گرم چشمہ ٹو گبورروڈ مقام ژیتور پر دریا برد غیو ر عوام ٹیکس دینے پر مجبور ڈی سی چترال سے فوری بحالی کی اپیل – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | تازہ ترین | گرم چشمہ ٹو گبورروڈ مقام ژیتور پر دریا برد غیو ر عوام ٹیکس دینے پر مجبور ڈی سی چترال سے فوری بحالی کی اپیل

گرم چشمہ ٹو گبورروڈ مقام ژیتور پر دریا برد غیو ر عوام ٹیکس دینے پر مجبور ڈی سی چترال سے فوری بحالی کی اپیل

گرم چشمہ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) گزشتہ سال 2015ء میں مون سون بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ژیتور کے مقام پر گرم چشمہ ٹو گبور روڈ دریا کے کنارے ڈیم کی شکل اختیار کر رکھی تھی۔اس وقت غیور عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت دو ہفتوں میں روڈ عارضی طورپر بحال کر رکھی تھی۔علاقہ عمائدین نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے کوئی اقدام نہیں اُٹھایا۔ یہ سب نومنتخب ناظمین اور ممبران کی نااہلی اور علاقے کے ساتھ عدم دلچپی کا اظہار ہے۔ گزشتہ تین دنوں سے دریا کا پانی ذیادہ ہو نے کی وجہ سے روڈ مکمل طور پر دریا برد ہو چکا ہے اور پیدل کا راستہ بھی نہیں ہے۔ روڈ کے ساتھ جو زمینات کاشت کی گئی ہے۔ مالکان زمین اس میں سے جانے کی ا جازت نہیں دیتے ہیں۔ جانے کی صورت میں تمام مسافروں سے) جس میں بوڑھے،جوان،بچے اور خواتین بھی شامل ہیںG. Gobor road(فی کس 10 روپے آنے اور 10 روپے جانے کا ٹیکس لیتے ہیں اور موٹر سائیکل والوں سے فی کس مبلغ 50 روپے ٹیکس وصول کی جاتی ہے۔جو کہ غریب عوام کیسا تھ ) خاص کر School going students ( کیساتھ ناانصافی بلکہ سراسر ظلم کی انتہا بھی ہے۔ اس سلسلے میں علاقے کے عوام نے ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑ ائچ سے مودبانہ اپیل ہے کہ مستقبل کے معمار طالب علموں کی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر اقدامات کئے جائے۔ نا خوشگوار واقعہ پیش آنے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری نومنتخب ناظمین اور ممبران،لوکل انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ گورنمنٹ پر عائد ہوگی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

صوبے میں جاری عوامی فلاح کے اہم منصوبوں کو مکمل کرنا حکومت کی ترجیح ہے.وزیراعلیٰ محمود خان

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبے میں جاری عوامی فلاح کے ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔