دھڑکنوں کی زبان…….’آئی ایم یو ۔۔آزاد ما نیٹیرنگ یونٹ‘‘ – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | مضامین | محمد جاوید حیات | دھڑکنوں کی زبان…….’آئی ایم یو ۔۔آزاد ما نیٹیرنگ یونٹ‘‘

دھڑکنوں کی زبان…….’آئی ایم یو ۔۔آزاد ما نیٹیرنگ یونٹ‘‘

…………………..محمدجاوید حیات…………………….

بعض چھوٹی باتیں بڑی لگتی ہیں بڑے کام چھوٹے لگتے ہیں ۔۔دنیا میں اصلاح کی چھوٹی بات اور چھوٹے کام بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔۔اس کو ’’چراغ‘‘سے تشبیہ دی گئی ہے ۔۔اور ’’چراغ‘‘یقیناًروشنی کا ضامن ہے ۔۔
موجودہ حکومت نے محکمہ تعلیم میں آی ۔ایم ۔یو ۔نام سے ایک سسٹم متعارف کرائی ہے ۔یہ محکمہ کے اندر کاموں کو اپنے دائرہ کار کے مطابق چیک کر تا ہے سالانہ رپورٹ تیار کر تاہے اور اس رپورٹ کے مطابق سکولوں کو انعامات سے نوازا جاتا ہے۔۔عملہ تعینات کئے گئے ہیں ۔نوجوان عملہ ہے ۔ضلعی نگران آفیسر ایک نوجوان ہے ۔۔اداروں کے اندر کاموں کی وقتا فوقتا نگرانی کی جاتی ہے ۔۔رپورٹ لی جاتی ہے ۔محکمے کے اعلی ٰ آفیسروں کا کا م ہلکا ہو گیا ہے ۔۔اداروں کا ایک معیار متعین کیا گیا ہے۔۔۔
پچلے دنوں نوجوان ضلعی مانیٹرنگ آفیسر طارق محمودنے بمبوریت کا دورہ کیا ۔نوجوان آفیسر کو اپنے کام سے محبت ہے ۔اپنے فرائض کے ساتھ خلوص ہے ۔آنکھوں میں صفت شاہینی ہے ۔تیز طرار،مضبوط وژن،بلاکا اعتماد ،زیرک،قوت فیصلہ،موقع محل سمجھنے والا،مہذب ،استاد کو استاد کا مقام دینے والا،تعمیراتی کاموں کا کڑی نگران،پیسے کے معاملے میں سخت امانت کا پاس رکھنے والا پختہ کار ۔۔اس کو یقین ہے کہ استاد قوم کا پیسہ ضائع نہیں کرے گا ۔۔۔اچھا لگا کہ یہ قوم با صلاحیت نوجوانوں سے ملامال ہے ۔ائی ۔ایم ۔یو کے کام کا نتیجہ آرہا ہے ۔۔اگر کہیں کوتاہی کمزوری ہے وہ درست ہوتی جا رہی ہے ۔۔بے قاعدگیاں با قاعدگیوں میں تبدیل ہوتی جارہی ہیںَ ۔۔فرائض میں کوتاہیاں نگرانی کے اندیشے سے ختم ہوتی جارہی ہیں ۔۔سکولوں میں سہولیات کی عدم موجودگیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے ۔۔نوجواں عملہ اساتذہ سے احترام سے ملتے ہیں ۔ان کو احساس ہے کہ ’’جوہری ‘‘کو ’’جوہری‘‘کی نظر سے دیکھنا چاہئے ۔۔معماروں کا مقام مسلمہ ہوتا ہے ۔۔اگر ان میں سے کسی کے رویے کو مائنڈ کیا جاتا ہے تو مائنڈ کرنے والے کو سو چنا ہوگا کہ کیا وہ ہر مقام کو صرف بزرگی سے ناپتے ہیں سیانوں کے نزدیک بزرگی دنوں کے اعداد و شمار کا نام نہیں ۔ممکن نہیں کہ ہر عمر میں بڑا ہر صلاحیت سے ملامال ہو ۔مقام معیار اور صلاحیت سے بنتا ہے ۔۔جو استاد محنتی ہے وقت کا پابند ہے ۔فرائض میں کوتاہی نہیں کرتا وہ زمانے کو یاد رہتا ہے ۔۔ایسا پیشہ ور استاد اس سسٹم سے مطئمین ہے ۔اسی سسٹم کی رپورٹ کی بنیاد پر سالانہ مختلف سکولوں کو انعامات سے نوازا جاتا ہے ۔اساتذہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔۔اداروں کا تعارف ہوتا ہے ۔۔نگرانی ایک عالمگیر حقیقت ہے ۔کائنات کا نگران اعلیٰ خود خالق کائنات ہے ۔۔انسان کمزوریوں کا پتلاہے ۔۔وہ ہمیشہ سسٹم کے اندر رہا ہے ۔۔یہی سسٹم اللہ کی طرف ہدایت ہے ۔۔اور پھر ماں کی گود سے شروع ہوکر قبر کے کونے تک پھیلا ہوا ہے ۔۔ائی ۔ایم ۔یو بھی ایک مثبت سوچ ہے ۔اس کو مذید مضبوط کرکے اس کا دائرہ کار اور دائرہ اختیار واضح کی جائے ۔محکمے کے اندر بھی ایک مانٹیرنگ یونٹ ہو ۔۔وہ کلاس روم سے لے کر امتحانات تک کے کام کی نگرانی بغیر کسی مصلحت کے کرے ۔۔جب کام میں شان و شوکت آجاتی ہے تو کام کرنے میں لطف ملتا ہے ۔۔کسی بھی کام کے کرنے کے معیارات ہیں ۔۔کام کرنے والے کا خون پسینہ ایک ہو جائے تو اس کو ’’محنت‘‘ کا نام دیا جاتا ہے ۔۔ورنہ اس مرحلے کو کوئی نام نہیں دیا جا سکتا ،کوئی اس کو ’’ کام ‘‘ کا نام نہیں دے گا ۔۔ڈی ۔ایم ۔او نے بمبوریت کا دورہ کیا ۔اس کی سرگرمیاں اچھی لگیں ۔اپنے نوجوانوں پر فخر ہونے لگا ۔۔اور پھر یہ سوچ کہ معماروں کے کھٹن کام کی نگرانی بھی کھٹن ہے ۔۔خواب ہے کہ امتحانات بھی ’’امتحان ‘‘بن جائیں اور صلاحیت جانجنے کا معیار بن جائیں ۔صلاحیت نہ چھینی جا سکتی ہیں نہ چوری کی جا سکتی ہیں ۔۔اس لئے آج اس مقابلے اور صلاحیتوں کے کھٹن دور میں ہمیں اپنا خیال رکھنا ہوگا۔۔۔اساتذہ کو ائی۔ ایم ۔یو کے عملے سے ہر قسم کا تعاؤن کرنا چاہیئے ہے درست رپورتنگ ہو امتحانات سخت سے سخت ہوں ۔ہمیں مقدار سے زیادہ معیار کی ضرورت ہے ۔۔۔ہمیں ’’آج‘‘ سے زیادہ ’’کل ‘‘کی ضرورت ہے اور کل ’’معیار‘‘ مانگتا ہے معیار ہی وہی اصطلاح ہے جس کو قرآن عظیم الشان نے ’’رجل الرشید‘‘کہا ہے ۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

دھڑکنوں کی زبان ……..بشیر لالہ ایک ہمہ جہت شخصیت

بعض لوگ کرشماتی شخصیت کے مالک ہوتے ہیں ۔اللہ تعالی نے ان کی زات میں ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔