صوبائی حکومت کا تعلیمی ایمر جنسی کا خواب ضلع چترال میں چکنا چور – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | تازہ ترین | صوبائی حکومت کا تعلیمی ایمر جنسی کا خواب ضلع چترال میں چکنا چور

صوبائی حکومت کا تعلیمی ایمر جنسی کا خواب ضلع چترال میں چکنا چور

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) شاہد احمد کوارڈینیٹر PTI سب ڈویثرن مستوج اسرا ر الدین کسانہ کوارڈینیٹر ضلع چترال ، نذیر احمد صدرISF چترال رضی الدین سابق تحصیل صدر ، سلطان محمد شیر وغیرہ اپنے ایک مشتر کہ اخباری بیان میں کہا کہ صوبائی حکومت کی تعلیمی ایمر جنسی کا خواب ضلع چترال میں محض ایک جنون کے سوا کچھ نہیں۔ PTI ورکروں نے محکمہ تعلیم ضلع چترال میں بد عنوانیوں اور بے ضابتگیوں کے حوالے سے وزیر تعلیم عاطف خان کو بار بار آگا ہ کیا اور انہیں چترال کا سر کاری دورہ کرنے اور ان بد عنوانیوں کا نوٹس لینے کے بارے میں گذارشات پیش کئے گئے مگر انکی عدم تو جہی اور نا اہلی کی وجہ سے محکمہ تعلیم چترال کی کار کر دگی رو بروز خراب ہو تی جا رہی ہے۔وزیر تعلیم پچھلے تین سالوں میں ایک بار بھی چترال کا سر کاری دور نہیں کر چکے ہیں اگر وہ بر وقت چترال کا دورہ کرتے تو ضلع چترال میں تعلیم کے حوالے سے ایسے سنگین مسائل پیدا نہ ہو تے۔صوبائی حکومت کے اربوں روپے کے مفت تدریسی کتب کی فراہمی میں پچھلے سالوں کی طرح امسال بھی تاخیر سے کام لیا گیا ۔ جسکی وجہ سے معمارانِ قوم کا قمیتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ چترال کے بعض سکولوں میں تعلیمی سال شروع ہو ئے 2 مہینہ 10 دن گزر گئے مگر تا حال بچے تد ریسی کتب نہ ملنے کی وجہ سے خالی بستے لیکر سکول سے گھر جا تے ہیں۔جن سکولوں میں چند تدریسی کتب جو فراہم کئے گئے ہیں ان کتابوں کی چھپائی میں بھی غفلت کا مظاہر ہ کیا گیا ہے۔ کئی کتابوں کے اوراق خالی ہیں کئی ایک کتابوں کے صفات درست نہیں ہیں۔ ایک سنگین غلطی جماعت اول کی اُردو کی کتاب صفحہ نمبر4 میں اللہ پاک کا نام پاؤں کے نیچے چھاپ دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ماہ اپریل میں تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے پہلے تمام سر کاری سکولوں میں تدریسی کتب کی فراہمی کو یقینی بنانا صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ ضلعی محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا اولین زمہ داری ہے ۔ لیکن اس کام میں تاخیر کو اعلیٰ حکام کی نا اہلی اور غیر زمہ داری تصور کیا جا تا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حال ہی میں ڈائیریکٹر ایجوکیشن رفیق خٹک نے چترال کا رویایتی دورہ کرکے واپس چلے گئے مگر سکولوں کے معائنہ کے دوران وہ سر کاری سکولوں کے مسائل کو جاننے اور حل کرنے کی طرف تو جہہ ہی نہیں دی۔ سر کاری پروٹوکول میں چند سیاحتی مقامات گئے اور فوٹو سیشن ہو ئے اور مو صوف چترال سے چلے گئے۔پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال کے ورکروں نے محکمہ تعلیم ضلع چترال کے اہم مسائل اور محکمہ تعلیم چترال کے بد انتظامیوں کے حوالے سے وزیر تعلیم عاطف خان کو بار بار آگاہ کرنے کے با وجود ایسے مسائل کا با ر بار جنم لینا یقینی طور پر وزیر تعلیم کی چترال کی طرف عدم تو جہی کا ثبوت ہے۔ واضح رہے کہ وزیر تعلیم خیبر پختونخواہ پچھلے تین سالوں میں ضلع چترال کا ایک دفعہ بھی سر کا ری دورہ نہیں کر چکے ہیں۔ اگر وزیر تعلیم برو قت چترال کا دورہ کرتے تو ایسے سنگین مسائل جنم نہ لیتے ۔ لہذا ہم چئیر مین عمران خان سے مطالبہ کر تے ہیں کہ وہ خود چترال کا جلد از دور ہ کریں محکمہ تعلیم کیساتھ ساتھ دوسرے سر کاری محکموں میں بے ضابتگیوں اور بد عنوانیوں کا از خود نوٹس لیں تاکہ چترالی عوام کو بھی PTI کے دور حکومت میں ضلع چترال کے اندر کوئی تبدیلی محسوس ہو۔ ورنہ اسلام آباد یا پشاور میں بیٹھ کر چترال میں تعلیمی ایمر جنسی ، صحت ایمر جنسی اور انصاف کا خواب دیکھنا جنون کے سوا کچھ نہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

ایم این اے اور ایم پی اے چترال24گھنٹے کے اندر کیلاش کمیونٹی کے خلاف اپنے الفاظ واپس لیں۔ورنہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائیگی۔پی ٹی آئی رہنماؤں کی پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال کے صدر عبداللطیف نے چترال کی ترقی،امن ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔