fbpx

دارالامان کے لئے سرکاری زمین مہیا کرینگے۔ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمد وڑائچ

چترال ( محکم الدین ) ڈپٹی کمشنر چترال اُسامہ احمدوڑائچ نے کہا ہے ۔ کہ چترال کے لوگ گذشتہ سال سے انتہائی مشکلات کا شکار ہیں ۔ اور مصیبت زدہ لوگ اس وقت حکومت اور ڈونر ایجنسیز سے اُن کاموں کی توقع رکھتے ہیں ۔ جو نظر آئیں ۔ اور اُن کو مشکلات سے نکالنے میں مدد گار ہوں ۔ اس لئے کسی بھی ادارے کو ٹریننگ اور دیگر سافٹ منصوبوں پر وقت اور فنڈ ضائع کرنے کی بجائے انفراسٹرکچر کی بحالی میں مدد دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اپنے آفس میں ساوتھ ایشیاء پارٹنر شپ پاکستان کے ساتھ ایک تعارفی نشست کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا ۔ کہ صوبہ خیبر پختونخوا کیلئے ایس اے پی پی کا بجٹ چالیس کروڑ ہے ۔ جب کہ چترال کو اُس میں سے بہت کم فنڈ فراہم کیا جارہاہے ۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے ۔ کہ چترال جیسے پسماندہ اور متاثرہ لوگوں کیلئے خطیر فنڈ فراہم کئے جانے چاہئیں ، تاکہ ٹریننگ اور آگہی کے سافٹ پراجیکٹس کے ساتھ ساتھ ہارڈ منصوبوں پر بھی کام کئے جاسکیں ۔ اور لوگوں کو ریلیف ملے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال کے موجودہ حالات کے پیش نظر فنڈ برابری کی بنیاد پر تقسیم کئے جانے چاہئیں ۔اور اس حوالے سے آواز ڈسٹرکٹ فورم پروپوزل تیار کرے ۔ تاکہ اُس کو ہم آگے کر سکیں ۔ اور چترال کو کچھ فائدہ ہو ۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا ۔ کہ چترال کو حکومت کی طرف سے بھی مناسب فنڈ نہیں مل رہا ۔ ایسے میں اگر ڈونر ایجنسیز بھی فنڈ کی فراہمی میں امتیاز کریں اور فراہم کردہ فنڈ کو بھی غیر ضروری سرگرمیوں پر صرف کریں ،تو یہ فنڈ کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اس موقع پر چترال میں دارالامان کے قیام کے حوالے سے بتایاگیا ۔ کہ یو این ڈی پی نے دارالامان کی تعمیر کیلئے دو کروڑ روپے کے فنڈ فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے ۔ تاہم چترال میں بلڈنگ کیلئے مفت زمین کی ضرورت ہے ۔ اس پر ڈپٹی کمشنر اُسامہ احمد وڑائچ نے کہا ۔ کہ وہ سرکاری زمین مہیا کریں گے ۔ جس کیلئے اُن کے پاس زمین موجود ہے ۔قبل ازین ساوتھ ایشیا پارٹنر شپ پاکستان کے کو آرڈنیٹر محمد اسماعیل نے سیپ پاکستان کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور کہا ۔ کہ سیپ خواتین کی سیاسی عمل میں شمولیت ، تنازعات کے حل اور سماجی خدمات کے شعبوں ایجوکیشن اور ہیلتھ میں کام کرتا ہے ۔ اور ویلج ، تحصیل اور ڈسٹرکٹ فورم سمیت 3892مردوخواتین آواز فورم کے ممبر ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سیپ پاکستان چترال خواتین پر تشدد ، لوکل باڈیز الیکشن میں سہولت کاری ، آگہی ، خواتین اسمبلی کا قیام ،امن کیلئے اقدامات ، تنازعات کے حل کے حوالے سے آگہی اور تربیتی سرگرمیاں کر چکا ہے ۔ جن کے بہت مفید نتائج نکلے ہیں ۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر زنانہ زہرہ جلال ، ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر روبینہ بی بی ، صدر ڈسٹرکٹ آواز فورم قاضی سجاد احمد ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل رحمت الہی ، خواتین رہنما ، خدیجہ سردار ، بی بی جان ، سوشل ویلفئیراور دیگر ادروں کے ذمہ داران بھی موجود تھے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق