fbpx
شمس الحق قمر

دیوانوں کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ( اُلٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا )

…………..تحریر : شمس الحق قمر ؔ بونی

ہمارے وزیر اعظم نے چنگاری کو ہوا دی ہے ۔ میڈیا میں بحث گرم ہے کہ میاں کا دورہ چترال ناکام رہا ، ہم پیسے نہیں احترام چاہتے ہیں ، میاں صاحب کو بولنا نہیں آتا، میاں صاحب کو چترالی قوم سے معافی مانگی چاہئے الغرض جتنے منھ اُتنی باتیں۔ میاں صاحب کی تقریر کے شان نزول پر لکھاریوں کے قلم پر قلم کھل گئے ۔ کچھ لوگوں نے وزیر اعظم کو سیدھا سیدھا مخاطب کرکے سبق سکھانے کی کوشش کی۔ بعض شرمیلے لکھاریوں نے گڑھ میں لپیٹ کر تیر پھینکے۔ چند ایک جذبات کے دھارے میں بہہ گئے ۔ سچی بات یہ ہے کہ مجھے بڑا رحم آیا بے چارے میاں صاحب پر ۔ ایک طرف عمران خان نے ناک میں دم کر رکھا ہے دوسری طرف قادری نے جینا حرام کیا ہوا ہے شومئ قسمت دیکھ آخر میں جو شامت آئی تو چترال آکر زبان پھسل گئی ۔ بوکھلاہٹکے شکار ہیں میاں صاحب ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ میاں صاحب اتنے بُرے اور نا سمجھ آدمی نہیں ہیں جتنے ہم اُسے سمجھتے ہیں ۔ مئلہ یہ ہے کہ ہر انسان کی اپنی مجبوریاں اور کمزوریاں ہوتی ہیںیہمیاں صاحب کی کمزوری شاید یہی ہے کہ اُسے بات کرنے کا گر نہیں آتا یا یہ کہ تقریر سے پہلے تیاری نہیں کرتے ’’ آپ میں سے کتنے لوگوں کو اُردو آتی ہے ، ہاتھ کھڑے کرو ! ‘‘ ’’ افتخار الدین اصل میں مسلم لیگ نون کے ہیں ۔ ہمارے دوست کا لڑکا ہے اس لئے میں انہیں فنڈ دیتا ہوں ‘‘ یہ ایسی کمزوری یا مجبوری ہے جو کہ کسی چھوٹے سے چھوٹے کنبے کے سربراہ کو بھی زیب نہیں دیتی کجا کہ ایک ملک کا وزیر اعظم اس طرح کی مہمل خطاب کرے ۔ ہماری زبان پر یہی بات آتی ہے کہ ؂ اک زرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے لیکن یہ اچھا ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے ۔ اچھا ہوا کہ میاں صاحب کی جو شامت آئی تو اپنی پہچان کے لئے چترال وارد ہوئے ۔ بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ میاں صاحب کی زبان پھسل گئی ۔ یوں تو آجکل زبان کی پھسلن عام ہوئی ہے ۔ پچھلے دنوں آپ ہی کے ایک وزیر کی زبان پھسل گئی انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو نا اہل قرار دینا چاہئے ۔ سوشل میڈیا میں میاں صاحب کا دورہ چترال جب گرم ہوا تو طرح طرح کی تحاریر، بیانات اور خبریں دیکھنے کو ملیں۔ پڑھتے پڑھتے ایک جگہ نظر پڑی تو تین سیاسی راہنماؤں کے چترالی قوم سے مختلف مواقع پر خطابات کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا تھا ۔ آپ کی دلچسپی کے لئے نقل پیش خدمت ہے ۔

عمران خان :
اسی پولوگراؤنڈ میں انہی لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا ’’چترال کے لوگ سب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ ہیں اگر یہاں کسی چیز کی کمی ہے تو وہ روز گار کے مواقع ہیں ۔ ہم یہاں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے‘‘
پرویز مشرف :
بلوچستان میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا تھا ’’اگر تہذیب سیکھنی ہے توکوئی چترال جاکے چترالی قوم سے تہذہب سیکھ لے‘‘
میاں نواز شریف صاحب:
’’ کس کس کو اُردو آتی ہے ہاتھ کھڑے کرو۔میں جب پہلی بار چترال آیا تو یہاں بہت کم لو گ اُردو سمجھتے تھے ۔شکر ہے کہ اب بہت سارے چترالی اُردو سمجھنے لگے ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ چترالی قوم بھی پڑھ لکھ کر جہالت کے اندھیروں سے نکل کر لاہور اور دوسرے شہر کے شہریوں کی طرح مہذب قوم بنے‘‘
اب تک پرنٹ میڈیا، الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا میں یہی موضوع گردش میں ہے کہ نواز شریف نے چترالی قوم ساتھ توہین آمیز خطاب کیا ۔ آج کل ہم ٹیلیفون پر جب ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں تو خیریت دریافت کرنے سے پہلے طنزاً یہی سوال پوچھتے ہیں ’’ آپ کو اُردو آتی ہے ۔ اپنے ہاتھ کھڑے کرو‘‘ شروع شروع میں مجھے بھی اس بات پر بہت غصہ آتا تھا کہ میاں صاحب کتنے نامعقول آدمی ہیں کہ اُسے لوگوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں۔ میں دل ہی دل میں سوچتا رہا کہ شاید بچپن میں بچے کی درست خطوط پر تربیت کا فقدان رہا ہوگا ، والدین نے نہیں سکھایا ہوگا کہ اپنے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں سے کس انداز سے باتیں کرنی چاہئے، بڑوں کی قدر اور چھوٹوں پر شفقت ہماری اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ پھر بعد میں میرے اندر کے آدمی نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا ’’ ارے بھائی اس جملے کو پنجاب سے آیا ہوا سوغات سمجھ کے قبول کر و اور شکربجا لا کہ بات کی شروعات ماں بہن کی گالی سے نہیں ہوئی ۔‘‘ اگر واقعتا پنجابی اسٹائل میں باتشروع ہوتی تو ہم سب کہاں جاکے سر چھپاتے ۔میرے اندر والے کی بات درست تھی میں نے دل کی بات مان لی اور چپ رہا ۔ ان سب باتوں پر سوچتے ہوئے ایک اور واقعہ یاد آیا ۔میں پیشہ وارانہ طور پر ٹیچر ہوں مجھے پنجاب کے ایک کمرہ جماعت میں جانے کا اتفاق ہوا ۔ بچوں سے باتیں کرتے کرتے استاد بار بار بول اُٹھے ’’ ماں دی ۔۔۔ بہن دی ‘‘ میں نے سوچا کہ یہ کوئی دعائیہ کلمات ہوں گے یا کوئی کمرہ جماعت سے متعلق خاص ہدایات ہوں گی۔ کمرہ جماعت سے فراغت کے بعد محترم نے چائے کی پیش کش کی ۔ سکول کے نکڑ میں ایک چائے خانہ تھا ، چائے والے کو پکارا ’’ اوئے ماں دی ۔۔۔۔۔‘‘ ’’ماں دی ‘‘کے بعد جہاں میں نے خالی جگہ چھوڑی ہے وہاں ایک ایسی موٹی گالی لگی ہوئی تھی کہ جسے ہم چترال میں کسی کے سامنے از راہ تفنن بھی استعمال کریں گے تو ہمیں ضلع بدر کیا جائے گا۔ لیکن یہاں تو شروعات ہی اسی کلمے سے ہوتی ہے ۔ بڑے بڑے لوگ بھی بازاری زبان استعمال کرتے ہیں ۔ لیکن ایک سربارہ مملکت بغیر کسی سوچ اور تحقیق کے جب بازاری زبان استعمال کرتا ہے تو رعایا کی زبانیں بھی کھل جاتی ہیں کیوں کہ عزت نفس سب سے بڑی چیز ہوتی ہے جسے ہم دوسرے لفظوں میں خودی یا خود داری کہتے ہیں ۔ چترال تہذیب یافتہ ، حساس اور باریک بینلوگوں کا مسکن ہے ۔ تہذیب کے حوالے سے یہاں کی اعلی ٰ اقدار دنیا کی اور کسی قوم میں نہیں ہیں ۔ وزیر اعظم یہی خطاب پنجاب کے کسی گاؤں میں کرتے تو شاید وہ لوگ محسوس نہ کرتے ۔ لیکن چترالیوں کے دلوں پر اگر حکومت کرنی ہے تو ذولفقار علی بھٹو، عمران خان اور پرویز مشرف کے نقش قدم پر چل کے ہی کچھ مل سکتا ہے ۔

بندگی میں بھی وہ خو د بین و خود آرا ہیں کہ ہم اُلٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا ( چچا غالب)

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق