پاکستان تحریک انصاف چترال کے سابق صدر اور ممبر ڈسٹرکٹ کونسل عبداللطیف نے رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان کو مناظرے کا چیلنج دیدیا – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | تازہ ترین | پاکستان تحریک انصاف چترال کے سابق صدر اور ممبر ڈسٹرکٹ کونسل عبداللطیف نے رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان کو مناظرے کا چیلنج دیدیا

پاکستان تحریک انصاف چترال کے سابق صدر اور ممبر ڈسٹرکٹ کونسل عبداللطیف نے رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان کو مناظرے کا چیلنج دیدیا

چترال ( نمائندہ چترال ایکسپریس ) پاکستان تحریک انصاف چترال نے رکن صوبائی اسمبلی سلیم خان کو مناظرے کا چیلنج دیدیا ‘ پاکستان تحریک انصاف ضلع چترال کے سابق صدر اور ممبر ڈسٹرکٹ کونسل عبداللطیف نے سلیم خان کی طرف سے صوبائی حکومت اورتحریک انصاف پر مسلسل تنقیدی بیانات پر درعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ پانچ سا لہ دور اور تحریک انصاف کی حکومت کی تین سالہ کاکردگی کا موازنہ کے لئے انہیں مناظرے کا چیلنج دیتا ہوں اگر تحریک انصاف کی کاکردگی ثابت نہ کرسکا توسیاست سے استعفیٰ دیکر سلیم خان کو اپنا سیاسی گرو تسلیم کردونگا بصورت دیگر سیلم خان کو قوم سے معافی مانگ کر تحریک انصاف کی کارکردگی کا اعتراف کرنا ہوگا‘ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ کسی علاقے کے ساتھ سیاسی بنیادوں پر ناانصافی نہ کی جائے یہی وجہ ہے کہ جن حلقوں سے اپوزیشن پارٹیوں کے نمائندے منتخب ہوئے ہیں وہاں پر بھی برابری کی بنیاد وں پر ترقیاتی کام جاری ہیں ‘ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ موصوف کی طرف سے صوبائی حکومت کی اس منصفانہ پالیسی کی حمایت کی کھبی بھی توفیق نہیں ہوئی اگرچہ موصوف کی سیاسی تربیت ایسی ہوئی ہے کہ ان سے اس بڑے پن کے توقع نہیں کی جاسکتی لیکن چونکہ موصوف ایک شائستہ طبیعت کے مالک ہیں اسلئے اخلاقی طور پر ہم ان یہ توقع کر رہے تھے کہ وہ حکومتی کارکردگی کو تسلیم کریں گے لیکن جب کہیں بھی انہیں موقع ملتا ہے ‘وہ تحریک انصاف کی حکومت اور پارٹی کے ورکروں پر تنقید کے نشتر چلاتے نظر آتے ہیں ‘لیکن صوبائی حکومت کے منصوبوں کا کریڈٹ بھی لینے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں ‘ چونکہ تعلیم ‘ صحت ‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی تحریک انصاف کے انتخابی ایجنڈے کا حصہ تھے اس لئے ان شعبوں میں پورے صوبے میں بلا کسی تفریق کے کام جاری ہے ‘ ہم نے سلیم خان سے گزشتہ حکومت کی پانچ سالہ کارکردگی کا حساب کبھی نہیں مانگا باوجود اس کے کہ وفاق اور صوبے میں اس کی پارٹی برسراقتدار تھی ‘ اگر وہ اپنے دور حکومت میں کچھ نہ کرسکے تو اس کی ذمہ داری تحریک انصاف یا پھر اس کی صوبائی حکومت نہیں‘ انھوں نے کہاکہ ترقیاتی کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے تو آج چترال کے دونوں ممبران اسمبلی صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرتے سستی شہرت حاصل نہیں کر پاررہے ہوتے ‘ اس سیاسی کلچر کی بنیاد بھی تحریک انصاف نے ڈالی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کو بھی ترقیاتی کاموں میں نظر انداز نہیں کرتی ‘ لیکن سلیم خان سستی شہرت کے لئے صوبائی حکومت کو تنقید کانشانہ بنا رہے ہیں اس لئے میں انہیں چیلنج کرتا ہوں کہ سلیم خان کہ وہ25نومبر 2016 ء بروزجمعہ کو اپنے پیپلز پارٹی کی گزشتہ پانچ سا لہ دوراقتدار کی کارکردگی کے ثبوت اور اعدادوشمار کے ساتھ چترال پریس کلب میں مناظرے کے لئے حاضر ہوجائیں ‘ جہاں میں تحریک انصاف کی حکومت کی تین سالہ کاکردگی کی تفصیلات کے ساتھ ان کا منتظر رہوں گا اگر تحریک انصاف کی کاکردگی ثابت نہ کرسکا توسیاست سے استعفیٰ دیکر سلیم خان کو اپنا سیاسی گرو تسلیم کردونگا بصورت دیگر سیلم خان کو قوم کے ساتھ مسلسل غلط بیانی پرمعافی مانگ کر تحریک انصاف کی کارکردگی کا اعتراف کرنا ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

داد بیداد …..میرٹ یا اہلیت 

میرٹ کا انگر یزی لفظ ہماری زبان میں بار بار استعمال ہو تا ہے اس ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔