fbpx
تازہ ترینمحمد صابر

چائینہ پنجاب اقتصادی راہداری

ـ ـ ـ ـ ـ ـ محمد صابر گولدور چترال ـ ـ ـ ـ ـ ـ
چائینہ پنجاب اقتصادی راہداری کا نام سن کر آپ کو حیرت اور تعجب تو ہوگا اور ہونی بھی چاہئے آج تک ہم چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری کا نام ہی سنتے آئے ہیں ـ مگر اچانک یہ نام کہاں سے آگیا ـ میں آپ کو مزید کسی کشمکش میں ڈالنا  نہیں چاہتا دراصل یہاں بات سی پیک یعنی چائینہ پاکستان اقتصادی راہداری  ہی کی ہو رہی ہے ـ  مگر میں آپ کے سامنے بات کو اس انداز سے اس لیے رکھ رہا ہوں کہ آپ بات کو صحیح معنوں میں سمجھ سکے اور معاملے کی سینگینی کا بخوبی اندازہ لگا سکے  ـ
آج کل پاکستان میں ہر ایک کے زبان پر  سی پیک کا نام زبان زد عام ہے ـ آخر یہ سی پیک ہے کیا ؟ اور اس کی کیا افادیت و اہمیت ہے ؟ گوادر پورٹ اور گواڈر سٹی مستقبل میں پاکستان کی معیشت کےلیے کیا اہمیت رکھتے ہیں؟ اس جیسے اور بے شمار  سوالات جو کہ ہمارے دلوں و دماغ میں گھوم رہے ہیں ان کا جواب ہم سبھی جاننا چاہتے ہیں ـ
جیسا کہ ہم سب کو بخوبی علم ہے دنیا میں بڑی تیزی کے ساتھ معاشی لحاظ سے  ابھرتی ہوئی طاقت جس کا نام چائینہ ہے پاکستان کا قریبی دوست ملک ہے ـ جس نے اپنی پیداواری صلاحیت کے بل بوتے پر قریبا ہی ساری دنیا کو اپنی گرفت میں جکڑا رکھا ہے ـ وہ امریکہ ہو یا اسٹریلیا یورپین ممالک ہو کہ گلف ممالک یا افریقن ممالک چائینہ سبھی جگہ چھا گیا ہے ـ جن ممالک کا نام لیا گیا ہے چائینہ کی کمپنیز اور مصنوعات ان ممالک میں اربوں کھربوں ڈالرز کے کاروباری لین دین میں سرگرم عمل ہیں ـ چائینہ اپنی مصنوعات کو ان ممالک کو ایکسپورٹ کرنے کےلیے سمندری راستہ استعمال کرتا آیا ہے جو کہ سی پیک کے روٹ کاشغر ٹو گواردر کے مقابلے میں دوگنا تگنا ہے ـ سمندری روٹ کی مسافت زیادہ ہونے کے ساتھ امریکہ اور جاپانی بحری افواج کے سمندری جہاز بھی اسی سمندر میں لنگر انداز ہیں ـ سمندری روٹ میں جزیرے بھی آتے ہیں جن پر چین کا قبضہ ہے امریکہ اور فلپائن ان جزائر پراپنا حق جتاتے ہیں ـ جبکہ چین نے ہر بار ان باتوں کو مسترد کیا ہے ـ ان وجوہات کی بنا پر سی پیک کاشغر ٹو گوادر نہایت کم مسافت کے ساتھ محفوظ اور مناسب  ترین روٹ ہے ـ  مگر ایک اور  پہلو دہشتگردی جو کہ سی پیک کےلیے خطرے ہے ـ
چین کی مصنوعات پاکستان کے شہر گوادر سے ہو کر ساری دنیا کو جائیں گے ـ اس لحاظ سے پاکستان براہ راست چائینہ کی ایکسپورٹ اینڈ امپورٹ میکینزم کا حصہ بن جائے گاـ سی پیک کی وجہ سے  پاکستان میں روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہونگے ـ  گوادر پورٹ بہت جلد دنیا کے بڑے بندرگاہوں کی طرح خطے میں ترقی و خوشحالی میں اپنا حصہ ڈالے گاـ دنیا کی بڑی بڑی بندرگاہیں امریکہ کی بڑی بندرگاہ ہو کہ اسٹریلیا کی یا دبئی کی بندرگاہ گوادر پورٹ ان سے کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہے ـ اس کے ساتھ گوادر بھی دبئی سٹی  ہانگ کانگ اور دنیا کے دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی شہروں کی طرز پر مثالی آڈیل ماڈل سٹی بننے جارہا جارہا ہے ـ
مگر ! یہ سب باتیں اپنی جگہ ہیں وفاق میں نون لیگ کی حکومت ہے اور سی پیک جیسے میگا پراجیکٹ نون لیگ کے ہاتھوں میں ہے جس کو کمانڈ  احسن اقبال صاحب کر رہے ہیں ـ پہلے ہی بہت سارے پراجیکٹز جیسا کہ نندی پور پاور پراجکیٹ میٹرو بس سروس اور قائد اعظم سولر پارک بہاولپور جن پر اربوں کھربوں روپے صرف ہونے کے بعد بھی  جن کی کریڈیبلیٹی پر سوالیہ شان اٹھائے جاتے ہیں ـ جوکہ ہماری آنکھوں کے سامنے تکمیل کو پہنچے ، جن کا حشر نون لیگ کے ہاتھوں بہت برا ہواـ
مجھے خدشہ لاحق ہے نون لیگ سی پیک کو کرپشن یا بد نظمی کی نظر نہ کرے ـ  سی پیک میں تمام صوبوں کےلیے یکساں ترقیاتی پراجیکٹز ہیں ـ جیسا کہ صوبہ بلوچستان کےلیے 16 صوبہ سندھ کےلیے 13 صوبہ پنجاب کےلیے 12 اور صوبہ خیبر پختونخواہ کےلیے 8 پراجیکٹز ہیں ـ مگر بظاہر ایسا نہیں لگتا کیونکہ وفاقی حکومت باقی صوبوں کو اعتماد میں لیے بغیر سارے فیصلہ خود ہی کیئے جارہا ہے ـ جن عوامل کی بنا پر صوبہ خیبر پختونخواہ کی سیاسی جماعتیں احتجاج کر رہی ہیں کہ صوبے کو سی پیک کے ثمرات سے محروم کیا جارہا ہے ـ  خدانخواستہ ان وجوہات کی بنا پر ملک میں افراتفری کی سیاست شروع ہوتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف نون لیگی قیادت پر عائد ہوگی  ـ
بدقسمتی سے سی پیک کے حوالے سے جو ذمہ داریاں حکومتی عہدیداروں کی ذمے ہیں حکومتی عہدیدار ان سے غافل ہیں اور یہ ذمہ داریاں بھی چائینیز سفارتکار اپنی خوش اصلوبی سے ادا کر رہے ہیں ـ ملک دشمن عناصر جو ہمہ وقت سی پیک کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں حکومتی سطح پر ان کے خلاف مکمل خاموشی ہے ـ جبکہ یہ کام بھی چائینیز سفارت کار اپنی ممکنہ حد تک کررہے ہیں ـ اگر آپ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹز مثلا فیس بک یا ٹوئیٹر استعمال کرتے ہیں تو آب بخوبی اندازہ کر سکیں گے کس طرح سی پیک کا چائینیز دفاع کررہے ہیں ـ اب وقت آگیا ہے کہ باہمی مشاورت اور ہم آہنگی کے ساتھ سی پیک کو پنجاب کی حد تک محدود نہ کرے اور اس کا دائرہ کار باقی صوبوں تک بھی پہنچائے  تاکہ ہم سب اس کے ثمرات سے مستفید ہوں ـ
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق