صدابصحرا ……امریکہ اور پاک افغان ویزا – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | مضامین | ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی | صدابصحرا ……امریکہ اور پاک افغان ویزا

صدابصحرا ……امریکہ اور پاک افغان ویزا

………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ……
خبریں آرہی ہیں کہ امریکی حکومت پاکستان پر پاک افغان ویزے کی پابندی ختم کرنے اور دہشت گردوں کو آزادی کیساتھ ویزے کے بغیر ڈیورنڈلائن پر سفر کی کھلی اجازت دینے کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے ۔اندازہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کی واطن واپسی کے بعد اس سلسلے میں اہم فیصلہ کیا جائے گا۔اور دہشت گردوں کے لئے پاک افغان کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا جائے گا۔اعلان میں امریکی دباؤ کی جگہ پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات اور قبائلی عوام کے لئے سرحد پار آنے جانے کی سہولت کا ذکر ہوگا۔اور خیر سگالی کا لفظ استعمال کرکے اُمید کی جائے گی کہ دوسری طرف سے بھی اسی طرح خیر سگالی کا مظاہر ہ کیا جائے گا ۔اللہ کرے کہ یہ اندازہ غلط ثابت ہو ۔اور وزیر اعظم کی وطن واپسی کے بعد بھی حکومت بار ڈدر مینجمنٹ یعنی سرحدی نظم و نسق کے درست فیصلے پر ڈٹ جائے اور دشمنوں کے لئے اپنی سرحدنہ کھولے اللہ کرے ہماری حکومت 1978سے پہلے کی سرحدی پالیسی کا اطلاق افغان سرحدپر دوبارہ کرنے میں کامیاب ہوجائے اور اللہ کرے کہ ہماری حکومت اپنے ملک کی سلامتی پر جنرل ضیاء الحق کے دور کی طرح سودا بازی نہ کرے ۔محب وطن لوگ 1980 ؁ء کے عشرے میں بھی یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ پاک افغان سرحد کو سر بمہر کیا جائے اور افغانیوں کو مہاجر یا مجاہد کے روپ میں بغیر ہ ویزہ سر حد پار کر نے کی اجازت ہر گز نہ دی جائے اُس دور میں 40 لاکھ افغان مہاجرین کو امریکہ نے ایران بھیجا 70 لاکھ مہاجرین کو پاکستان بھیجا تھا ایران نے افغانیوں کو جنگی قیدیوں کی طرح ایک بیابان کے اندر خاردار تار نصب کر کے اس میں قید رکھا خاردار تاروں والی مہاجربستی کے اندر غیر ملکیوں کو زندگی کی سہولتیں دیں یو این ایچ سی آر کو بھی خاردار تارون کے اندر مہاجرین سے ملنے کی اجازت دی اور 1991 ؁ء میں سویت فور سز کے انخلاء کے بعد افغانی مہاجرین کو اُن کے کیمپ سے اُٹھا کر افغان سرحد پر افغانستان کے حکام کی تحویل میں دیدیا گیا ایک افغانی شہری بھی ایران میں نہ رہا ہمارے ہاں امریکہ نے افغانیون کو شہروں سے لیکر دیہات تک کھلی چھٹی دیدی ہمارے بازاروں میں ان کو دکانیں دی گئیں ہماری سڑکوں پر ان کی ٹرانسپورٹ سروس چلائی گئی ہمارے سکولوں اور مدرسوں میں ان کو داخلے دئیے گئے ہماری مسجدوں اور عبادت گاہوں میں ان کو امام اور خطیب مقر ر کیا گیا 1978 ؁ء سے 2016 ؁ء تک 42 سالوں میں ان کی پوری نسل یہاں اُٹھ کھڑی ہوئی ان کی اردو ، پنجابی ، ہندکو ، سرائیکی ، براہوی اور بلوچی پاکستان کے عوام کی طرح ہے ۔انٹیلی جنس اداروں اور قومی سلامتی کی ایجنسیوں کے لئے ان کو پہنچا ننا مشکل ہوگیا ہے ملا اختر منصور کے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ تھا جس میں اس کا نام ولی محمد درج تھا ایسی لاکھوں مثالیں ہیں جو پاکستان میں بھی اورپاکستان سے باہر بھی پکڑی گئی ہیں ۔42 سالوں کی جنگ میں امریکہ نے اپنے تمام مقاصد اور اہداف حاصل کر لئے افغانستان کے اہم مقامات کا کنٹرول بھارت کے ہاتھ میں دیدیا اور افغانستان سے دہشت گردی کو روس، چین ، عراق، شام ، یمن اور دیگر ممالک تک لے گیا پاکستان پر دہشت گرد حملوں کے سلسلے اب بھی جاری ہیں 42 سال بعد پاکستان نے پہلی بار ملکی مفاد میں فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل سرحد کو دہشت گردوں سے محفوظ کر نے کے لئے ویزا کی پابند ی عائد کی جائے تاکہ قانونی طریقے سے سفر کرنے والے ویزا لیکر پاکستان آجائیں افغانستان میں امریکہ اور بھارت کے مشترک کیمپوں سے دہشت گرد ی کی تربیت حاصل کر کے سرحد پار کر نے والے بھارتی ، ازبک ،چیچن، تاجک اور افغان باشند ے آزادانہ طور پر اسلحہ لہرا کر پاکستان میں داخل نہ ہوسکیں اس کانام سرحد ی نظم و نسق یعنی بارڈر مینجمنٹ ہے اب یہ امریکہ ، بھارت اور افغانستان کا امتحان ہے اگر ان کا دعوی ٰ سچ ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گرد ی میں ملوث نہیں ہیں دہشت گردوں کی تربیت اور دراندازی کے ساتھ اُن کا تعلق نہیں ہے تو ان کو اس فیصلے سے کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے اگر اُن کا یہ دعویٰ سچائی پر مبنی ہے کہ افغانستان کے اندر دہشت گردی میں پاکستانی سرحدیں استعمال ہو رہی ہیں تو اُن کو پاکستان کا شکر یہ ادا کرنا چاہیے کہ سرحد کو بند کر کے ان کا دیرینہ مطالبہ تسلیم کیا گیا اب افغانستان دہشت گردی سے محفوظ ہوجائے گا مگر اُن کے دونوں دعوے جھو ٹے ہیں دہشت گردی کا منبع افغانستان ہے سارے دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہورہے ہیں پاکستان سے کوئی دہشت گرد افغانستان نہیں جاتا اس لئے امریکہ اور بھارت کو تکلیف ہورہی ہے اگر طور خم سے چمن تک تمام سرحد ی راستے بند رہے اگر ویزا کی پابند ی برقرار رہی تو پاکستان دہشت گر دی سے محفوظ ہوجائے گا ایران تاجکستان ، ازبکستان اور تر کمنستان کی سرحد یں پہلے ہی سر بمہر کر دی گئی ہیں اب امریکہ اور بھارت کو افغانستان کے اندر دہشت گرد ی کی تربیت کے تمام کیمپ بند کر نے پڑ ینگے اس کا روبار میں دونوں ملکوں کا جو سر مایہ لگا ہوا ہے یہ سرمایہ ڈوب جائے گا پاکستان کے خلاف اُ ن کے تما م عز ائم نا کام ہوجائینگے پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ایران کے ساتھ ہماری سرحد بند ہے بھارت کے ساتھ ہماری سرحد بند ہے افغانستان کے ساتھ ہماری سرحد 42 سال امریکہ کے مفاد میں کھلی رہی اب پاکستان کے مفاد میں اس کو بند کر دیا گیا ہے کیونکہ افغان سرحد کے پیچھے تین دشمن موجود ہیں امریکہ کی فوج ہے بھارتی فوج اور انٹیلی جنس نیٹ ورک ہے افغان فوج اور انٹیلی جنس نیٹ ورک ہے تینوں مل کر پاکستان کے اندر دہشت گر دی اور بدامنی پھیلا رہے ہیں بارڈر مینجمنٹ کا فیصلہ سوچ سمجھ کر ملکی مفاد میں کیا گیا ہے 42 سالوں تک سرحد کو کھلا رکھنے سے پاکستان کو ایک پائی کا فائد ہ نہیں ہوا اب اگر امریکہ ناراض ہوا یا بھارت اور افغانستان کی حکومتیں ناراض ہوگئیں تو پاکستان کا کوئی نقصان نہیں ہوگا محسن بھو پالی کاشعر ہے
تلقین صبر و ضبط وہ فر مارہے ہیں آج+ راہ وفا میں خود بھی کبھی معتبر نہ تھے
نیر نگئی سیاست دوران تو دیکھئے + منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

دادبیداد ….ٹا ؤن پلاننگ کیسے ہو؟

خیبر پختونخوا کے 16درمیانہ قصبوں میں کنویں نکا لے گئے تو سیوریج کا پا نی ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔