fbpx
محکم الدین ایونی

معدوم ہوتی کالاش زبان و ثقافت اورکلچرل ہیریٹیج

………. محکم الدین ایونی ………

عالمی حدت کے منفی اثرات نے جہاں چترال کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔ اور آئے روز چترال کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہو رہا ہے ،بالکل اسی طرح درآمد شدہ ثقافتی یلغار کی وجہ سے چترال کے اندر پائی جانے والی مختلف تہذیبیں اور ثقافتیں بھی روز بروز تنزلی اور معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں ۔ زبا ن و ادب ہو کہ نشست وبرخاست ، غمی ہو کہ خوشی طور و اطوار بدل گئے ہیں ۔ بلکہ تبدیلی دن دوگنی اور رات چوگُنی ترقی کر رہی ہے ۔ لباس ، زبان ، رہائش ،موسیقی ، باہمی میل جول ،رشتے داروں سے تعلقات ، زراعت،عمارات غرض کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے ۔ جس میں واضح تبدیلی نظر نہ آرہے ہو ں۔ ایسے میں کمزور اور کم آبادی والے کمیونٹی کے لوگ جو دوسروں کے زیر اثر ہوں ۔ وہ تبدیلی کے ان اثرات سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اگر چہ کھو تہذیب و ثقافت اور زبان بھی اس در آمدی یلغار سے محفوظ نہیں ہے ، تاہم چترال کا کالاش قبیلہ اس کا سب سے بڑا شکار ہے ۔ چترال میں کالاش قبیلے کے لوگ دستیاب کُتب اور معلومات کے مطابق اس علاقے کے سب سے قدیم باشندے ہیں ۔ طلوع اسلام سے پہلے روایات کے مطابق ان کی حکومت چترال سے لے کر افغانستان کے اسد آباد ( چغنسرائے ) تک پھیلی ہوئی تھی ۔ چیو ، بُلے سنگھ اور راجہ وائے اس قبیلے کے معروف حکمران گزرے ہیں ۔ لیکن چترال میں اسلام کی آمد کے بعد ان کی آبادی بتدریج کم ہوتی گئی اور تین وادیوں تک محدود ہو گئی ، حالات کی سنگینی اور دیگر تہذیبوں کے تسلط نے اُنہیں غیر معمولی طور پر مقامی اور غیر مقامی بڑی زبانوں اور ثقافت کا اثر قُبول کر نے پر مجبور کر دیا ۔ یو ں یہ کمیونٹی دنیا میں سب سے زیادہ ثقافتی اور تہذیبی طور پر معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے ۔ 3400آبادی پر مشتمل کالاش قبیلے کے لوگ تین مختلف دادیوں بمبوریت ، بریر اور رمبور میں رہتے ہیں ۔ اور ان کی اپنی مخصوص زبان ہے ۔ جسے( Kalasha Mondh)یعنی کالاشہ زبان کہا جاتا ہے ۔ کالاش زبان کی حروف تہجی رومن ہیں اور زبان سے نکلنے والی آواز ( صوت ) انگریزی کے حروف میں لکھے جاتے ہیں ۔ اس خطے میں کا لاشہ موند واحد زبان ہے ، جس کی حروف تہجی کسی اور زبان سے بالکل مشابہت نہیں رکھتی اور انگریزی کی طرح بائیں طرف سے لکھا جاتا ہے ، کالاش ثقافت میں سب سے زیادہ خطرہ اُن مذہبی گیتوں اور گانوں کو ہے ۔ جو قبیلے میں عمر رسیدہ بزرگوں کی دن بدن کم ہوتی تعداد کے باعث ختم ہوتے جارہے ہیں ۔ یہ لوک گیت نہ صرف معنوی حیثیت سے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں ۔ بلکہ کالاش مذہب کی عمارت ان ہی گیتوں پر کھڑی ہے ۔ اور کا لا ش قبیلے کے لوگ ان گیتوں کو مقدس مانتے ہیں ۔ اس اہمیت کے پیش نظر ایک مقامی لوکل سپورٹ آرگنائزیشن ( AVDP) ایون اینڈ ویلیز ڈویلپمنٹ پروگرام نے یو ایس ایڈ کے تعاون سے (Kalash Language & Culture Preservation)کالاش زبان و ثقافت کے تحفظ کے لئے ایک پراجیکٹ پر کام کیا ۔ اور کالاش قبیلے کے مذہبی پیشوا ؤں اور دانشوروں پر مشتمل کالاش لینگویج اینڈ کلچر پریزرویشن کمیٹی بنائی ۔ جنہوں نے کمیونٹی لینگوسٹ کے ذریعے سے زبان کے اہم گیتوں کو جمع کرنے اور ملکی سطح پر شہرت کی حامل ایک ادارے کے زیر انتظام انہیں کتابی شکل دینے کے عمل کو ممکن بنایا ۔ ان گیتوں کو کتابی شکل دینے سے کالاش زبان کو محفوظ بنانے میں بہت مدد ملی ہے کیونکہ اس میں کالاش قاضیوں کا بھر پور تعاون کمیٹی کو حاصل رہا ہے ۔ زبان کے ساتھ ساتھ کلچرل ہیرٹیج کا تحفظ اور بھی اہمیت کی حامل ہے ۔ کالاش وادیوں میں جس تیز رفتاری سے قدیم عمارات اور مذہبی مقامات میں جدید دور کے مطابق تغیرات کئے جارہے ہیں ۔ اُسے دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ کہ اگر تبدیلی کا رجحان اسی طرح جاری رہا تو بہت کم عرصے میں کالاش کلچرل ہیریٹیج کا نام و نشان ہی مٹ جائے گا ۔ اور دنیا ایک نہایت قدیم تہذیب و ثقافت سے مزئین عمارتی ورثوں سے محروم ہو کر رہ جائے گا ۔ ترقی یافتہ لوگ دنیا میں ان ہی ثقافتی ورثوں کے ذریعے نہ صرف اپنی تاریخ و تہذیب کو زندہ رکھتے ہیں ۔ بلکہ اسے آمدن کا بہت بڑا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ اس مقصد کے پیش نظر کالاش لینگویج اینڈ کلچر پریزرویشن کمیٹی کے ممبران کالاش قاضی فضل اعظم ، قاضی میر باچا ، شیر عالم کالاش ، اکرام حسین کالاش، اکبر بھٹو کالاش، رجمنٹ کالاش ،خاتون کونسلر ملت گُل و جم شاہی ،منیجر اے وی ڈی پی وزیر زادہ کالاش کے علاوہ فنانس منیجر فضل امین اور راقم الحروف پر مشتمل گیارہ افراد کی ٹیم نے ڈسٹرکٹ غذر، ڈسٹرکٹ گلگت اور ڈسٹرکٹ ہنزا کا دورہ کیا ۔ تاکہ یہ معلومات حاصل کئے جا سکیں ، کہ ان قدیم عمارات کی اہمیت کیا ہے ۔ اور ناردرن ایریا زخصوصا ہنزا میں قدیم عمارات کے تحفظ کو کیسے اور کیونکر ممکن بنایا گیا ہے ۔ نیز چترال اور خصوصی طور پر کالاش وادیوں میں ان کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور ان سے کیا اور کیسے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔ ( جاری ہے )

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق