fbpx
تازہ ترین

لینگ لینڈ سکول چترال سے نکالنے پر آیا زرین گل کا خودکشی کرنے کی دھمکی۔

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس) دی لینگ لینڈز سکول اینڈ کالج چترال کی آیا زرین گُل نے کہا ہے ۔ کہ سکول کی پرنسپل مس کیری نے انہیں بغیر کسی وجہ اور کسی غلطی کے بغیر سکول میں ملازمت سے نکال دیا ہے ۔ جس کی بنا پر وہ انتہائی طور پر ذہنی دباؤ کا شکار ہیں ،اگر اُن کے مسئلے پر سنجیدہ توجہ نہ دی گئی ۔ تو وہ خود کُشی کا راستہ اختیار کریں گی ۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتی ہوئی انہوں نے کہا ۔ کہ انہوں نے 25 سال پہلے آیا کی پوسٹ پر لینگ لینڈ سکول میں اپنی ملازمت کا آغاز ماہانہ ایک ہزار روپے کی تنخواہ پر کیا تھا ۔ جسے مختلف مرحلوں میں بڑھاکر اب تنخواہ دس ہزار روپے ماہانہ مل رہا تھا ۔ اور میں نے ہمیشہ اپنی مجبوری کی وجہ سے اس تنخواہ کو غنیمت جان کر سکول کے کسی کام سے انکار نہیں کیا ، سکول میں صفائی سے لے کھانا پکانے اور ہر قسم کی ڈیوٹی سٹاف کے احکامات کے مطابق انجام دی ۔ اور کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں دیا ۔ موجودہ پرنسپل مس کیری بھی میری بیوگی اور مجبوری پر رحم کرتی رہی ۔ حتیٰ کہ میری بچی کی اسی سکول میں تعلیمی اخراجات اپنی جیب سے برداشت کرتی تھی ۔ مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر انہوں نے دو ہفتے پہلے مجھے ملازمت سے نکال دیا ہے ۔ جس سے میں شدید ذہنی مریض بن چکی ہوں ۔ کیونکہ یہی ملازمت میری زندگی گزارنے کیلئے آمدنی کا کام کرتی تھی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ملازمت کے خاتمے کی خبر میرے لئے اتنی ناقابل برداشت تھی کہ صدمے سے وہ بیہوش ہوئی ۔ اور تین دن ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں داخل رہی ۔ اور اب بھی اُن کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے ۔ آیا زرین گُل نے کہا ۔ کہ انہوں نے مس کیری سے اپنی برخواستگی کی وجہ پوچھی ۔ اور اپنی نادانستہ اور ناکردہ غلطیوں کی معافی مانگی ۔ تو مس کیری نے کہا ۔ کہ وہ یہ اقدام بورڈ آف ڈائریکٹرزکی ہدایت پر کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کووہ بورڈ آف ڈائریکٹرزکے تمام ممبران سے درخواست کرتی ہیں ۔ کہ اُن کی مجبوری پر رحم کیا جائے ۔ اور دوبارہ انہیں ملازمت پر بحال کیا جائے۔ بصورت دیگر وہ سکول آکر خود کُشی کریں گی ۔ جس کی تمام تر ذمہ داری پرنسپل مس کیری اور سکول کے بورڈ ممبران پر ہوگی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق