fbpx
تازہ ترین

ہماری تعلیم متاثر ہورہی ہے

……………….فلک ناز کلاس فرسٹ ائیر گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج چترال ………
جہاں دنیا ترقی کے منازل طے کرتے ہوے آسمان کی بلندہوں کو چھو رہی ہےوہاں ہم صرف رشک کی نگاہ سے اس خلائی دور کو دیکھ رہے ہیں-کھبی سوچا ہے کہ آج کا پاکستان قائد کا پاکستان کیوں نہیں؟ آج کا پاکستان وہ پاکستان نہیں جس کا خواب شاعر مشرق نے دیکھا تھا- وہ تو چاہتے تھے کہ قوم کے شاہین عقابی روح اپنالیں اور آسمان کی بلندیوں میں پرواز کریں- ہم قائد کا پاکستان اور اقبال کی خواب کو تعبیر نہیں بناپاۓ کیونکہ ہم آج بھی روز اوّل کی طرح بہت سے مسلٔے مسائل کا شکار ہیں- جن کی وجہ سے ہماری ترقی کی راہیں ابھی تک مسدود ہیں۔ یقیناً ملک کی ترقی میں بہت سے عوامل کا دخل ہوتا ہے۔ مگر سو میں سے بیاسی فیصدترقی کا دارومدار طالب علموں پر منحصر ہے۔ مختصراً ترقی کی راہوں میں اگے بڑھنے کے لیۓ طالب علموں کو آگے لانا ضروری ہے مگر افسوس صد افسوس ایک ہفتے سے گورنمٹ گرلز ڈگری کالج چترال کے اساتذہ اسٹرایک پہ ہیں مگر حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی۔ اساتذہ تو قوم کے معمارہوتے ہیں وہ قوم کو مضبوط بناتے ہیں انہیں ایسا موقعہ تو دینا ہی نہیں چاہیے کہ یہ بغاوت پر اتر آئیں۔ خیر کوئی بات نہیں ان کی طرف توجہ کی کمی ہوئی ہوگی لیکن اب جبکہ یہ اپنی جائز مطالبات کر رہے ہیں تو وہ کیوں پائہ تکمیل کو نہیں پہنچ رہےہیں ۔ ارے خدا کے بندوں قوم کے معماروں کو جانے انجانے میں اپنے ہی ہاتھوں سے کیوں برباد کر رہے ہو۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ جیسے اپنے پیروں پر خود کلہاڑی مارنا۔ کیا تعلیم حاصل کرنا ہمارے بنیادی حقوق میں شامل نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو اور بات ہے۔ ہاں اگر یہ ہمارا حق ہے تو کیوں ہم اس بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔ کیا پاکستان میں پیدا ہونا میرا اتنا بڑا قصور ہے۔ کہ مجھے تعلیم کے مسائل سے بھی دوچار ہونا پڑے گا۔ خدارا رحم کریں، کچھ خوف کریں خدا کا۔ اساتذہ کے مسائل کو زیر بحث لے آئیں۔ ان کے جائز مطالبات پورے کیۓ جائیں۔ تاکہ ہمیں کوئی مسائل درپیش نہ ہوں۔ ایک ہی کالج کے پندرہ سو سے زائد طلبہ متاثر ہوں گے تو کیا قوم کو اس کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا؟ قوم افراد کا مجموعہ ہوتا ہے تو ظاہر سی بات ہے جب قوم کے طالبعلم متاثر ہو کہ خون کے آنسو روئیں گے تو وہ ملک ترقی کی راہوں پر کبھی بھی گامزن نہیں ہوسکتا۔ جلد از جلد اس مسلۓ کا حل تجویز کریں ہم پر بہت ظلم ہوچکاہے اب مذید ہم یہ ظلم برداشت نہیں کر سکتے۔ جاگ جائیے مہربان جاگ جائیے اور دیکھۓ ارد گرد کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے۔ اگر ہم نے یہی دوش اختیار کی تو وہ دن دور نہیں کہ صفحہ ہستی سے ہمارا نام ونشان ہی مٹ جائے گا۔ اسی لیۓ ہمارے اساتذہ کے مسائل پر غوروفکر جلدازجلد کریں اور ہمیں ہمارے کلاسیس لوٹائیں تو کرم نوازش ہوگی۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق