورت ہے ۔سیا سی قیادت کو بالغ نظری کا مظا ہرہ کر کے افیسروں کے درمیان پائی جانے والی بے چینی کو دور کر نا ہو گا ۔بقول غالب:
تھی جن سے تو قع داد خستگی کی پانے کی
وہ ہم سے زیادہ خستہ تیع ستم نکلے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔