fbpx
اے ایم خان

پس وپیش گھور گھور کر دیکھنا

…………..تحریر: اے ایم خان چترال……

عورتوں کے حقوق سے منسلک اِدارے اور افراد ہر گاہ اُن خدشات کا اظہار کر رہے ہیں جس میں خواتین کے حقوق کا سوال اُٹھتا ہے۔ گزشتہ مہینے ریاست پاکستان میں ’’عزت کے نام‘‘ پر قتل اور خواتین پر تشدد کی ایک لہر پھیل گئی تھی ، جس پر گزشتہ چند ہفتوں سے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔ رپورٹ نہ آنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہمارے معاشرے میں یہ سوچ ختم ہوگئی ہے بلکہ ریاست اور اِنسانی حقوق سے منسلک اِدارے اور افراد نے اِس مسئلے کو کوریج دی تو حکومت حرکت میں آگئی تاکہ دُنیا میں ملک کے چہرے کاتحفظ ہو سکے، اور اِس جرم سے منسلک لوگ قانون کی گرفت سے بچ سکیں۔
خواتین کے حوالے سے انڈیا کے ریاست کریلا میں ایکسائس کمشنر رشیراج سنگھ نے کوچی کے شہر میں خواتین کے تحفظ سے منسلک افراد سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ
’’ کوئی مرد اگر 14سیکنڈ سے زیادہ کسی عور ت کو گھور گھور کردیکھتاہے ، اُسے جیل میں ڈالنا چاہیے‘‘۔
خیر یہ ایک سب سے بڑی بحث ہے کہ گھورنے کا دورانیہ کون، اور کیسے حساب کر سکتا ہے۔ اور کوئی اُسے حساب بھی کرتا ہے اُس کی تصدیق کس طرح کی جائیگی۔ اور ایسے ہزارون کیسسز ہو سکتے ہیں اُنہیں کون نمٹائے گا ، ویسے پاکستان اور انڈیا میں کئی ایک ضروری کیسسز کئی سالوں سے تعطل کا شکا رہیں ۔ اِس مسئلے سے متعلق نہ صرف انڈیا بلکہ ایشاء کے ممالک میں کوئی قانون اب تک موجود ہی نہیں۔بہرحال اِس خطاب کے بعد ایک نئی بحث چھیڑ گئی ہے جسے سوشل میڈیا میں کافی پذیرائی ملی۔
نہ صرف ہندوستان بلکہ پاکستان کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد گھورنے کی اِس بیماری میں مبتلا ہے۔ پاکستان میں ضلع چترال کا موازنہ دوسرے اضلاع یا علاقوں سے گھورنے میں کیاجائے تو شاید پہلی نمبر میں آسکتی ہے۔برصغیر سے وراثت سے ملنے والا یہ تمدن ہمارے کلچر کا حصہ رہ چُکی ہے، جسے اِتنی جلدی بھولنا مشکل ہے۔برصغیر کے لوگ اِس بیان کی مکمل طور پر مخالفت ضرور کرینگے، کیونکہ یہ اُن کے وراثت سے ملی ہوئی کلچر پر سوال اُٹھائی ہے۔ اور ہمارے معاشرے میں مذہب اور تمدن میں بہت کم فرق کی جاتی ہے۔
گھورنے کی کیفیت کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ ایک نفسیاتی کیفیت پیداکرنے کا عمل ہے جس میں دوسرے کو دھمکانے اور اپنے برتر یت کی نشاندہی یا اظہار کرنا مقصود ہوتاہے، اور خصوصاً عورت کو گھورنا ہمارے ملک میں ’’حد ‘‘کی ایک خاص کیفیت پیدا کرنا ہے جسکا اِحساس جسے گھور کر دیکھا جاتاہے اُسے ہو!
ہمارے یہاں بازار،مارکیٹ، سکول، کالج، روڈ اورکھیل کے میدان میں گھورنے کا یہ نہ ختم ہونے والا کلچر چلا آرہا ہے۔لیکن مغرب میں کسی کو گھور کر دیکھنا جرم کے ذمرے میں آسکتی ہے۔ رشیراج سنگھ کی بات ایک توجہ دلاؤ نوٹس کی طرح ہے، جو اُس احساس کو دوبارہ پیداکرتی ہے جسکا احساس انڈیا اور ایشاء کے ممالک میں بہت کم ہوگیاہے ۔
چترال کے دروش سے تعلق رکھنے والا معروف شاعر امیں الرحمن چعتائی اپنے ایک کلام میں اِس کے برعکس تصور کا دوسرا رُخ پیش کرتاہے ، بھی قابل غور ہے۔ پاکستان کے شعری اور نثری مجموعوں میں کئی ایک اور مثال ہوسکتے ہیں، اگر چترال میں نہیں بھی ہیں ۔
گھورنا ہمارے قومی نفسیات میں کلچر کی شکل اختیا ر کر چُکی ہے جو برصغیر سے شروع ہوتی ہے، اور ہندوستان کی تقسیم کے بعدانڈیا اور پاکستان میں کئی سالوں سے چلی آرہی ہے۔چترال میں گھورنے کے ساتھ دیہی ماحول میں گزرنے والے پر اپنے مفت رائے کا اظہار بھی ساتھ ہوتا ہے۔چترال میں گھورنے کی نفسیاتی کیفیت کے ساتھ، یہ حالت بے روزگاری اور وقت کا زیادہ فروانی کے ساتھ ہونا اُس کے قوی اسبا ب ہو سکتے ہیں ۔بہرحال اِس میں دوسری رائے نہیں کہ کسی کو گھور گھور کر دیکھنا اُس شخص میں نفسیاتی کمزوری ، غیر اخلاقی کیفیت،اور چترال میں بیروزگاری اور وقت کی فراوانی کی وجہ سے ہے، جس پر انفرادی تبدیلی بہت تبدیلی لاسکتاہے۔تاکہ فرد سے معاشرتی اجتماعی تبدیلی آجائے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق