داد بیداد……لندنی حکمرانی کے سلسلے – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | مضامین | ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی | داد بیداد……لندنی حکمرانی کے سلسلے

داد بیداد……لندنی حکمرانی کے سلسلے

…….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ…..

پیر 30مئی کے روز وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے لندن سے ویڈیو لنک پر کابینہ کے اجلاس اور اقتصادی کونسل کی میٹنگ سے خطاب کیا۔ اگلے سال کے قومی بجٹ اور ملکی معیشت کے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔ یہ ٹیکنالوجی کا اعجاز ہے کہ وزیر اعظم ملک سے ہزاروں کلو میٹر دور ہوتے ہوئے بھی اس قدر اہم اجلاسوں کی صدارت کر سکتا ہے۔ اجلاسوں سے خطاب کر سکتا ہے۔ 1947ء سے پہلے جب ملک پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ بادشاہ، ملکہ اور وزیر اعظم کو یہ سہولت حاصل نہیں تھی۔ انہوں نے یہاں وائسرائے مقرر کیا تھا جو حکمران کا جانشین تصور کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دور حکومت میں راجہ پرویز اشرف کی کابینہ میں چوہدری پرویز الٰہی کو ڈپٹی وزیر اعظم بنایا گیا تھا۔ تاکہ وزیر اعظم کی غیر موجودگی میں وہ کابینہ کے اجلاسوں کی صدارت کر سکے اور اہم قومی امور کے فیصلے متاثر نہ ہوں۔ یہ الگ بات ہے کہ راجہ پرویز اشرف طویل رخصت پر لندن نہیں گئے اور چوہدری پرویز الٰہی کے حصے میں کابینہ اجلاس کی صدار ت نہیں آئی۔ سچ پوچھیئے تو لندن میں بیٹھ کر کابینہ کے اجلاس کی صدارت کا شرف جنرل مشرف کی وجہ سے ہمارے محبوب وزیر اعظم کو حاصل ہوا ہے۔ مشرف اگر اللہ کے فضل و کرم سے ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ترقی نہ دیتے تو آج بھی پاکستان میں یہ سہولت دستیاب نہ ہوتی۔ کراچی اور حیدر آباد کے لندنی حکمران الطاف حسین کے بھی ہم شکر گزار ہیں جنہوں نے چار کروڑ روپے کے خرچ سے 2گھنٹے یا 3گھنٹے لندن میں اپنی کرسی پر بار بار پہلو بدلتے اور الفاظ کو چباتے ہوئے ویڈیو لنک پر جلسوں سے خطاب کی مہنگی رسم جاری کر دی۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل پر دھا ڑیں ما رکر رونے کا منظر بھی الطاف حسین کے لندن والے محل سے براہ راست دیکھنے کی سعادت بھی ہمیں حاصل ہو ئی ۔اگر چہ خرابی صحت کی بنا ء پر الطاف حسین بھا ئی اب اس طر ح کے پر جو ش خطاب کی سکت نہیں رکھتے ۔تا ہم ہماری خو ش قسمتی ہے کہ ہما رے محبوب وزیر اعظم نے لندنی حکمرانی کے سلسلے کو ٹو ٹنے نہ دیا ۔بلکہ اس سلسلہ عالیہ میں انہوں نے الطاف بھا ئی کے دست زبردست پر بیعت کر نے کا دہراشرف حا صل کیا
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ
پا کستان کے ذرائع ابلاغ میں وزیر اعظم کی طو یل رخصت پر تین پہلووں سے بات ہو رہی ہے ۔پہلی بات یہ ہے کہ لندن جا نے سے پہلے کا بینہ کے اجلاس اور قومی اقتصادی کو نسل کی میٹنگ سے خطاب کر تے تو اس میں کو ئی قبا حت نہ ہو تی ۔لندن سے اسلام آباد رابط کر نے کے لئے ویڈیو لنک استعمال کر نے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ دوسری بات یہ کہ اپنی جگہ مریم نواز یا حمزہ شہباز یا کیپٹن صفدر میں سے کسی کو نائب وزیر اعظم یا جانشین مقرر کر کے جاتے تو وزیر اعظم کی طویل غیر حاضری اور قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران حکمران جماعت کو رسمی کاروائیاں نمٹانے میں کسی مشکل کا سامنا نہ ہوتا۔ تیسری بات یہ ہے کہ دل کے علاج کا سب سے بڑا ہسپتال لاہورمیں ہے۔ دوسرا ہسپتال راولپنڈی میں ہے۔ ڈاکٹر ز ہاسپٹل اور آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں دل کے علاج کی بہترین سہولیات دستیاب ہونے کے باوجود طویل رخصت پر جانے کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہیئے تھی ۔ وزیر اعظم کے مخالفین میں سے کچھ تنگ نظر لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ کابینہ کے اجلاس 7ماہ بعد بھی منعقد ہوں تب بھی فرق نہیں پڑتا ۔ وزیر اعظم 7ماہ پارلیمنٹ میں قدم نہ رکھیں تب بھی قائد ایوان کی کمی محسوس نہیں ہوتی۔ ایسے حالات میں اس قسم کے تکلف کی کیا ضرورت تھی؟ اتفاق سے 30مئی کے اخبارات میں ہمارے وزیر اعظم کی خبر کے ساتھ ترکی کے نئے وزیر اعظم بینالی یلدرم کی خبر بھی لگی ہے۔ جنہوں نے سابق وزیر اعظم داؤد اوغلو کی جگہ قائد ایوان منتخب ہونے کے بعد پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔ ہمارے وزیر اعظم کو ترکی کا میٹرو بس بہت اچھا لگتا ہے۔ ترکی کے اقتصادی اور تجارتی کام بھی اچھتے لگتے ہیں۔ ترکی کا سیاسی نظام اچھا نہیں لگتا ہے۔ جہاں ضرورت کے وقت صدارتی نظام بھی لایا جا سکتا ہے۔ جہاں 51فیصد سے کم ووٹ لینے والا سیاستدان کسی بھی عہدے کے لئے منتخب نہیں ہو سکتا اور جہاں ایوان کے اندر ایک وزیر اعظم کی جگہ دوسرا وزیر اعظم لانے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ اللہ کرے وزیر اعظم کے دل کا آپریشن کامیاب ہو اور لندن کے ڈاکٹروں کی ٹیم ہمارے وزیر اعظم کے سینے میں پتھرکے دل کی جگہ موم کا دل رکھ دیں۔ گردن سے سریا نکال دیں اور ڈیوڈ کیمرون کی طرح نرم و گداز دل والا وزیر اعظم ہمیں دے دیں۔ جو لندن شہر پر صادق خان کی حکمرانی کو دل سے قبول کرتا ہے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو اور ہمارا محبوب قائد دو تین ہفتوں کے بعد صحت یاب ہو کر ڈاکٹروں کی طبی ہدایات کے مطابق وطن واپس لوٹے ۔اللہ کرے وزیر اعظم کے سینے میں ایسا دل رکھ دیں جس میں عوام کے لئے، غریبوں اور بے روزگاروں کے لئے، مظلوموں اور مجبوروں کے لئے نرم گوشہ ہو۔ غالب نے ڈیڑھ سو سال پہلے اپنے دل کے معالج پر فخر کرتے ہوئے کہا تھا۔
تم ہو شہر میں تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جاکر دل و جاں اور
اب جب کہ وزیر اعظم کا علاج لند ن ہی میں ہونا ٹھر گیا ہے۔ مجھے کابینہ کے دو خوجوں سے گہری ہمدردی پیدا ہو گئی ہے۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف جنرل مشرف پر طنز کے تیر برساتے تھے۔ سابق صدر آصف زرداری اور شعلہ بیان مقرر طاہر القادری کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے کہ ملک کے اندر علاج کیوں نہیں کرتے؟ زکام لگ جائے تو دوبئی، لندن اور امریکہ کیوں جاتے ہیں؟ خصوصاً جنرل پرویز مشرف کی بیماری پر انہیں بڑا اعتراض تھا۔ اب صورت حال بدل گئی ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی بیمار پرسی کے لئے لندن کے ویزے لگوائے اور ٹکٹ کٹوائے جا رہے ہیں۔ اللہ کے فضل و کرم سے آپریشن کے بعد صحت یاب ہوں گے تو مبارک سلامت کی صدائیں گونجیں گی۔ ہمارے کئی دوست اس فن میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ ان کا بیان اخبار نویسوں کے پاس بنا بنایا موجود ہوتا ہے۔ بیان کا متن ایک ہی ہے۔ موقع محل اور ضرورت کے تحت صحت یاب یا کامیاب ہونے والے نام اس میں ڈال کر بیان کو موصوف کی تصویر کے ساتھ اخبار میں لگایا جاتا ہے۔ بیان کا متن سدا بہار قسم کا ہے۔ ہر ایک پر فِٹ آتا ہے۔ مثلاً گدا گر ویلفیئر ایسو سیشن کے صدر ممتاز سماجی کارکن اور اہم قومی شخصیت فلانہ خان نے تیس مار خان کو قوم کا اثاثہ قرار دیا ہے اور ان کی صحت یابی پر پوری قوم کو مبارک باد دی ہے۔ اگلے ماہ سے وزیر اعظم کے لئے اس قسم کے تہنیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔ اگر الطاف حسین کی بیماری کو بھی شمار کر لیا جائے تو وزیر اعظم پانچویں سیاستدان ہیں جو بیمار ہو کر لندن کو سدھار رہے ہیں۔ اگر میر تقی میر زندہ ہوتے تو مایوسی کے عالم میں یہی کہتے
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں نہ کچھ دوا نے کام کیا
دیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

داد بید اد…..اسلحہ کی حکمرانی 

سویڈن کے ایک ادارے نے تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔