fbpx
تازہ ترین

وزیر اعظم کی طرف سے اعلان کردہ ہسپتال کے لئے NOC کی نہیں فنڈزکی ضرورت ہے۔عبدالطیف سابق ضلعی صدر پی ٹی آئی

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)عبدالطیف سابق ضلعی صدر پاکستان تحر یک انصاف نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) چترال کی طرف سے خصوصاً اور دیگر پی ٹی آئی اے مخالف جماعتوں کی طرف سے ایک گمراہ کن خبر پھیلانے کی کو شش کی جا رہی ہے جس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ چترال میں وزیر اعظم کی طرف سے اعلان کردہ ہسپتال کی تعمیر میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت رکاوٹیں ڈال رہی ہے جو کہ حقیقت پر مبنی نہیں چترال کے عوام کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے اعلان کردہ ہسپتال کے لئے جو مراسلہ چیف سیکرٹری کے پی کے کو بھیجی گئی ہے اس میں مجوزہ ہسپتال کے لئے زمین کی فراہمی کی بات کی گئی ہے ۔ لیکن اس زمین کی خریداری کے لئے ایک روپیہ بھی وفاقی حکومت کی طرف سے فراہم نہیں کیا گیا اس صورت میں کہ چترال میں صوبائی حکومت کی کوئی ملکیتی زمین موجود نہیں اور جو بھی نئی عمارت بنائی جائیگی اس کے لئے عوام سے زمین خریدی جاتی ہے جو کہ ظاہر ہے مفت میں دستیاب نہیں اس لئے اس غلط فہمی کو دور ہونا چاہیے کہ خدانخواستہ صوبائی حکومت اس منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں چونکہ زمین کی خریداری کے لئے کروڑوں روپے درکار ہیں اور وفاقی حکومت اگر یہ رقم صوبائی حکومت کو فراہم کر دے تو صوبائی حکومت زمین کی خریداری کی پابند ہو گی۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ یہ منصوبہ بھی مری کے اس ہسپتال کی طرح ہے جس کی تعمیر کا اعلان 2009میں کیا گیا لیکن ابھی تک اس پر عملی کام شروع نہیں ہو سکا ۔ مسلم لیگ (ن) کے لیڈران کو چاہیے کہ وہ زمین کی خریداری کے لئے وفاقی حکومت سے فنڈز کا بندوبست کریں کریڈٹ لینے کے لئے تو سب حاضر ہیں لیکن اب عملی کام کا وقت آ گیا تو ذمہ داری صوبائی حکومت پرڈال کر عہدہ برا نہیں ہو سکتے اور ہم انہیں بھاگنے بھی نہیں دینگے جس طرح پانامہ کی رسیدیں مانگنا ہمارا حق ہے اسی طرح ہسپتال کی تعمیر کے لئے زمین کی خریداری سے لیکر تمام تعمیراتی کام کی تکمیل تک فنڈز کی فراہمی وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہم کسی کو بھی اس ذمہ داری سے حیلے بہانوں کے ذریعے بھاگنے نہیں دینگے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق