Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

پانی کی شدید قلت اہم شخصیات کے لان اور پودوں کو پانی دینے کے لئے فائر بریگیڈ کی گاڑی کا سہارا لیا جاتا ہے۔

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) چترال ٹاون میں پانی کی نایابی اور قلت نے جہاں غریبوں اور ناداروں کو متاثر کیا وہاں دولت مند اور صاحب ثروت شخصیات کو بھی اپنی لپٹ میں لے لیا ہے۔ا اہم شخصیات کے لان اور پودوں کو پانی دینے کے لئے فائر بریگیڈ کی گاڑی کا سہارا لیا جاتا ہے۔اگر فائر بریگیڈ نہ ہوتی تو مقتدر شخصیات کے لان اور پودے سوکھ کرکانٹا ہوجاتے۔چترال ٹاون کو پانی سے محروم کرنے کی کہانی بہت افسوسناک ہے۔چترال وہ شہر ہے جس کے دوحصوں کو بہت بڑا دریا جُدا کرتا ہے۔لندن کے دریائے ٹیمز شنگائی کے دریائے گیانکسی اور فرنکفرٹ کے دریائے مین کی طرح چترال کا دریاشہر کے بیچ میں بہتا ہے۔دونوں کناروں پر بسنے والی60 ہزارکی آبادی بوند بوند پانی کو ترستی ہے۔صاف پانی کی فراہمی کے ذمہ دار دو ادارے ہیں۔میونسپل ایڈمنسٹریشن کا واٹر اینڈ سینی ٹیشن یونٹ جرمن تعاون اور امداد سے تعمیر ہونے والی بڑی واٹر سپلائی سکیم کی ذمہ دار ہے۔پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے زیر انتظام مقامی واٹر سپلائی سکمیوں کے علاوہ گولین گول واٹر سپلائی سکیم ہے۔یہ تمام سکیمیں ناکامی سے دوچار ہیں۔قدرتی آفات سے زیادہ بدانتظامی اور بددیانتی کی وجہ سے واٹر سپلائی سکیموں پر لگنے والا فنڈضائع ہوگیا ہے،گولین گول واٹر سپلائی سکیم پر2014میں 47کروڑ روپے لگائے گئے۔ دوسال بعد سکیم ناکامی سے دوچار ہوگئی۔WSUنے 10 مہینوں میں گذشتہ سال سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا۔اسی طرح PHEDکی مقامی سکیمیں جو مختلف دیہات کے مقامی چشموں سے لائی گئی تھیں۔برباد ہوچکی ہیں۔چترال ٹاون میں پانی کی شدید قلت پر نہ عوامی نمائندوں نے قدم اُٹھایا ہے نہ ضلعی حکومت نے اس کا نوٹس لیا ہے۔اور نہ ضلعی انتظامیہ نے اس پر غور کیا ہے۔چترال کے سیاسی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹاون کی60ہزار آبادی کو درپیش پانی کا مسئلہ فی الفور حل کیا جائے۔اور سکیموں کی ناکامی کے ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے قانونی کاروائی کی جائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔