fbpx

یاد ماضی…..(3) بانگ سے بلتستان

……….شیرولی خان اسیر……

شگر قلعہ میں اے کے آر ایس پی کے خالق اور این آر ایس پی این کے چیرپرسن ، جنوبی ایشیا کی افسانوی شخصیت جناب شعیب سلطان خان اور جی ایم جناب عبدالملک صاحب کے ساتھ رات کے کھانے پر بلایا گیا جسے ہم نے اپنی خوش قسمتی جانا کیونکہ شعیب صاحب کے ساتھ بیٹھنا اور ان کے قیمتی علمی اور تجرباتی خزانے سے موتیاں چرانے کا موقع ہاتھ لگ گیا تھا۔ ایک ایسی ہستی کیساتھ دو بدو بیٹھنا جس نے صرف اور صرف گرے پسے غربت زدہ طبقے کی عملی خدمت کا جذبہ دل میں اور ذہن میں سمائے پاکستان سول سروس کی شاہانہ زندگی کو خیرآباد کہ دیا تھا اور ایسی بستیوں کی باسیوں کے درمیاں اپنا ٹھکانا بنا لیا تھا جن کے ساتھ بیٹھنا تو کجا ان کو چھونا بھی باعث ہتک گردانا جاتا رہا تھا۔ اس نے ایسے لوگوں میں ترقی کا شعور ڈالنے کی کوشش کی جو لفظ ترقی سے نابلد تھے اور جو کسی اجنبی کو نچلے طبقے کی سماجی اور معاشی حالت بدلنے کی کوشش کو مکمل طور پر شک کی نگاہ سے دیکھنے کے عادی تھے۔ ان کی روایات اور قبائلی دستور ان کے لیے حرف آخر تھے۔وہ اپنی روایات سے ذرہ بھر انحراف کرنے والے کوواجب القتل قرار دینے میں تاخیر نہیں کرتے تھے۔ شعیب اپنا تصور ترقی کو ایسی جگہوں میںآزمانا چاہتے تھے جہاں عوام غربت کی لکیر سے پست زندگی گزارنے پر مجبور تھیں۔ البتہ خدا نے ان کے سچے جذبے کی تسکین کے لیے منصوبہ پہلے سے تیار رکھا تھا۔ دأدزے میں ان کو پذیرائے نہ ملی۔ لیکن ہزہائینس پرنس کریم آغا خان کی نقد شناس نگاہیں ایسے گوہر نایاب کی جستجو میں تھیں اور انہیں تلاش کرلیں۔ ا نہیں پاکستان کے شمالی علاقہ جات اور چترال میں غربت کے مارے بے اختیار لوگوں کی حالت زندگی بدل کر ان کو معاشی استحکام دینے کی فکر تھی اور یہ منصوبہ شعیب سلطان خان ہی انجام دے سکتا تھا۔ شاید قارئین کو یاد نہ ہو ۔سن ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں چترال اورشمالی علاقہ جات میں کواپریٹیو سوسائٹیز بنوائی گئی تھیں اور امامت فنڈ سے ان کی مالی مدد کی گئی تھی۔ اس وقت بھی گراس روٹ لیول پر لوگوں کو معاشی خودانحصاری بذریعۂ اشتراکی کام کا تصور کار فرما تھا۔ بدقسمتی تھی یا پروگرام یہاں کی کاشتکار اور گلہ بان عوام کے مزاج کے موافق نہیں تھا۔ اس لیے وہ منصوبہ کامیاب نہ ہوسکا اور یہاں سے غربت دور ہونے کا نام نہیں لیا،بلکہ اور بھی اپنے بھیانک پنجے غریبوں کے سینوں میں گاڑ دیا۔ تو شیعہ ا مامی اسمعلیوں کے امام ہزہائنس پرنس کریم آغاخان نے آغان فاؤنڈیشن کے ذریعے ایک پروگرام چلانے کا فیصلہ کیا جس کا نام اے کے آر ایس پی یعنی آغا خان رورل سپورٹ پروگرام رکھا گیا اور جس کی سربراہی جناب شعیب سلطان خان کو سونپ دی گئی۔
۱۹۸۲ء سے گلگت میں اس کا آغاز ہوا۔ ۸۴۔۸۳ء میں چترال میں دفتر کھلا۔ بارہ سالوں تک شعیب اس کا سربراہ رہا۔ گلگت، بلتستان اور چترال میں ایسی کوئی جگہہ نہیں جہاں شعیب کا قدم نہ پہنچا ہوں اور ایسا پسماندہ طبقہ نہیں جس کے ساتھ ان کی مٹی کی ننگی فرش پر نشت نہ ہوئی ہو۔ آج ان کا لگایا ہوا پودہ تناور درخت بن چکا ہے اور اپنے پھلوں سے غریبوں کا دامن بھر رہا ہے۔ آج یہ غربت زدہ عوام اپنی ترقی کا راز پا چکے ہیں۔ دیہی اور خواتین تنظیمات کے ذریعے اشتراکی کام کو ترقی کی اصل بنیاد جان چکے ہیں ۔بچت کے ذریعے اپنی مالی حالت کو استحکام دینے کی تگ ودو میں ہیں۔ آگے جاکر ان چھوٹی تنظیمات نے مل بیٹھ کر اپنی مقامی امدادی تنظیمات کی داغ بیل ڈالی۔ آج یہ مقامی امدای تنظیمات اپنے اپنے علاقوں کی معاشی، سماجی،علمی اورصحت کے شعبے میں ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی ممبر تنظیمات کوہر طرح کی معاونت باہم پہنچانے میں سرگرم عمل ہیں۔ سکردو کا حالیہ کنونشن نوجوانوں کو با اختیار بنانے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جو اے کے ار ایس پی اور ایل ایس اوز کی مشترکہ کاوش منعقد ہو رہا تھا۔
جب ایس شخصیتو ں کا ذکر چھڑتاہے تو میری توجہ اس موضوع سے ہٹتی ہی نہیں ۔ بات تھوڑی لمبی ہوگئی۔اگرچہ میرے نزدیک صرف تمہید بھی نہیں ہوسکتی، مگر بعض قارئین کو اشخاص سے زیادہ جگہوں سے دلچسپی ہوتی ہے۔ ان کے لیے سکردو کی سیر زیادہ دلچسپ موضوع ہے۔ ہم ساڑھے ساتھ بجے سکردو سے شگر قلعہ روانہ ہوئے۔۳۲ کلومیٹر کا سفر رات میں طے کیا۔کچھ دیکھ نہیں پائے۔شگر قلعے کو محل کہنا مناسب ہے۔ راجوں کی رہائشگاہ جسے اپنی اصلی حالت میں بحال کرکے آغا خان کلچرل سروس پاکستان نے اسے سرینا ہوٹل میں بدل دیا ہے۔کوئی جدید تعمیراتی کام نہیں کیا گیا ہے۔گھارے، پتھر اور لکڑی کا وہ کام دوبارہ کیا گیا ہے جس کی ضرورت تھی۔ ہماری ملاقات شعیب سلطان خان سے باہر ہی ہوئی اور ان کی معیت میں ڈائننگ ہال میں جا بیٹھے۔ جب میں نے ان سے اپنا تعارف کرایا تو کہنے لگے، کہیں ہماری ملاقت ہوئی ہے۔مجھے ان کی قوت حافظہ پر رشک آیا۔ میں نے کہا، سر! اسلام آباد ایل ایس اوز کنونشن میں انتہائی مختصر ملاقت ہوئی تھی، وہ بھی ہزاروں مندوبین کے ہجوم میں۔ انہوں نے کہا میں بھولتا نہیں۔کیاایسے بڑے جلسوں میں چند لمحوں کی علیک سلیک سے ہر ایک چہرے کو یاد رکھنا کمال کی ذہانت اور بلا کی قوت یادداشت نہیں ہے؟ رات گیارہ بجے تک ان کی مدہم گفتگو کے بیش بہا جواہرات سمیٹنے کی کوشش کی۔ ان کا مرکز گفتگو رورل ڈویلپمنٹ ہی رہی۔ گویا شعیب صاحب کا عشق مزید پختہ ہو گیا ہے۔ہم ان کی محفل سے محظوظ ہونے کے بعد رات ۱۲ بجے ہم واپس اپنے ہوٹل پہنچے۔
ہم بستر پردرازہونے کے خیال میں تھے کہ صالحؔ صاحب کی موبائل کی گھنٹی بجی۔اس نے بتایا کہ فضل خالق صاحب ڈپٹی کمشنر سکردو ہم سے ملنے آرہے ہیں۔فضل خالق کا تعلق چونج چترال کے خوشوقتیہ خاندان سے ہے۔ یہ خاندان ماضی میں علاقۂ مستوج اور غذر کا حکمراں رہ چکا ہے۔ان کے والد اکبرولی خان میرے ہمکار رہ چکے ہیں۔انتہائی شریف اور منکسرالمزاج شخصیت کے مالک درویش انسان ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اکبرولی صاحب کے فرزند ڈی سی بن جانے کے بعد کہیں بیروکریسی کی رعونت میں مبتلاء نہ ہوا ہو۔ اسی سوچ کے درمیاں ایک میانہ قد، دبلے پتلے قد کے مالک جوان، ہونٹوں پر خلوص مسکراہٹ سجائے کمرے میں داخل ہوئے۔ہم تینوں ساتھی ڈاکٹرفیضیؔ کے کمرے میں بیٹھے تھے۔

جب ہم سے گلے ملنے اور احوال  پرسی  کے بعد نشستیں لینے کی نوبت ٓئی تو ہم سے پہلے بیٹھنے سے صاف انکار کردیا تو دل میں آئے ہوئے منفی خیال پر شرمندہ سا ہوگیا۔ واقع جیسا باپ ویسا فرزند، شرافت و توضع کا زندہ نمونہ، نکلے۔بیروکریسی کی کرسی نے ان کی خاندانی تہذیب و شرافت پر کوئی منفی اثر نہیں چھوڑا تھا۔ موتی موتی ہی تھا۔ ایسی شخصیات کے بارے کھوار میں ضرب المثل ہے، ’عزت منو گوسنیڑہ مشکے‘ ( عزت دار آدمی کو کچھروں میں تلاش کر) یعنی خاندانی آدمی غرور میں مبتلاء نہیں ہوتا چاہے کتنے اونچے مقام پر کیوں نہ پہنچے۔ ان کی بات چیت، خوش مزاجی اور انکساری نے ہمیں قائل کردیا کہ اچھے باپ کا بیٹا کبھی برا ہو ہی نہیں سکتا۔ رات ایک بجے تک ان کی پر لطف محفل سے محظوظ ہوتے رہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

إغلاق