خاک شناسی…اور طاہرہ مرگئی – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | مضامین | شمس الرحمن تاجک | خاک شناسی…اور طاہرہ مرگئی

خاک شناسی…اور طاہرہ مرگئی

……………. شمس الرحمن تاجکؔ

کچھ دن پہلے صوبائی وزیر تعلیم کا بیان نظر سے گزرا کہ چترال میں طالب علموں پر تشدد کرنے والے استاد کو نشان عبرت بنانا چاہ رہے ہیں، فی زمانہ جو کہ ممکن نہیں ہوتا، اساتذہ کا بچوں پر تشدد ہر صورت قابل قبول فعل نہیں ہوسکتا مگرتشدد اور سزا دونوں کو ہمیں الگ الگ نظر سے دیکھنا پڑے گا ورنہ ہمارے معاشرے میں تو قاتل بھی آزاد پھر رہے ہیں، چترال میں ہر طرف نظر دوڑائیں تو آپ کو ایسے لوگ اعلی عہدوں پر بیٹھے نظر آئیں گے جو ایسے اساتذہ کے شاگرد رہے ہیں جن کے نام کے ساتھ سزا کا خوف آج بھی ان لوگوں کو اپنے اساتذہ کے سامنے سر جھکا کر رکھنے پر مجبور کرتی ہے کچھ حد تک اس بات کا بھی یقین ہے کہ ہمارے صوبائی وزیر تعلیم بھی ایسے اساتذہ کے زیر سایہ تربیت یافتہ ہوں گے جو بچوں کے مستقبل کی بہتری کے لئے سزا کو جائز سمجھا کرتے تھے۔
بچوں کی سزا کا جہاں تک تعلق ہے ہمیں اس سلسلے میں دو انتہاؤں میں رہنے کے بجائے میانہ روی اختیار کرنا ہوگا، وہ یورپ جو ہمیں سکھا رہا ہے کہ بچوں پر تشدد نہیں کرنا چاہئے وہ خود سکولوں میں جسمانی سزا کے قانون کو دوبارہ لاگو کرنے پر شدت سے غور کررہے ہیں وہ لوگ دہائیوں پہلے جسمانی سزا کو اپنے تعلیمی اداروں سے ختم کرچکے ہیں، عدم تشدد کے نظام کو لاگو کرکے دیکھ چکے ہیں پھر کیا بات ہے کہ وہ خود پرانے سزا و جزا کے نظام کو دوبارہ لاگو کرنا چاہتے ہیں، اس سے بھی حیرت انگیز بات یہی ہے کہ جس نظام سے وہ تنگ آچکے ہیں وہ نظام ہمارے معاشرے میں رائج کرنا چاہتے ہیں، ہمیں اس سلسلے میں تحقیق کرنی چاہئے تحقیق کا نام سن کر ہی ہمیں موت پڑتی ہے، کجا کہ ہمارے فیصلہ ساز کچھ بھی بولنے سے پہلے کم از کم گوگل پر سرچ ہی کرکے دیکھ لیں کہ دنیا کہاں جارہی ہے، ہم کہاں جارہے ہیں، کسی بھی قانون، ثقافت، طرز معاشرت اور طرز زندگی کو قبول کرنے سے پہلے اس کے بارے میں مکمل معلومات کا ہونا سب سے اہم ترین ہوتا ہے ہمیں جہاں چار پیسے جہاں نظر آئیں وہی ہمارا قانون بن جاتا ہے اگر آئی ایم ایف کہہ دے کہ ادارے بیچ دو ہم بیچ دیتے ہیں یہ نہیں سوچتے کہ ادارے بیچنے کے بعد آئی ایم ایف سے لیا گیا قرضہ کیسے واپس کریں گے، کمائیں گے کیسے، ہم آج بلکہ ابھی کا وقت گزارنے والے لوگ ہیں کل کے بارے میں سوچنا بھی اپنے اوپر حرام کرچکے ہیں، پوری دنیا میں فیل سسٹم کو اپنے ملک میں رائج کرنا از بس ضروری ہے، مگر کیوں! اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔
جس معاشرے میں سزا و جزا کا تصور ختم ہوجائے وہ معاشرہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے، مغربی معاشرے اور مشرقی معاشرے میں زمین آسمان کا فرق ہے اور رہے گاہم ایسی چیزوں کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہیں جس سے ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے، معاشرے کو سدھارنے کی کوئی سعی ہم سے کبھی کارگر نہیں ہوا کرتی یا پھر ہم معاشرے کو سدھارنا چاہتے ہی نہیں،کیوں ہم دوسروں کی اندھی تقلید کو زندگی کا مقصد بنالیتے ہیں کھلی آنکھوں مکھی نگلنا کہاں کا انصاف ہے، کیا ایسے لوگ ہماری رہنمائی فرما سکتے ہیں جن کو خود نہیں پتا کہ وہ اصل میں کرنا کیا چاہتے ہیں۔
ہمارے وزیر تعلیم کو بچوں کو سزا دینے والا استاد تو نظر آتا ہے وہ بھی چترال جیسے دور افتادہ علاقے میں، مگر اسی علاقے میں وزیر تعلیم کے ایک کلاس فور کی وجہ سے سکول کے اندر خودکشی کرنے والی بچی طاہرہ نظر نہیں آتی، طاہرہ نے ہمارے معاشرے کو دسمبر 2015 میں بتایا تھا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ان کو ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، پولیس نے کیا کردار ادا کیا، ہمارے نظام نے اس بچی سے ثبوت مانگا کہ آپ کے ساتھ کیا اور کیسا ہوا! حیرت ہے، ہمارے بھی گھر ہیں جس میں بیٹیاں بھی ہیں، بیوی بھی ہے، بہنیں بھی ہیں اور ماں بھی، وزیر تعلیم سے یہاں یہ سوال بنتا ہے کہ وہ طاہرہ کو اپنی فیملی ممبرز کے جگہ پر رکھ کر کیوں نہیں دیکھتے وہ یتیم بچی تھی اس کا کیس کون اٹھائے گا، کیا ہماری فیملی میں کسی کے ساتھ اس طرح کا واقعہ ہوجائے تو ہم اس کا ثبوت کسی عدالت کو پیش کرسکتے ہیں؟ ویسے اس طرح کے واقعات کے ثبوت کیا اور کیسے ہوسکتے ہیں یہ بھی کوئی ہمیں سمجھائے، کیا جان قربان کرنے کے بعد بھی وزیر تعلیم اور عدالتی نظام کو کوئی ثبوت چاہئے، کیا وزیر تعلیم ایک استاد کو عبرت کا نشان بنانے کے بجائے اپنے سکول میں قتل ہونے والی طاہرہ کے قاتلوں کو جو اس معاشرے کے لئے ناسور ہیں، عبرت کا نشان بناسکتے ہیں؟ نہیں نا وہ ایسا نہیں کرسکتے کیوں نہیں کرسکتے، یہی تو ملین ڈالر کا سوال ہے۔
ہماری سوچ انتہائی سطحی ہے ہم بڑے جرائم کو فراموش کردیتے ہیں اور چھوٹے مجرموں کو عبرت کا نشان بنادیتے ہیں شاید ہم خود بڑے مجرموں کے ساتھی ہیں، وزیر تعلیم خود تو سکول کھولنے سے رہے، آبادی کے تناسب سے سکولوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے اور جو لوگ پرائیوٹ طور پر سکول کھول کر عوام کو گھر کی دہلیز پر سہولیات فراہم کررہے ہیں ان کو ہم نشان عبرت بنارہے ہیں، انصاف کا اس سے بڑا بول بالا کیا ہوسکتا ہے؟ طاہرہ جیسے لوگ ہمیشہ حکمرانوں کے لئے ایک ٹیسٹ کیس کا درجہ رکھتے ہیں مگر حکمران ان تمام عوامل سے اپنے آپ کو دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے عوامی مفاد کا کوئی پہلو نکل آتا ہو، ہم اپنی بیٹیاں حکومت کے زیر انتظام سکولوں میں کس طرح بھیجیں جہاں ایسے بھیڑیے بیٹھے ہیں جو طاہرہ جیسی یتیم بچیوں کا قتل کرتے ہیں، وزیر تعلیم سے ایک اور سوال بھی بنتا ہے کہ اب کوئی طاہرہ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا کبھی ذکرنہیں کرے گی کیونکہ ذ کرنے کے بعد معاشرہ طاہرہ کو موت دے سکتی ہے انصاف نہیں۔ خدارا اس استاد کو نشان عبرت بنانے کے بجائے طاہرہ کے قاتلوں کو نشان عبرت بنائیں تاکہ ہم آپ پر آپ کے سکولوں پر اعتماد کرسکیں، طاہرہ مرگئی انصاف ڈھونڈتے ڈھونڈتے اور کتنی طاہرہ خودکشی کرلیں یا قتل کردیئے جائیں توآپ کو ہوش آئے گا۔؟

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔