دادبیداد …..کوچہ سیاسیت میں بھونچال – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | مضامین | ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی | دادبیداد …..کوچہ سیاسیت میں بھونچال

دادبیداد …..کوچہ سیاسیت میں بھونچال

………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …..
لاہور میں شیخ لاسلام طاہر القادری کا دھرنا کوچہ سیاست میں ایک بھونچال سے کم نہیں تھاان کے پاس زبان وقلم کی طاقت اور ہاتھ میں شہدا ء کے خون کا پر چم ہے حکمران خاندان سے ذتی دشمنی کو اس پر مستزاد قرار دیجئے مگر خیر گذری دودنوں کے اندر دھرنا پر امن طور پر ختم ہوا فارسی میں مقولہ ہے ’’آفتے بود ولے بخپرگذسیت ‘‘ آفت آئی تھی خیریت کے ساتھ گذرگئی تین مزید آفتیں آنے والی ہیں عید کے بعد عمران خان ، مصطفے کمال اور بلاول بھٹو زرداری باہر نکلنے والے ہیں جولائی کی قیامت خیز گرمی میں خون کی گرم جوشی دکھانے والے ہیں تجزیہ نگاروں کا یک گروہ شیخ رشید کے اس قول سے اتفاق کرتا ہے کہ موجودہ حکومتیں اور اسمبلیاں جانے والی ہیں تاہم شیخ رشید نے اسمبلیوں کو توڑنے کے بعد نیا روڈ میپ نہیں دیا ظاہر ہے موجود ہ حالات میں انتخابات نہیں ہونگے ۔اگر انتخابات ہوتے ہیں تو وفاق اوربعض صوبوں میں موجودہ حکومت ہی دوبارہ اقتدار میں آئے گی ۔اگر سندھ نے پاکستان پیپلزپارٹی کو اکثریت دیدی تو خیبر پختونخواہ میں موجودہ حکمرانوں کو موجودہ اسمبلی کی سیٹیں دوبارہ نہیں میلنگی ۔مصطفے ٰ کمال اور بلاول بھٹو ذرداری کو سیاسی نقصان نہیں ہوگا ۔پاکستان تحریک انصاف کی کشتی ڈوب جائیگی ۔شیخ رشید احمد اپنی واحد نشست سے محروم ہوجائینگے اور لال حویلی کے اطراف میں شکیل اعوان کا پرچم ایک بار پھر بلندی پر ہوگا یہ کسی نجو می کی پیش گوائی نہیں حالات کا رُخ یہ بتا رہا ہے واقعات اور حالات اس کی شہادت دے رہے ہیں اس وقت پاکستان کو تین محاذوں پر لڑنا ہے اور اس لڑائی کے لئے ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو مستحکم ہو اور مضبوط ہو اس وقت پاکستان شور شرابے ، احتجاج اور جوڑ توڑ کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا پہلا محاذ اندورنی دشمن کے خلاف جنگ کا محاذ ہے یہ دشمن ہمارے محلوں ، بازاروں ، مارکٹیوں ، مسجدوں اور مدرسوں میں چھپا ہوا ہے یہ جنگ ہماری بہادر فوج لڑرہی ہے دوسرا دشمن مشرقی سرحد پر چوکس اور تیار ہے اس کے خلاف بھی ہماری فوج سینہ سیر ہے تیسرا محاذ مغرب میں افغانستان کی سرحد کا محاذ ہے یہاں امریکہ ، بھارت اور افغانستان کی تین قوتیں وردی پوش فوج اور پگڑی پوش کا ا رندوں کے ذریعے پاکستان پر حملے کرتی ہیں ان حملوں کے خلاف بھی پاکستان کی فوج لڑرہی ہے اور جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے بعض سیاسی قوتیں ایسی ہیں جو پاک فوج کے ہاتھ میں ملک کی باگ دوڑ بھی دیکھنا چا ہتی ہیں اُن کا خیال ہے کہ پاک فوج اقتدار میں آئی تو ان کو چوہدری شجاعت حسین ، چوہدری پرویز الٰہی اور شوکت عزیز والا کردار مل جائے گا مہمان اداکار کے روپ میں وہ حکومت کا حصہ بنینگے اُن کی شیر وانیاں ، قراقلی ٹوپی کے ساتھ استری کرکے رکھی ہوئی ہیں کسی بھی نیک ساعت کووزارت کے لئے ان کا نام نامی اور اسم گرامی پکارا جائے گا وہ اس انتظار میں بیٹھے ہیں بقول غالب
پھر جی میں ہے کہ درپہ کسی کے بیٹھے رہیں
سر زیر بار منت درباں کئے ہوئے
یہ تلخ حقیقت ہے کہ اس ملک کا غریب طبقہ سیاستدانوں کی بیڑ بازی سے تنگ آگیا ہے غریب طبقہ اب بھی فیلڈمارشل ایوب خان ، ضاء الحق اور پرویز مشرف کو یاد کرتاہے یہ بات فشین ایبل نہیں ہے جمہوری سوچ رکھنے والے دانشواروں کے لئے یہ بات قابل قبول نہیں ہے جمہوری سوچ رکھنے سیاسی کا رکنوں کے لئے یہ بات ہر گز قابل قبول نہیں ہوگی مگر تلخ حقیقت یہ کہ سیاسی حکومتوں نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا سیاستدانوں نے نہ حزب اقتدار میں رہ کر قوم اور ملک کے لئے کچھ کرنے کا سلیقہ نہیں سیکھا اور حزب اختلاف میں رہ کر صبر و تحمل کے ساتھ 5 سال انتظار کرنے کا جمہوری طریقہ نہیں سیکھا دنیا کی مہذب جمہوری اقوام کے اندر یہ پختہ روایت موجودہے کہ حزب اختلاف حکومت کی آئینی مدت پوری ہونے تک انتظار کرتی ہے ہمارے پڑوس میں ڈاکٹر منموہن سنگھ ، حامد کرزی اور احمد نثراد چُپ چاپ بیٹھے ہیں ہنگامہ برپا کرنے کے لئے ان کے پاس ایک سو ایک بہانے موجود ہیں لیکن جمہوری کلچر کا تقاضا یہ کہ جو بات کرنی ہو پارلیمنٹ کے اندر مہذب الفاظ میں قانونی اور آئینی طریقے سے کی جائے یہ جمہوریت کا پرانا اصول ہے جمہوری اقوام کے ہاں اس سنہرے اصول پر عمل ہو تا ہے یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ 2016 ؁ء میں ہمارے پاس انتخابات کا کوئی راستہ یا آپشن نہیں ہے ہمارے پاس جو راستہ اور آپشن ہے وہ پاک فوج کے ہاتھ میں اقتدار تھمانے کا واحد آپشن ہے ایسا ہوا تو ملک کے چاروں صوبوں ، آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس کا خیر مقدم کیاجائے گا مگر یہ گذشتہ ادوار کی طرح 8 سال یا 10 سال کا فوجی اقتدار نہیں ہوگا یہ پورے دو عشروں پر محیط ہوگا اس کی زد میں صرف حز ب اقتدار کے جیدہ لوگ نہیں آئینگے بلکہ اس کا ڈنڈا حزب اختلاف پر بھی چلے گا۔اور یہ ڈانڈامخصوص چہروں کو نہیں پکڑے گابلکہ پوری بساط سیاست پر جھاڑ و پھر دے گا۔بعض دوستوں کو اس علم ہے پھر بھی وہ اس پر صرار کر رہے ہیں اگر چہ شیخ السلام قبلہ طاہر القادری مذ طلہ العالی کا دھرنا ،بخیر و خوبی اختتام کو پہنچاہے ۔تاہم راوی نے چین ہی چین نہیں لکھا ’’ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ‘‘ابھی ملک میں دھرنے اور بھی آنے والے ہیں کارٹونیسٹ نے کارٹوں بنا یا تھاایک بڑے لیڈر سے پوچھا جاتا ہے عوام کے لئے تمھارے پاس کیا پروگرام ہے لیڈر کہتا ہے ’’میر ا پروگرام یہ ہے کہ عوام کو سڑکوں پر لاونگا‘‘اس مشن اور وژن کو لیکر ہمارے لیڈروں نے اپنا سفر اسی طرح جاری رکھا تو تیسرقوت کے لئے راستہ ہموار ہو جائے گا پھر جمہوریت ،جمہوریت پکارنے سے کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

داد بیداد …تسلسل کی ضرورت

نومبر 2017ء میں پشاور شہر اور گرد نواح کے 1800یو ٹیلیٹی سٹو روں پر اشیائے ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔