داد بیداد ……صحت کے دو بنیادی مسائل – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | مضامین | ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی | داد بیداد ……صحت کے دو بنیادی مسائل

داد بیداد ……صحت کے دو بنیادی مسائل

………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …….
خیبر پختونخوا کی حکومت نے 2016-17 ء کے بجٹ میں محکمہ صحت کو ایک بار پھر اپنی اعلیٰ ترجیحات میں شامل کرکے اس شعبے کے لئے وسائل دینے میں پوری فیاضی سے کام لیا ہے بجٹ میں صحت کے شعبے کے لئے 38 ارب روپے کی خطیر رقم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ صوبائی حکومت اس شعبے میں عوام کر درپیش مشکلات دور کر نا چاہتی ہے لیکن دومسائل ایسے ہیں جنکا ذکر بجٹ دستاویز میں نہیں آیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ اجلاسوں میں ان مسا ئل کا ذکر کبھی نہیں ہوا بعض تجز یہ نگاروں نے درست رائے دی ہے کہ ہمارے ہاں سرکاری اداروں میں جواعلیٰ سطحی اجلاس ہوتے ہیں وہ انگریزی اصطلاح کی رو سے ’’ ہائی لیول ‘‘ میٹنگ نہیں ہوتے اردو اصطلاح کی روسے بھی اعلیٰ سطح کے’’ سطحی‘‘ اجلاس ہوتے ہیں جن میں بنیادی مسائل کو نہیں چھیڑا جاتا اوپر سے ہوائی باتیں ہوتی ہیں ہوامیں گولیاں چلائی جاتی ہیں اس لئے اجلاسوں اور میٹنگوں کے باوجود اصل مسائل جوں کے توں رہتے ہیں ہمارے صوبے میں صحت کے دو بنیادی مسائل ہر ڈی ایچ او کے علم میں ہیں ہر ڈی جی کے علم میں ہیں ہر ایڈ یشنل سکرٹری اور سپیشل سکرٹری کے علم میں ہیں مگر کسی اعلیٰ ’’ سطحی ‘‘ جی جہاں ’’ سطحی ‘‘ میٹنگ میں یہ مسائل زیر غور نہیںآتے انگریز وں کے زمانے میں ہر ضلع کے اندر ڈرگ انسپکٹر بیٹھتا تھا جو بازار اور ہسپتال میں لائی جانے والی دوائیوں کو چیک کرنے کا مجاز ہوتا تھا اس وقت صوبے کے 25 اضلاع میں سے 16 ضلعوں میں ڈرگ انسپکٹر کی آسامیاں ختم کی گئی ہیں یہ صحت اور حفظانِ صحت کا بنیادی مسئلہ ہے بجٹ پر بحث شروع ہوگا تو اس مسئلے کو اُٹھا نے کی ضرورت پڑیگی قائد حز ب اختلاف مولانا لطف الرحمن ، اے این پی کے سردار بابک پی پی پی کے صاحبزادہ ثنا ء اللہ اور مسلم لیگ (ن) کے اورنگ زیب ملوٹھ اگر اس بنیادی مسئلے کو اسمبلی کے ایوان میں اُٹھا ئینگے تو عوام کی صحت، دو نمبر ادویات کی بھر مار اور اس سے وابستہ دیگر مسائل بھی زیر بحث آئینگے دیکھنے میں آیا ہے کہ چترال ، شانگلہ کو ہستان یا کسی اور ضلع میں ڈپٹی کمشنر ادویات کی دکانوں پر چھا پہ مارتا ہے ڈی ایچ او بھی اس کے ہمرا ہ ہوتا ہے مگر سیمپل اُٹھا نے کا اختیار نہ مجسٹر یٹ کے پاس ہے نہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر کے پاس ہے چھپاپہ مار پارٹی گپ شپ کر کے و عظ سُنا کر نصیحتیں کر کے باہر نکل جاتا ہے جبکہ ڈرگ انسپکٹر موقع پر سیمپل لیتا ہے ٹیسٹ کراتا ہے دکان کا لا ئسنس ضبط کرتا ہے جرمانہ لگاتا ہے تالہ لگاتا ہے اس کے پاس وسیع اختیارات ہیں قانون نے یہ اختیارات مجسٹر یٹ ، ناظم یا ڈی ایچ او کو نہیں دئیے کسی بھی اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس بات کا ذکر نہیں ہوتا چیف سکرٹری اور چیف ایگز یکٹیو کے علم میں یہ بات نہیں لائی جاتی اسی طرح ایک بنیادی مسئلہ ڈسپنسری ، بیسک ہیلتھ یونٹ اور رورل ہیلتھ سنٹر کا ہے دیہی علاقوں ان تین سہولیات کی موجودگی میں ٹی ایچ کیو اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ کم ہوتا ہے عوام کو اُن کے گھروں کے قریب صحت کی سہولت مل جاتی ہے 3 ہزار کی آبادی میں ڈسپنسری 10 ہزار کی آبادی بی ایچ یو اور 30 ہزار کی آبادی میں رورل ہیلتھ سنٹر 1974 ء میں تجویز کے گئے تھے عمارتیں بھی 1980 ء کے عشرے میں بن گئی تھیں منصوبہ یہ تھا کہ ڈسپنسری میں ابتدائی طبی امداد یعنی فرسٹ ایڈ ملے گی بی ایچ یو میں ڈاکٹر ہوگا ، لیبارٹری ہوگی ، ایکسرے کی سہولت ہوگی ، مریض کا علاج ہوجائیگا آر ایچ سی میں مذکورہ بالا سہولیات کے ساتھ وارڈ بھی ہوگا اپریشن تھیٹر بھی ہوگا موجودہ حالات میں ڈسپنسریوں کو ختم کیا گیا ہے گنتی کے دوچار بی ایچ یوز اور آر یچ سیز آغا خان ہیلتھ سروس کو پٹے پر دئیے گئے ہیں جہاں منصوبے کے پی سی ون کے مطابق سہولیات دستیاب ہیں باقی جتنے بی ایچ یوز اور آر ایچ سیز ڈی ایچ او کی ماتحتی میں ہیں ان میں 1946 ء کی ڈسپنسری کے برابر سہولیات بھی نہیں دی گئیں اس لئے ویلج کونسل کامریض بھی ایکسرے اور لیبارٹری ٹیسٹ کے لئے تحصیل ہیڈ کواٹر ہستپال یا ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال آتا ہے یہ بنیادی مسئلہ ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ صوبے کے کسی وزیر صحت ، کسی چیف سکرٹری اور کسی وزیراعلیٰ نے گذشتہ 68 سالوں میں ایک بار بھی کسی ہسپتال ، کسی ڈسپنسری ، کسی بی ایچ یو کسی آر ایچ سی کادورہ نہیں کیا کیونکہ یہ الگ طبقے کے لوگ ہیں اُ ن کے زُکام کا علاج ڈبگری ، دوبئی اور لندن میں ہوتا ہے چترال ، دیر ، شانگلہ ، کوہستان ، لکی مروت یا کرک میں صحت کی بنیادی سہولیات کے ساتھ ان کا کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے یہ اُن کا مسئلہ ہی نہیں اس لئے اعلیٰ سطح اجلاس میں کبھی یہ مسائل زیر بحث نہیںآتے سردار بابک ، مولانا لطف الرحمن اور اورنگ زیب ملوٹھ کو ان مسائل کا ادراک ضرور ہوگا پاکستان پیپلز پارٹی کے صاحبزادہ ثنا ء اللہ ان مسائل سے بخوبی آگا ہ اور باخبر ہونگے صوبائی اسمبلی میں صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے مطالبات زر پیش ہونگے تو ایوان میں صحت کے دو بنیادی مسائل کی گونج سنا ئی دینی چاہیے ہماری بد قسمتی سے سکندر شیر پاؤ سرکاری بنچوں پر بیٹھے ہیں ورنہ وہ ایسے مسائل پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک اور بجٹ آنے والا ہے اگر اسمبلیان نہ ٹو ٹیں تو 2017-18 ء کا صوبائی بجٹ بھی موجودہ حکومت پیش کریگی اگلے دوسالوں میں ڈرگ ایکٹ پر عملدرآمد ہوگیا اور ڈسپنسریوں سمیت بیسک ہیلتھ یونٹس اور رورل ہیلتھ سنٹرز میں صحت کی بنیادی سہولیات دیکر تحصیل ہیڈ کواٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال پر مریضوں کا بڑھتا ہوا دباؤ بتدریج کم کردیا گیا تو یقیناًعوام کوتبدیلی کے کچھ نہ کچھ آثار نظر آئینگے اس کے لئے شرط یہ ہے کہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں صرف ’’ سطحی ‘‘ باتوں پر گذارہ نہ ہو بلکہ عوام کے بنیادی مسائل پر بھی غور ہو

B

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

داد بیداد …تسلسل کی ضرورت

نومبر 2017ء میں پشاور شہر اور گرد نواح کے 1800یو ٹیلیٹی سٹو روں پر اشیائے ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔