fbpx
تازہ ترین

سیلاب کے خطرات کے پیش نظر فوکس کے رضاکروں کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لئے الرٹ رہنے کی ہدایت

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) قدرتی آفات میں نقصانات کو کم سے کم کرنے کے سلسلے میں قائم ( ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن فورم ) کا ایک غیر معمولی اجلاس فوکس ہیومنٹرین اسسٹنس چترال کے آفس میں منعقد ہو ا ۔ جس میں مختلف اداروں سے تعلق رکھنے والے فورم کے ذمہ داروں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں چیرمین فورم ومنیجر فوکس امیر محمد نے رواں گرمیوں میں چترال میں ممکنہ آفات کے بارے میں موسمیاتی ماہرین کی خدشات سے اجلاس کو آگاہ کیا ۔ اور اس سلسلے میں مختلف حفاظتی اقدامات کے لئے فراہم کی گئی ہدایات نامہ پر زیادہ سے زیادہ عملدر آمد کو کم سے کم نقصانات کیلئے مددگار قرار دیا ۔ اجلاس میں اس امر کا اظہار کیا گیا ۔ کہ امسال مون سون بارشیں دو ہفتے پہلے آنے کی پیشنگوئی کی گئی ہیں ۔ جس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں تیز بارشوں سے سیلاب کے خطرات کے واضح امکانات موجود ہیں ۔ اس لئے فوکس کی طرف سے 50 کلسٹروں جن میں سیلاب اور دیگر آفات کے زیادہ امکانات موجود ہیں ۔ سٹاک پوائل فراہم کر دیے گئے ہیں ۔ اور مجموعی طور پر 900ٹینٹ ،کمبل اور دیگر ضروریات کی چیزیں سٹاک کی گئی ہیں ۔ اور رضا کار نوجونوں کو بھی کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کیلئے الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔ اجلاس میں اس امر کا اظہار کیا گیا ۔ کہ چترال میں ڈیزاسٹر پر کام کرنے والے تمام اداروں کا ضلعی انتظامیہ کے ساتھ باہمی قریبی روابط کے تحت کام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ کیونکہ دیکھا گیا ہے ۔ کہ ایک پلیٹ فارم پر نہ ہونے اور انفرادی کوششوں کی وجہ سے زیادہ تر وسائل ضائع ہو رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں اگر ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے زیر نگرانی اجلاس منعقد کرکے ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے ۔ تو زیادہ بہتر اور بروقت اقدامات کئے جاسکتے ہیں ۔ اجلاس میں بتایا گیا ۔ کہ چترال کے زیادہ تر ایریا میں موبائل فون کی سہو لت سے قبل از وقت انفارمیشن میں مدد ملی ہے ۔ لیکن چترال کے اندر 17 دیہات میں بروقت معلومات کی فراہمی کو ممکن بنانے کیلئے Thurayaفراہم کئے گئے ہیں ۔ اور 29مقامات پر موسم ، ٹمریچر ، برفباری ،بارشوں کے گیج کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کرنے کیلئے مطلوبہ سازو سامان نصب کئے گئے ہیں ۔ اس موقع پر موسمیاتی ماہر ین نے عالمی حدت کی وجہ سے چترال کے گلیشیرز پر پڑنے والے اثرات اور مون سون بارشوں میں تیزی کی وجوہات کے بارے میں سائنسی معلومات فراہم کیں ۔ اور انتہائی تشوش کا اظہار کیا ۔ کہ چترال اور ناردرن ایریاز میں قدرت کی طرف سے رحمت کے یہ خزانے دن بدن زحمت بنتے جارہے ہیں ۔ جن کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ جبکہ فی الحال حکومتی سطح پر اقدامات صرف ریلیف اور ریسکیو کی حد تک ہیں ۔ جو کہ مسائل کا حل نہیں ہیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق