Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

محکمہ پیڈوچترال میں ناکارہ بجلی گھروں پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کریں۔ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کا پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخار الدین نے چترال میں گزشتہ سال سیلا ب سے متاثرہونے والے انفراسٹرکچرز میں سے دو فیصد کی بحالی میں بھی ناکامی پر صوبائی حکومت کو سخت ہدف کا تنقید بناتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ اگر یہی صورت حال جاری رہی تو آنے والے موسم برسات میں چترال میں انسانی المیہ رونما ہونے اور امن وامان کا تشویش ناک صورت حال پید ا ہونا یقینی امر ہے جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ہوگی۔ پیر کے روز چترال پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ محکمہ پیڈوچترال میں ناکارہ بجلی گھروں پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کریں اور چترال کے لوگوں کو بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ عذاب سے نجات دلائے۔اور کم وولٹیج کا مسئلہ جو کہ کئی مہینوں سے جاری ہے فوری طورپر حل کیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ نہایت ہی افسوس کی بات ہے کہ ریشن پاؤر ہاؤس پر 11مہینے گذرنے کے باوجود بھی بحالی کا کام شروع نہ کیا جاسکا۔جوکہ صوبائی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے کہا کہ اپر چترال میں کوشٹ، موژگول، رائین، نشکو ، موردیر کے مقامات پر جیپ ایبل پل گزشتہ سال کے سیلاب میں یا تو مکمل طور پر بہہ گئے تھے یا ناقابل استعمال ہوچکے ہیں کالاش ویلی دوباژ پل بھی کسی بھی وقت دریا برد ہونے کا خطرہ موجود ہے لیکن صوبائی حکومت نے ابھی تک ایک پائی بھی ان پر خرچ نہیں کی اور ابھی موسم برسات کی دوبارہ آمد آمد ہے جس کے بعد کئی وادیوں کے لوگ گزشتہ سال کی طرح کئی ماہ تک اپنی وادیوں میں محصور ہوکر رہ جائیں گے اور اشیائے خوردونوش کی رسد نہ ہونے کی وجہ سے فاقوں کی نوبت بھی پڑ سکتی ہے جس سے غذائی قلت کی وجہ سے کئی اموات ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال چترال کے کوراغ کے مقام پر وزیر اعظم نے تو اپنے وعدے کے مطابق اپنے اعلان کردہ پچاس کروڑ روپے انفراسٹرکچرز کی بحالی کے لئے فراہم کردئیے لیکن صوبائی حکومت نے اپنا وعدہ اور ذمہ داری نبھانے میں بری طرح ناکام رہی ۔ شہزادہ افتخار نے کہا کہ گرم چشمہ، بمبوریت ، تورکھو، موڑکھو، شیشی کوہ ، بیوڑی اور کریم آباد روڈز بھی سیلاب سے متاثر ہوچکے ہیں اور ان کی بحالی کی مد میں صوبائی حکومت نے ابھی تک سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے صرف سات کروڑ روپے ریلیز کی ہے جوکہ شرمناک بات ہے جبکہ ضرورت اربوں میں ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی وعدوں کی ایفاکرنے پر وزیر اعظم نواز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ چکدرہ چترال روڈ کے لئے فنڈز ریلیز کرکے نہ صرف چترال بلکہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا دل جیت لیا ہے۔ ایم این اے چترال نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا اپنے متعلق ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ صوبائی حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے اپنا کردار ادا کریں اور خاموش تماشائی بننے کی بجائے انفراسٹرکچروں کی بحالی کے لئے فنڈز ریلیز کرائیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔