fbpx
شمس الرحمن تاجک

تھرڈ کلاس طمانچہ

……. شمس الرحمن تاجک……

یہ اکیسویں صدی ہے جی! سب کچھ بدل چکا ہے، آپ کو اب ہر چیز بدلی ہوئی نظر آئے گی، رہن سہن بدل گیا، انسانی رویہ بدل گیا، تعلیم حاصل کرنے کے طریقے بدل گئے، معلومات تک رسائی کے طریقے بدل گئے، رابطے کے ذریعے بدل گئے، الغرض ہر چیز بدل چکی ہے، چترال میں یا پھر پاکستان میں نہ بدلی ہو وہ ایک الگ کہانی ہے پھر کبھی، مگر معلومات تک رسائی کے طریقے چونکہ قیادت کی مرہون منت نہیں ہوتے اس لئے اب بروغل اور گبور میں بیٹھے ہوئے بچے بھی فیس بک اور ٹوئٹر استعمال کررہے ہیں ان کو آج کے آج ہی پتہ چلتا ہے کہ کون آج کتنے میں بک گیا خریدار کون، کمیشن ایجنٹ کون، کمیشن لینے والا کون، سب پتہ ہے بابو! اس کے باوجود آپ بضد ہیں کہ میں 15 ویں صدی کی سیاست اور قیادت کروں گا؟۔ حیرت کدہ ہے جہاں!
اتنے سارے طریقے بدل گئے تو آج کے ناداں بچوں نے طمانچے مارنے کے طریقے بھی نئے ایجاد کرلئے ہیں، کیسے ؟ وہ بکنے والوں کے منہ پر فیس بک یا ٹوئٹر میں ملین ڈالر کا طمانچہ مارتے ہیں اور سامنے والا کچھ کر بھی نہیں سکتاکیونکہ جوابی طمانچے کے لئے اس بچے جتنا معصوم بننا پڑتا ہے اتنے معصوم ہم ہیں نہیں تو جوابی طمانچے کا جواز پیدا نہیں ہوتا، سب سے اہم ترین تبدیلی جو آگئی ہے وہ عام آدمی کو پتہ چل گیا ہے کہ جو سیاست دان ہوتے ہیں ان کو ہر مسئلہ اس وقت کیوں نظر آنے لگتا ہے جب حل کے تمام ذرائع ختم ہوچکے ہوتے ہیں، ٹیکس کا پیسہ بحالی کے لئے ریلیز ہوا تھا یا پھر اکاؤنٹ فور میں رکھ کر تماشا بنانے کے لئے، بندر بانٹ جلدی بھی ہوسکتا تھا، ضروری تھوڑی تھا کہ عوام کو اس سطح پر لایا جائے کہ ان کے پاس کوئی آپشن ہی نہ رہے،یا پھر آرمی کو ہی بیچ میں آنا تھا تو جناب فنڈز بھی انہی کو دیتے آخر میں آنا تو انہی کو پڑتا ہے، ڈی سی اگر اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے بحالی کے کاموں میں حصہ لے اور سید مظہر علی شاہ جیسے لوگوں کو میدان عمل میں مسلسل اور مستقل دیکھ کر عوام ان کی تعریف کرنے لگیں تو آپ کو یہ بھی گوارا نہیں۔
حیرت ا س وقت ہوئی جب میٹرک کے ایک اسٹوڈنٹ ایک سیمینار میں نعت پیش کرنے کے بعد میرے پاس آیا اور سوال کیا کہ ملازم اور سیاست دان میں کیا فرق ہوتا ہے اور کیا آپ اپنے ذاتی ملازم اور سیاسی نمائندے سے ایک طرح پیش آئیں گے یا پھر ذاتی ملازم کو حقیر سمجھا جائے گا، سمجھانے کی کوشش بہت کی کہ سیاسی نمائندہ اورذاتی ملازم ایک جیسے نہیں ہوتے، پھر سوال تھا کہ کوئی ایک سیاسی نمائندہ بتائے جس کو ہم ٹیکس کی مد میں ادا کئے گئے پیسوں سے تنخواہ نہیں دیتے، ذاتی ملازم کو بھی آپ تنخواہ ہی دیتے ہیں نا جناب! اگر تنخواہ ہم سیاسی نمائندے کو بھی دیتے ہیں، تو پھر وہ بھی ملازم ہوا، ذاتی ملازم! ذاتی ملازم کیسے یہ اعلان کرسکتا ہے کہ میں نے آپ کے لئے سکول بنایا، ہسپتال بنایا، سڑکیں بنائیں، آپ کے بچوں کو ملازمتیں دیں،کیسے جناب! پیسہ میرا اپنا، میں ٹیکس دیتا ہوں، زمین عوام کی، ادارے عوام نے بنائے ہیں،سب کچھ عوام کا، یہاں تک کہ یہ سب کچھ بنانے کا دعوی کرنے والی شخصیت کو تنخواہ بھی عوام دیتے ہیں پھر وہ یہ سب کچھ میرے لئے کیسے بنارہا ہے، میں نے دفاع کی بہت کوشش کی مگر میٹرک کے اس اسٹوڈنٹ نے مزید لاجواب کردیا کہ یہ سوالات نہیں صاحب، انہیں جدید لغت میں ’’کلاسیکل طمانچہ‘‘ کہتے ہیں۔
سیلاب جون 2015 میں، تباہی کا سلسلہ پورے سال جاری رہا، المیے جون 2016 میں لیڈرشپ کو نظر آنے لگی ہیں،بھنگ چترال میں ملتا نہیں کہ ہمیں شک ہوجائے شاید بھنگ کی فصل 2015 میں بہت زیادہ ہوگئی ہو جو پی کے لیڈرشپ سوتی رہی عوام مسائل کو ایک سال سے برداشت کررہے ہیں، سڑکیں خود تعمیر کیں، آرمی نے کچھ حد تک ساتھ دیا، پائپ لائین خود بحال کئے، اول تو بجلی گھر این جی اوز نے بناکر دیئے ہیں بجلی کی بحالی بھی عوام نے خود کی، چترال کو ایک میگاواٹ بجلی لوکل بجلی گھر سے فراہم کی جاتی ہے اگر عوام عید کے دن عید کی نماز چھوڑ کر بجلی کی بحالی کے پیچھے نہ لگتے، اس پر غور نہ کرتے تو جو حال اپر چترال میں ایک سال سے غریب عوام کا ہوا ہے اس سے بہت ہی برا حال چترال ٹاؤن کے عوام کا ہوتا، خود بحال کیا تو اب تک استعمال کررہے ہیں ورنہ بجلی گھر کے ساتھ ہی روڈ بھی دریا برد ہوگیا تھا عوام نے بحال نہیں کیا ایک سال گزرنے کے بعد بھی عذاب مسلسل کا سلسلہ جاری ہے، آج بھی پورے چترال میں چاہے اپر چترال ہو یا لوئر چترال عوام اپنی مدد آپ کے تحت ہر سہولت بحال کررہے ہیں، یارخون روڈ کس نے بحال کیا؟ عوام نے، مستوج روڈ کس نے بحال کیا؟ عوام نے، بمبوریت روڈ کس نے بحال کیا؟ عوام نے، ارندو روڈ کس نے بحال کیا؟ عوام نے، لواری ٹاپ روڈ کس نے بحال کیا ؟ آرمی نے، ریشن روڈ کس نے بحال کیا؟ آرمی اور عوام نے، گرم چشمہ روڈ کس نے بحال کیا؟ آرمی اور عوام نے،پھر بھی ہم چترالی ہیں سیاسی نمائندوں کی عزت اب بھی کی جاتی ہے، مگر وہی بچے تو بچے ہوتے ہیں نا!کہتے ہیں کہ یہ عزت نہیں ہے اس کو جدید لغت میں ’’عوامی طمانچہ ‘‘ کہتے ہیں۔
فنڈز آنے کے بعد آپ اس کو استعمال نہیں کرسکتے، فنڈز اکاؤنٹ میں پڑے رہتے ہیں اور سیاسی لوگ یہ تیرا یہ میراشروع کردیتے ہیں، لوگ کئی دنوں سے مریضوں اور لاشوں کو کندھوں پر اٹھا کر چترال لا رہے ہیں اور چترال سے لے کر جارہے ہیں اس کا احساس نہیں ہوتا، جب کسی کا کوئی پیارا مرتا ہے نا جناب! تو اپنے پیارے کی لاش کندھوں پر رکھ کر چترال سے گرم چشمہ، ایون سے بمبوریت، مستوج سے یارخون یا پھر لاسپور لے کے جانا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے اس کا آپ کو اندازہ نہیں ہے، جو کندھے اپنے پیارے کی موت پر خود ہی ڈھلکے ہوئے ہیں ان کندھوں پر بوجھ قدرت تو دور کی بات ہے کسی انسان کو بھی پسند نہیں، غریب مائیں راستوں میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں، یہ مائیں ہماری دشمنوں کی بیویاں ہوسکتی ہیں مگر ماں ہے جی ماں! جس کی قدموں تلے جنت ہوا کرتی ہے، جب غریب عوام کی لاشیں آپ انہی کے کندھوں پر سوار کریں گے اور دنیا کے سب سے مہذب لوگ جوچترال میں بستے ہیں ان کی ماوؤں کو راستوں میں بچے جننے پر مجبور کریں گے، تو اس کو دنیا کی ہر لغت صرف ایک ہی نام دے سکتی ہے ’’ تھرڈ کلاس طمانچہ‘‘۔
مگر یہ فیصلہ کرنا ابھی باقی ہے کہ یہ تھرڈ کلاس طمانچہ کس کو پڑی ہے، عوام کو یا سیاسی نمائندوں کو!

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

یہ بھی دیکھیں

إغلاق
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق