ایک سال چار مہینے گذرنے کے باوجود ضلعی ہیڈکوارٹر کے دو پیدل پلوں کی بحالی میں پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | تازہ ترین | ایک سال چار مہینے گذرنے کے باوجود ضلعی ہیڈکوارٹر کے دو پیدل پلوں کی بحالی میں پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی

ایک سال چار مہینے گذرنے کے باوجود ضلعی ہیڈکوارٹر کے دو پیدل پلوں کی بحالی میں پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)چترال کے عوامی اورسماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کوچترال ٹاون گول نالہ کے پیدل پلوں کی جگہ کا دورہ کرایا جائے تاکہ گذشتہ سال جون میں آنے والے سیلاب کے بعد ایک سال چار مہینے گذرنے کے باوجود ضلعی ہیڈکوارٹر کے دو پیدل پلوں کی بحالی میں پی ٹی آئی حکومت کی ناکامی کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔تاکہ میڈیا کو بھی اس بات کا اندازہ ہوجائے کہ سیلاب اور زلزلے سے متاثر ہونے والے سرکاری اور نجی املاک کی بحالی میں صوبائی حکومت بُری طرح ناکام ہوگئی ہے۔امیر حیدر خان ہوتی اگر چترال ٹاون کے وسط میں واقع دو پیدل پلوں کی جگہ کا معائنہ کرے گا تو حزب اختلاف کی اہم سیاسی جماعت کے صوبائی سربراہ اور رکن قومی اسمبلی چترال عوام کی فریاد لیکر صوبائی دارلحکومت میں پی ڈی ایم اے اور وفاقی دارلحکومت میں این ڈی ایم اے کو بھی آئینہ دکھا سکینگے۔چترال ٹاون میں چترال گول نالہ کے دونوں پیدل پل ٹاون کی آبادی کے لئے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ان پلوں پر روز انہ سینکڑوں طلباء اور طالبات سکول آتی جاتی تھیں۔ان میں سے ایک پل ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے تھا۔دوسرا پُل زنانہ ہائی سکول کے قریب واقع تھا۔جون 2015 کے سیلاب کے بعد اگر حکومت توجہ دیتی تو10لاکھ روپے میں دونوں پُل ایک مہینے کے اندر بحال ہوسکتے تھے۔ایک پُل کی جگہ دوسرے ضلع کے کاریگر نے جھولہ پُل لگایا ہے۔10روپے کرایہ لیکر سکول جانے والے بچوں اور بچیوں کو سہولت دیتا ہے۔دوسرے پُل کی جگہ سکول کی بچیاں نالے لے اندر آکر سیڑھیوں کے ذریعے آرپار سفر کرتی ہیں۔اور دونوں پُل پی۔ٹی ۔آئی کی صوبائی حکومت کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔سیاسی اور سماجی حلقوں نے عوامی نیشنل پارٹی کی مقامی قیادت مولانا عبدللطیف،سید مظفر حسین جان اور ایم آئی خان سرحدی ایڈوکیٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کو چترال گول نالہ کے اوپر دو پیدل پُلوں کی جگہوں کا دورہ ضرور کرایا جائے۔چترال کے عوام گذشتہ سوا سالوں سے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے اپیلیں کرتے ہیں مگر ان اپیلوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔سینکڑوں بچے اور بچیاں روزانہ ان پُلوں پر سفر کرتے تھے ٹاون کے دس ہزار عوام ان پُلوں سے گذرتے تھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

داد بیداد …..میرٹ یا اہلیت 

میرٹ کا انگر یزی لفظ ہماری زبان میں بار بار استعمال ہو تا ہے اس ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔