fbpx
شمس الحق قمر

میرے روزنامچے کے اوراق سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( محمد خان سے باقو )

…………تحریر: شمس الحق قمرؔ …………

ہمارے بچپن میں بونی پولوگراؤنڈ میں جب بھی پولوٹورنامنٹ ہوتا تو ہم صرف دوکرداروں کی حرکات و سکنات سے لطف اندوز ہوتے ایک مصل خان المعروف یساول اور دوسرا محمد خان المعروف باقو ۔ مصل خان کی خوبی یہ تھی کہ وہ لوگوں کے ہجوم میں جب بھی وارد ہوتے تو بہروپیا بن جاتے ۔مصل خان کے بہروپیا پن کے حوالے سے اگلی نشست میں گفتگو ضرورکریں گے سر دست ماضی کے جھروکو سے جو نظر آتا ہے وہ باقو کے روپ محمد خان کی اصلیت ہے ۔ آج سے کوئی ۵۲ سال پہلے بونی میں پیدا ہوئے ۔والد محترم کی محبت و شفقت کا سایہ بچپن میں محمدخان کے سر سے اٹھ گیا ۔ محمد خان کو اپنے اور اپنے کنبے کی کفالت کا بار گراں اُس عمر میں اُٹھانا پڑا جس عمر میں آپ کے باقی تمام ہم عمر بچے والدین کی انگلی پکڑ پکڑ کر زندگی کے نشیب و فراز سیکھ رہے تھے ۔ باقو، قدیم الایام سے لوگوں کے دلوں میں راج کر رہے ہیں ۔ ہمارے زمانے میں( آج سے ۳۵ ، ۴۰ سال پہلے) جہاں کہیں لوگوں کا مجمع ہوتا تو باقو، شہری وضع قطع کے لباس میں ملبوس وقتی ضرورت اور خوردونوش ( جن میں بسکٹ ، مٹھائیاں ، خشک کوکوں نٹ، سگریٹ ،ماچس اور نسوار کی پڑیاں ہوا کرتیں) کو ٹو کریوں اور طباق میں سجا سجا کر اُونچی اُنچی بیوپارانہ آواز سے اشائے خورد نوش کی تشہیر کرتے ہوئے ہجوم کے درمیاں گھومتے رہتے اور لوگ باقو کے اس انداز معاش کو دل سے پسند کرتے۔ لوگوں کی بڑی تعداد سامان لینے کے بہانے باقو کو اپنے پاس بلالیتے ، پہلے باقو کی لطیف مگر کھری باتیں سنتے اوپھر سودا سلف کرتے ۔یعنی ہجوم میں موجود سخن شناس لوگ سودا سلف سے زیادہ باقو کی صحبت حاصل کرنے کے متمنی ہوتے تھے ۔یوں لوگ باقو کی گپ شپ سے لطف اُٹھاتے اور باقو دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایک روپے کے نئے اور پرانے نوٹوں سے اپنے جیکیٹ کی تمام جیبیں لبالب بھر کے سینہ تان کے دوسرے گاہکوں کی طرف نکلتے ۔ باقو کی اس آزاد روی اور خود ساختگی کو دیکھ کر ہمیں رشک آتا ۔ ہم سوچتے کہ کاش ہمارا بھی والد صاحب نہ ہوتے تو ہم بھی اپنی مرضی کے مالک ہوتے ۔جہاں جاتے اپنی مرضی سے جاتے واپسی پر کوئی پوچھنے ولا نہ ہوتا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جیب میں پیسے ہوتے ۔ہم شاید یہ سوچنے سے قاضر تھے کہ کھلی آزادی کیباوجود اپنے حصار میں رہنا اور دھوپ چھاؤں ، گرمی سردی اور دن رات کی پراہ کئے بغیر خون پسینہ ایک کرنا اور سخت ذہنی و بدنی مشقت کے ساتھ اپنے پورے خاندان کی کفالت کتنی اذیت ناک بات ہوتی ہے ۔ وقت نے محمد خان المعرف باقو کو دنیا کی نیرنگیوں کو بہت قریب سے دیکھنے پر مجبور کیا ۔اسی لیے آپ کی کہی ہوئی ہر بات دنیا کے بڑے لوگوں کے اقوال کے پائے کی ہوتی ہے۔ معروف ادیب و شاعر امجد اسلام امجد ایسی شخصیات کی تشریح اِن الفاظ میں کرتے ہیں ۔
؂ جھونپڑیوں میں ہر اک تلخی پیدا ہوتے مل جاتی ہے اسی لئے تو وقت سے پہلے طفل سیانے ہوجاتے ہیں
باقو کا نام چترال میں زبان زد خاص و عام ہے کیوں کہ آپ کے اندر وہ تمام خوبیاں بدرج آتم مو جو د ہیں جو ایک عام انسان کی شخصیت کو جاذب نظر بنا دیتی ہیں ۔ آپ کی سحر انگیز شخصیت بلا تفریق نسل ، علاقہ ، عمر، تعلیم ، مذہب اور جنس ہر ملنے والے کو پہلی نظر میں ہی اپنی طرف راغب کرتی ہے ۔ اس رغبت اور کھینچاؤ کی وجوہات میں لوگوں کا اُن کے مقام کے عین مطابق احترم کرنا ، کسی بھی کام میں محنت ،لگن اور اخلاص کے دامن کو ہاتھ سے نہ چھوٹنے دینا ، اپنے سے زیادہ حاجت مند ، ضرورت مند اور غریب لوگوں کا اپنی بساط اور استعداد کے مطابق خیال رکھنا اور اعانت کرنا شامل ہیں ۔ لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم ہر اُس آدمی کی باتوں کو اہمیت اور وقعت دیتے ہیں جن کے پاس دھن دولت ہو۔دنیا میں حیرت انگیز طور پر انقلاب برپا کرنے والے لوگ ایسے بھی گزرے ہیں جن کے پاس کالی دولت ہوتی تھی نہ وہ برائے نام تعلیم ،جو انسان کو گھمنڈ اور غرور کی پوشاک زیب تن کرواتی ہے، ہوتی تھی بلکہ اُن کا سب کچھ اُن کے ا ذہان کی رسا ئی ، کشادگی اور چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے کاموں کے تلخ تجربات سے گزرنے کے بعد اُن تجربات کا اپنی زندگی پر اطلاق تھا ۔ انہی عظیم شخصیات کی صف میں باقو کا وجود ہو سکتا ہے بہت سوں کو گوارانہ ہو لیکنایسے لوگوں کو یہ تسلیم کرناپڑے گا کہ اس مقام تک آنے کے لئے ذات پات، نسل ، تعلیم ، زبان یا مذہب کے ہتھکنڈے اور حربے استعمال نہیں ہوتے ۔ ایسی شخصیات کے بارے میں اقبال رطب اللسان ہیں
؂ میری مشاطگی کی کیا ضرورت حسن معنی کو کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی
باقو، بعض اوقات زندگی کے منطق کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے ایسے جواز پیش کرتے ہیں کہ بڑے بڑے علمأ و فضلأ کے اقوال اِن کے جملوں کے سامنے بے دست و پا معلوم ہوتے ہیں ۔ خود اُن کا قول ہے کہ شام کے بعد باقو کی باتیں باقو کی اپنی نہیں ہوتیں بلکہ باقو کی زبان سے نکلنے والے تمام جملوں اور الفاظ کی زمہ داری شراکائے محفل پر عائد ہوگی کہ وہ آپ کے’’ فرمودات ‘‘ کو اپنے اپنے ذہنی استعداد کے مطابق کیسے پرکھتے ہیں۔ باقو، عام حالات میں عام آدمی ہے لیکن شام کے بعد اُن کے ذہن میں ہر بات جیسے غیب سے آتی ہے ۔ غالب ؔ ایک ایسی ہی ذہنی کیفیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
؂ آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں غالبؔ صریر خامہ نوائے سروش ہے
باتوں باتوں میں فشن کا ذکر چھڑ گیا تو باقو، ایک مقام پر سیخ پا ہوئے ۔ بولے ’’ دوستو میری بات پر غور کرو ، دیکھو! میں باقو ہوں نا باقو ، لوگ مجھے باقو کی حیثیت سے جانتے ہیں نہ کہ میرے جوتوں کی وجہ سے‘‘ اس قول کے شان نزول کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے بچے خاص کر لڑکے اپنے فیشن کی نمائش کی وجہ سے اپنے روایتی اخلاقی اقدارکو اپنے ہاتھوں سے ملیامیٹ کر رہے ہیں ۔ جینس کے نام سے نیچے پہنے کا تنگ پاجامہ کم ازکم مبلغ دو ہزار روپے رائج الوقت پاکستانی میں خریدتے ہیں جس میں بدن کا ہر جوڑ ننگے جسم سے زیادہ عیاں نظر آتا ہے اُوپر سے ستم یہ کہ قینچی سے مزید اسے مسخ کرکے پہن کر ہمارے بچے باپ کو مقروض بنا کر موٹر سائیکل خرید کر اپنے والدین کے خون پسینے کی کمائی بائک کے قرض میں اُڑا کر جب بازار میں نمودار ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہم سب تباہی و بربادی کے مہیک دہانے میں کھڑے ہیں ۔ ان نوجوانوں کو یہ معلوم نہیں کہ عزت فیشن سے نہیں آتی بلکہ عزت کمانے کے لئے اپنی روایات کی پاسداری کرنی ضروری ہوتی ہے ۔ کپڑے یا جوتے عزت نہیں دیتے بلکہ آپ کے اپنے اخلاقی اقدار آپ کو پہچان دیتے ہیں ۔ انگور کی بیٹی نے باقو کو جب پوری طرح سے اپنے باہوں میں لے لیا تو باقو نے بولنے کے لئے دل کی زبان کا سہارا لیا’’ خدا کی قسم میں جھوٹ نہیں بول سکتا کیوں کہ میں نے پی رکھی ہے ۔ مسلمان پی کے کبھی جھوٹ نہیں بولتا ۔ سنو ! اے بھائی میری سنو ! میرا نام باقو ہے میں کہتا ہوں کہ ہمارے بچے تباہ ہو گئے ہیں ہماری یہ نسل اپنے والدین کو جوتوں کی جگہ رکھیں گے ۔ میں کہتا ہوں کہ کوئی ٹیلی وژن پر اس مسئلے کے اوپر بات کرے ۔ سکول ، ہسپتال اور روڈ وغیرہ بنانے سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو راہ راست پر لائیں ۔ ہم اپنے بچوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں لگاتے ہیں ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ ہر کام اپنے حصار اور حدود کے اندر رہ کے کریں ‘‘ باقو نے یکایک اپنی دونوں آنکھیں موندھ لیں اور اپنے دونوں ہاتھ میرے دونوں زانوں پر رکھ کے زور زور سے مجھے جھنجھوڑتے ہوئے ’’ کہتے ہیں کہ آپ اخبارات میں لکھتے ہو ۔ میری بات سنو! اے سنو ، سنو میری بات سنو ۔ میں کہتا ہوں کہ ان حالات پر لکھو جو ہمیں تباہی کے کنارے دھکیل رہے ہیں ‘‘ میں نے اُن کے ہاں میں ہاں میں ملایا تو باقو خوشی سے پھولا نہ سماسکے اور وہی غزل گنگنانا شروع کیا جو وہ ایسی محافل کے معراج پر اکثر گایا کرتے ہیں ؂
’’ پے سی مہ بغاؤبیابانہ۔۔۔۔نہ اچی گوسہ نو ۔۔۔ اے ۔ ائے ائے ۔۔ اشروان مڑاغ ہوئے۔۔ آ ۔۔ آوا ۔۔۔ آوانہ اچی گوسہ ۔۔۔۔نووووووو ہایئے اچی گوسہ نو نو نو و‘‘
اسی ایک بول کے بعد باقو تھوڑیٰ دیر کے لئے خاموش ہوئے کچھ دیر بعد دوبارہ اپنی دونوں آنکھیں گزشتہ خطوط پر موندھ لیں تو میں نے سوچا کہ کشف کرمات کے خزانے مزید برسیں گے۔ لیکن اب کی بار باقو میری گود میں سر رکھ کے خوابوں کی وادی کی سیر کو نکل گئے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق