Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

چترال خاص اور اطراف میں مسلسل لوڈ شیڈنگ کے سبب گرمی سے بچنے اور پیاس بجھانے کیلئے لاکھوں لوگوں کا مکمل انحصار چترال کے پہاڑوں میں موجود قدرتی برف پر ہو گیا ہے

چترال ( محکم الدین) عالمی سطح پر ماحولیاتی حدت کے اثرات نے جہاں گلیشئرز کے پگھلاؤ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے ، وہاں بالائی چترال میں ریشن بجلی گھر کی سیلاب بردگی سے بجلی نہ ہونے اور چترال خاص اور اطراف میں مسلسل لوڈ شیڈنگ کے سبب گرمی سے بچنے اور پیاس بجھانے کیلئے لاکھوں لوگوں کا مکمل انحصار چترال کے پہاڑوں میں موجود قدرتی برف پر ہو گیا ہے ۔ پہاڑوں میں موجود اس برف کو انتہائی غیر دانشمندانہ طریقے سے کٹائی کرکے گاڑیوں میں ڈال کر دیہاتوں اور شہری علاقوں میں فروخت کیا جا رہا ہے ۔ جس سے وقتی طور پر تو لوگوں کو پیاس بجھانے کیلئے برف اور ٹھنڈے پانی کی ریلیف مل جاتی ہے ، مگر موسمیاتی اور ارضیاتی ماہرین اسے مستقبل کیلئے ایک خطرناک اور بہیانک عمل قرار دے رہے ہیں ۔ روزانہ سینکڑوں گاڑیوں میں یہ برف لواری ٹاپ اور ہندوکُش کی معروف چوٹی تریچ میر( TERICH MIR (کی وادی سے چترال شہر پہنچائی جاتی ہے ۔ اور بازاروں میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ اور اس کاروبار سے ہزاروں افراد بالواسطہ اور بلا واسط طور پر منسلک ہو چکے ہیں ۔ اور بھاری آ مدنی حاصل کرتے ہیں ۔ جبکہ یہ کاروبار لاکھوں مالیت کے حساب سے روزانہ ہوتا ہے ۔ قدرتی برف کا کاروباری سطح پر ا ستعمال اُس وقت سے شروع ہوا ۔ جب چترال میں بجلی کے مسائل پیدا ہوئے ۔ اور کاروباری ذہنیت کے افرادنے لوگوں کو گرمی اور تشنگی سے بچانے کیلئے پہلے لواری ٹاپ سے برف لا کر دروش ، چترال شہر اور اطراف کے بازاروں میں فروخت کرنا شروع کردیا ۔ لواری کے قریبی گاؤں عشریت کے لوگوں نے جب برف کو کاروباری سطح پر فروخت ہوتے دیکھا ۔ تو انہوں نے لواری کے مین چترال پشاور روڈ پر برف اورگلیشئر کو اپنی ملکیتی قرار دے کر با قاعدہ بولی کے ذریعے یک مشت فروخت کرنا شروع کر دیا ۔ اور سالانہ لاکھوں روپے مالیت کے عوض اس برف کی بولی لگائی جاتی ہے ۔ اور سب سے زیادہ بولی دہندہ اس پر قابض ہو جاتا ہے ۔ یوں اس کی مارکیٹ تک رسائی کیلئے کاروباری افراد مطلوبہ ٹھیکہ دار سے فی بلاک ( نگ) کے حساب سے خریدتے ہیں ۔ اور آگے فروخت کرتے ہیں ۔ لواری کی دیکھا دیکھی اب برف کی سپلائی تریچمیر وادی سے اس سال شروع کی گئی ہے ۔ اور محتاط اعداد و شمار کے مطابق تقریبا 50سے60 جیپ یہ تازہ برف تریچ وادی سے لوڈ کرتے ہیں ۔ اور راستے کے مختلف مقامات کے ساتھ ساتھ تورکہو ، موڑکہو ، بونی ، ریشن ، چترال شہر، ایون اور دروش تک فروخت کرتے ہیں ۔ لواری ٹاپ کے برف کی نسبت اس برف کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ یہ زیادہ صاف اور بالکل تازہ اور انتہائی نرم ہوتا ہے ۔ ایک برف فروش ڈرائیور شریف احمد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ اُن کی ایک گاڑی میں برف بارہ سے پندرہ ہزار روپے پر فروخت ہوتی ہے ۔ اور اُن کی اچھی خاصی مزدوری ہوتی ہے ۔ گو کہ آنے جانے کے اخراجات بھی زیادہ ہیں ۔ حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے بجلی کی نایابی کے سبب گو کہ لوگوں کو اپنی تشنگی بجھانے کیلئے قدرتی برف کی سہولت حاصل ہے ۔ تاہم یہ بات باعث تشویش ہے ۔ کہ اگر اس طرح برف و گلیشئرز کا استعمال کاروبار ی شکل اختیار کر گیا ۔ تو اس کے نہایت گھمبیر نقصانات ہو سکتے ہیں ۔ اور چترال کی وادی کا مستقبل انتہائی تاریک ہو جانے کا اندیشہ ہے ۔ کیونکہ یہی برف اور گلیشیرز دریائے چترال کی صورت میں نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا اور ملک کی بڑی آبادی کو سیراب کرتے ہیں ۔ بلکہ قریبی ملک افغانستان کے بڑے حصے کی زندگی کا دارومدار بھی اسی دریائے چترال پر ہے ، جو دوبارہ پاکستان میں داخل ہو کر دریائے کابل کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ لواری ٹاپ پر مٹی خوڑ سے جب اس برف فروشی کا آغاز کیا گیا ۔ اُس وقت ایک پورا ایریا برف سے ڈھکا رہتا تھا ، جبکہ اب اس مقام پر برف اور گلیشیر کا ذخیرہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ برف کے کاروباری افراد کے غیر دانشمندانہ طریقے سے تر یچ میر اور اطراف کے گلیشیرز کی فروخت نہ صرف پہاڑوں پر موجودبرف کے خاتمے کا سبب بن رہاہے ۔ بلکہ ایسے مقامات جہاں انسانی رسائی آسان نہیں تھی ، ا ب وہاں گاڑیوں سمیت دن بھر برف کے بلاک بنانے کیلئے کام کرنے والے مزدوروں کی موجودگی سے ماحولیاتی آلودگی پھیل رہی ہے ۔ اور ان وادیوں سے چشموں کی صورت میں بہنے والے پانی بھی اپنی شفافیت کھو رہے ہیں ۔ چترال کی سینکڑوں وادیوں میں موجود برف اور گلیشئرز سے پگھلنے والے پانی کا دریا “دریائے چترال ” نہ صرف چترال اور افغانستان کے بڑے حصے کو سیراب کرتا ہے ، بلکہ افغانستان سے دریائے کابل کا نام لے کر صوبہ خیبر پختونخٰوا اور پاکستان کے بڑے حصے کو اپنی فراوان آب سے نوازتا ہے ۔ اگر حکومتی غفلت ، لاپرواہی اور عدم دلچسپی کی بنا پر چترال کے آبی وسائل سے ایندھن کی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہائیڈل پاور سٹیشنز تعمیر نہ کئے گئے ۔ تو تشنہ لب لوگ اپنی پیاس بجھانے اور کاروباری افراد اپنی آمدنی کیلئے پہاڑوں کی مختلف وادیوں میں موجود برف کے ذخیروں کو ختم کریں گے ۔ جس سے چترال سمیت کئی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی ۔اور لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوں گے ۔چترال میں قدرتی آفات کے حوالے سے کام کرنے والا ادارہ فوکس ہیومنٹرین اسسٹنس کے ریجنل پروگرام منیجر امیر محمد نے میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال کی اکثر وادیوں کے اندر سردیوں میں پڑنے والی برف کے پانی سے گرمیوں میں فصلین کاشت کی جاتی ہیں ۔ اور پینے کیلئے پائپ لائنوں کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے ۔ جبکہ امسال ہروادی سے برف مارکیٹ میں لا کر فروخت کرنے کا عمل شروع کیا جا چکا ہے ۔جو آبی ذخائر کی بقا کیلئے انتہائی خطرناک ہے ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا ۔ تو چترال کے کئی علاقے پانی سے محروم ہوجائیں گے ۔ اسی ادارے کے جیالوجسٹ ضیاء الدین نے بھی میڈیا کو بتایا۔ کہ بازار میں فروخت ہونے وا لے برف اور گلیشئر کی ساخت میں بہت فرق ہے ۔ اور فروخت ہونے والا برف برفانی تودوں کے سٹاک سے لائے جاتے ہیں ۔ تاہم یہ قدرت کے ایسے خزانے ہیں ۔ جنہیں قدرت لوگوں کی ضرورت کے مطابق پگھلا کر پانی کی شکل میں مہیاکرتا ہے ۔ اگر مہینے کے پانی کا خزانہ ہم اپنی ہوس زر یا ضرورت کیلئے غیر دانشمندانہ طریقے سے استعمال کرکے ایک دن میں ختم کریں۔ تو بگاڑ پیدا ہونا لازمی امر ہے ۔ ماہرین کے اندیشوں کے باوجود لوگ مجبورا برف کے استعمال پر مجبور ہیں کیونکہ چترال میں گذشتہ ایک سال سے ریشن بجلی گھر سیلاب برد ہونے سے اپر چترال کا سارا علاقہ اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ۔ ریفریجریٹر کا استعمال تو دور کی بات ہے ۔ اسی طرح لوئر چترال کی بجلی کی وولٹیج پنکھے کو گھمانے کیلئے بھی کافی نہیں ۔ ایسے میں لوگ قدرتی برف اور پر انحصار نہ کریں تو کیا کریں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔