Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

(رُموز شادؔ )’’رمضان اور لوڈشیڈنگ‘‘

……… (ارشاد اللہ شاد ؔ ۔بکرآباد چترال)…….

ایک دہائی ہونے کو ہے کہ پاکستانی قوم لوڈ شیڈنگ جیسے مسئلے سے نبردآزما ہے۔ اس دوران حکومت اس مسئلے پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔ ہر نئے آنے والی حکومت اس مسئلے پر جلد کنٹرول کرنے کے دعوے تو کرتی رہی مگر عملاََ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ خاص کر گرمیوں کے موسم میں بجلی کا استعمال بہت ضروری ہوتاہے۔ گھنٹوں گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ سے عوام کا جینا حرام کر دیاہے۔اور پھر اس دہُرا عذاب آئے روز بجلی کے بڑھتے ہوئے ریٹس ہیں۔ یوں محسوس ہوتاہے کہ حکومت کی تمام تر توجہ بجلی کی پیداوار کے طریقے بڑھانے کی بجائے بجلی کی فی یونٹ قیمت بڑھانے پر ہے۔
ہم خوب سمجھتے ہیں کہ اس وقت عوام کو بجلی موسم سرما کی نسبت زیادہ ضرورت ہے۔ اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے روزمرّہ کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ عوام کی معمولات زندگی کا متاثر ہونا فطری بات ہے۔
کاروباری طبقے کو لوڈ شیڈنگ کے باعث کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا کام اور کاروبار بند ہونے سے ان کو خاص طور مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آئے رو ز رمضان شریف میں تو مشکلات اور بڑھ جاتے ہیں۔ سحری کے وقت بجلی ہے نہ افطار کے وقت۔
میں بحیثیت ایک حقیر قلمکار ہونے کی حیثیت سے اپنے صاحب اقتدار ان اور ضلعی انتظامیہ کو درخواست کرتاہوں کہ بجلی کی اس شدید لوڈ شیڈنگ کے خلاف صوبائی سطح پر آواز اٹھائے اور محکمہ واپڈا سے رابطہ کرکے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔بیچارے عوام یہ نہیں کہتے کہ لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ کامل طریقے سے مکمل ہوجائے۔ عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ گھریلو صارفین اور کاروباری صارفین سبھی کی سہولت کیلئے شیڈول ترتیب دے کر اگر اس پر عمل درآمد شروغ کیا جائے تو جہان عوام کو شکایات کا موقع نہیں ملے گا ۔ اوقات اور مدّت کا تعیّن ہونے سے واپڈا کے عملے کو بھی آسانی رہے گی۔ واپڈا کے اعلیٰ حکام کو خاموشی سے لوڈشیڈنگ کرنے کی بجائے اس ضمن میں عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ انہیں چاہیے کہ ذرائع ابلاغ میں باقائدہ شیڈول کا اعلان کیا جائے ، اور اس پرعمل کیا جائے۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔