fbpx
محمد صابر

پاک چین اور روس مشترکہ مذاکرات

 ـ ـ ـ ـ ـ ـ محمد صابر گولدور چترال ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ
خطے میں مخصوص علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں سے پاکستان چین اور روس کو خطرات لاحق ہیں افغان امن کے سلسلے میں تین ممالک  پاکستان چین اور روس کا مشترکہ اجلاس اگلے ماہ دسمبر میں  روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہونا ہے ـ
ادھر اقوام متحدہ میں ستمبر میں اس سے قبل افغانستان بھارت اور امریکہ کا سہ فریقی اجلاس ہوا تھا  ـ تاہم اس معاملے کی سنگینی کا احساس پاکستان چین اور روس کو بھی تھا امریکہ اور بھارت خطے میں پراکسی وار کےلیے افغانستان سرزمین کو فیورٹ قرار دیتے ہوئے پراسرار اور بھیانک  گیم کھیل رہے ہیں مگر ان کی مکر و فریب سے نئی صف بندیاں جنم لینے پر مجبور ہو چکی ہیں ـ جیسا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاک روس کا اتنے ایک دوسرے کے قریب آنا ہے ـ
1980 کے سرد جنگ سے پاک روس تعلقات نہایت خراب صورت حال سے دوچار تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پاک روس تعلقات ڈرامائی موڑ لے چکی ہے اب دونوں ممالک افغانستان میں امن عامہ کےلیے مشترکہ کوششیں کرنے جارہی ہیں ـ
تاریخ میں پہلی دفعہ روس سہ فریقی مشترکہ اجلاس جس میں پاکستان بھی شریک ہے کی میزبانی کرنے جارہی ہے خیال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ یہ  پیشرفت خطے میں نئی صف بندیوں کا حصہ ہے ـ
گزشتہ ماہ روس کی افواج نےاور  پاکستانی افواج نے تاریخ میں پہلی دفعہ مشترکہ جنگی مشقیں کی تھی  بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد روس سے درخواست کی تھی کہ روس پاکستان کے ساتھ فوجی مشقیں نہ کرے  باوجود بھارت کے درخواست کے روس نے بھارت کی ایک نہ سنی اور طے شدہ شیڈول کے مطابق جنگی مشقیں پاکستان کے ساتھ جاری رکھی ـ
حالیہ تازہ پیش رفت کی وجہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے والی مودی سرکار خود تنہائی کا شکار ہو چکا ہے جس کی واضح مثال بھارت کا ماسکو مشترکہ اجلاس میں عدم شمولیت ہے ـ
ذرائع کے مطابق اس اجلاس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں غور کیا جائے گا کہ وہ کونسے عوامل ہیں جن کی بنا پر افغانستان میں دیرپا امن قائم نہ ہو سکا جو کہ خطے کی بہترین مفاد میں ہے ـ
غیر ریاستی عناصر افغانستان کے بگڑتی ہوئی صورت حال سے فائدہ اٹھا کر اپنی گرفت افغان سرزمین میں مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور پھر افغان سرزمین کو پاکستان چین اور روس کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں ـ اس تناضر میں پائیدار اور طویل مدتی امن عامہ کی راہ ہموار کرنے میں یہ تین ممالک کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ـ
برسوں سے افغانستان خانہ جنگی اور دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے اس بنا پر مقامی آبادی وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوکر پاکستان ایران اور بیرون ممالک کا رخ کر کے اپنے وطن کو غیروں کےلیے عام چھوڑ چکے ہیں اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر غیر ریاستی عناصر نے اس سرزمین کو دہشتگردی کےلیے خوب خوب استعمال کیا ـ
اسلام آباد بیجنگ اور ماسکو کا اجماع اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ـ
پاکستان کو افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اہم ملک تصور کیا جاتا ہے ـ طالبان اور افغان حکومت کے مابین پہلی دفعہ مذاکرات پاکستان ہی نے منعقد کرائے تھے جو کہ مزید آگے نہ چل سکی بعد میں ایک مرتبہ پھر براہ راست مذاکرات کی مزبانی پاکستان نے کی جس میں افغانستان کے علاوہ امریکہ اور چین بھی شامل تھے ـ
حالیہ سہ فریقی مشترکہ اجلاس گزشتہ تمام تر پیش رفت سے بڑا ہے اور اہم ہے جس سے خطے میں  نئی صف بندیاں جنم لیں گی ـ
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق