fbpx
تازہ ترین

موڑکھو میں گزشتہ سال سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر بحالی کے کاموں کے لئے ایک انٹگریٹڈ پراجیکٹ کا آغاز کیا جار ہا ہے۔حاجی مغفرت شاہ

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) ڈسٹرکٹ ناظم چترال مغفرت شاہ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی بلدیاتی اداروں کے ساتھ سر د مہری اور غیر سنجیدہ روئیے کے باوجود ضلعی حکومت نے اپنی بساط بھر عوام کی خدمت کا فریضہ انجام دیا ہے اور تمام علاقوں کو مساویانہ بنیادوں پر توجہ دی جارہی ہے اورہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم عوام میں سے ہیں ، عوام کے اندر ہی رہیں گے اور ان کے دکھ سکھ میں ان کے ساتھ رہنے کا گر بھی جانتے ہیں۔موڑکھو کے موردیر میں گسوٹی گراونڈ میں فٹ بال ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کے موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موڑکھو میں گزشتہ سال سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر یہاں بحالی کے کاموں کے لئے ایک انٹگریٹڈ پراجیکٹ کا آغاز کیا جار ہا ہے جس کے لئے ضلعی حکومت نے طویل جدوجہد کی ہے اور اس پراجیکٹ کے تحت تمام سیلاب برد انفراسٹرکچروں کی بحالی ممکن ہوسکے گی جبکہ موژگول کے مقام پر آرسی سی ٹرک ایبل پل کی تعمیر بھی ضلعی حکومت کی ترجیحات میں شامل رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ موردیر کے تاریخی اور خوب صورت گاؤں کو سابق ایم پی اے ذین العابدین اور ممبر ڈسٹرکٹ کونسل امیر خان جلالی جیسے شخصیات کا جنم بھومی ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اس گاؤں میں اتحاد واتفاق کا مثال بھی ہر گاؤں میں دیا جاتا ہے۔ضلع ناظم نے کہاکہ اس گراونڈ کی توسیع پر دس لاکھ روپے خرچ ہورہے ہیں اور بھی مزید فنڈز کی ضرورت پڑنے پر ضلعی حکومت فراہم کرے گی تاکہ یہاں ایک معیاری پلے گراونڈ نوجوان نسل کو میسر ہوسکے۔ انہوں نے ٹورنامنٹ جیتنے والی ٹیم اور ٹورنامنٹ انتظامیہ کے ل ئے دس دس ہزار روپے اور رنر اپ ٹیم کے لئے پانچ ہزار روپے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ضلع کونسل کے موڑکھو سے ممبر مولوی جاوید حسین، یونین کونسل موردیر کے نائب ناظم غلام سرور اور دوسرے عمائدین کثیر تعداد میں موجود تھے۔ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کو موردیر ٹیم نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد وریجون ٹیم سے جیت کر ٹرافی حاصل کرلی۔ مقررہ وقت میں دو گولوں سے برابر رہنے پر فیصلہ پینلٹی کک کے ذریعے ہوا جس میں موردیر کی ٹیم نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق