Chitral Express

Chitral's #1 Online News Website in Urdu | Politics, Sports, Islam

رُموز شادؔ ۔۔’’جاہلوں کا جہاں‘‘۔۔

ا رشاد اللہ شادؔ ۔ بکرآباد چترال………

……..’’جاہلوں کا جہاں‘‘

اللہ کا وہ نور ہے ، جو آفتاب کی چھاؤں میں نظر آرہا ، جو مہتاب کی کرنوں میں نظر آرہا ، جو تاروں کی جھلملاہٹ میں نظر آرہا، سر بفلک سفید پوش چوٹیوں میں نظر آرہا، ہوا کی لہروں میں اس کا نور نظر آرہا، پانی کی موجوں میں اس کا نور نظر آرہا ، کلیوں کے مسکرانے میں اللہ کا نور نظر آرہا، گلاب کے سرخ جوڑ ے میں اللہ کا نور نظر آرہا، گندم کا پھٹ کر فصل کی شکل میں تیار ہوکر اور خوشوں سے بھر کر ، دانوں سے بھر کر، ٹوٹنے کو تیار ہو کر ہمارے گھر پہنچنے کا راستہ بنوا کر ، یہ ساری چیزیں بتا رہی ہیں کہ اللہ کا نور ایک ایک ذرّے میں ، ایک ایک پتے میں، پانی کے ایک ایک قطرے میں، ہوا کے ہر جھونکے میں، اللہ کا نور جسے نظر نہ آیا وہ سب سے بڑا اندھا ، وہ سب سے بڑا جاہل ، وہ سب سے بڑا نادان، نا سمجھ ، نا شکر، نافرمان جس نے اللہ کے خاموش پیغام کو نہ سنا، جس نے ہواؤں کی سنسناہٹ کو سن کر اللہ کو نہ پہچانا، جس نے برستے بادلوں سے قطرے قطرے کو زمین پر گرتے دیکھ کر اللہ کو نہ پہچانا، جس نے بجلیوں کی چمک سے اپنے اللہ کو نہ پہچانا، جس نے بادلوں کی گرج سن کو اپنے اللہ کو نہ پہچانا، جس نے عقاب کی بلند پرواز سے اور اس کی جھپٹ سے اپنے اللہ کو نہ پہچانا، اور جس نے بلبل کے خوبصورت نغمے سے اپنے اللہ کو نہ پہچانا، جس نے ہرن کے نافے میں خون کے اندر مشک کو دیکھ کر اپنے خالق کو نہ پہچانا، جس نے ریشم کیڑے کی تھوک سے ریشم کی دھاگے کو بنتے ہوئے دیکھ کر اپنے اللہ کو نہ پہچانا، جس نے شہد کی مکھی میں پانی کو جاکر رس کو جاکر شہد میں بدلتا دیکھ کر اپنے اللہ کو نہ پہچانا، جس نے چٹیل میدانوں کو دیکھ کر اپنے مالک کو نہ پہچانا، جس نے پہاڑی سلسلوں کو دیکھ کر اپنے معبود کو نہ پہچانا، جس نے ہیرے ، زمرد، یاقوت، مرجان، عقیق کے حسن و جمال کو دیکھ کر اپنے پروردگار کو نہ پہچانا، جس نے صد ف میں جانے
والے پانی کے قطرات کو موتیوں میں بدلتا دیکھ کر پھر بھی اپنے اللہ کو نہ پہچانا، جس نے بے زبان ، بے جان درخت ، لکڑی، خاموش، بے عقل، نا سمجھ کو دیکھ کر کہ وہ اپریل مارچ فروری کا موسم آیا ، آپ نے آنکھیں کھولی، ڈالیاں مسکرانے لگی اور اس میں خاموشی کے ساتھ گھچے نکلنا شروغ ہوگئی ، پھول لگنا شروغ ہوا، پھر وہ آہستہ آہستہ مٹر میں تبدیل ہوگیا ، پھر آہستہ آہستہ اس نے قوت پکڑی ، تھوڑا اور موٹا ہو تا جارہا ہے ، پھر وہ اپریل میں آم کی شکل اختیار کرتا ہے، مئی میں اور بڑا ہوگیا ، جون میں اپنے اندر مٹھاس کو لیکر آیا ۔ پتہ نہیں کونسی شوگر مل کے ساتھ اس نے رابطہ قائم کیا ، وہاں سے چینی منگوائی اور اپنے اندر ڈال دی۔ پتہ نہیں کس رنگ ریز سے رابطہ قائم کیا اور کہی سبز رنگ لگوا یا، کہی پیلا لگوایا، کہی سرخ لگوایا ، کوئی آم یا دوسرا میوہ اتنا عقلمند نہیں ہے کہ اپنے آپ کو اتنا خوبصورت بنا دے ۔
جاہل ، نادان ، اندھا ، ان پڑھ کون ہے؟؟؟؟ جس نے یہ سب کچھ دیکھ کر پھر بھی اللہ کو نہ پہچانا، اس سے بڑا جاہل کوئی نہیں ہے جو اللہ کو نہ پہچان سکا۔ جس کی ذات کو نہ پہچان سکا۔ جس کی قدرت کو نہ پہچان سکا۔ جس کی ہیبت و کبریائی ، جلال و جبروت کے سامنے سر نہ جھکا سکا۔ اس سے بڑا جاہل کوئی نہیں ہے۔ لہذا سب سے بڑا جاہل ملک وہ ہے جہاں سب سے زیادہ اللہ کے نہ جاننے والے ہوں، اللہ کو نہ پہچاننے والے ہوں۔ اور سب سے بڑا ترقی یافتہ ملک وہ ہے ، سب سے بڑا پڑھا لکھا ملک وہ ہے جہاں کے لوگ اللہ کو جانتے ہوں۔ جو اذان کا نغمہ سن کر ان کے اندر میں حرارت ایمان پیدا ہوتی ہو۔ جنہیں اللہ کی پکار اپنے دفتر سے اٹھا سکے۔ گھر سے نکال سکے۔ فیکٹری سے نکال سکے۔ کاروبار سے نکال سکے۔ انجمعن سے نکال سکے۔ بزم سے اٹھا سکے۔ نیند سے جگا سکے۔ وہ لوگ ہے پڑھے لکھے ، وہ لوگ ہے سمجھدار ، جو اللہ کا پیغام سمجھتے ہیں ۔ ایک چھوٹے سے افسر کا پیغام تو سمجھ سکا۔ انگریزی کے چند جملوں کو سمجھا۔ PHDکی ڈگری لیکر علامہ کا خطاب پایا۔ نہ اللہ کو سمجھا، نہ اللہ اکبر کو سمجھا، نہ اشھد ان لا الہ الا اللہ کو سمجھا، نہ حی علیٰ الصلاۃ کو سن کر کان میں جو رینگی، نہ حی علیٰ الفلاح کو سن کر طبیعت میں مست آئی، نہ اللہ اکبر کی صدا پر ہلا، نہ لا الہ الا اللہ پر اپنی جگہ سے اکھڑا ۔ اللہ کی قسم….! اس سے بڑا جاہل دنیا میں کوئی نہیں ، اس سے بڑا ان پڑھ دنیا میں کوئی نہیں ، اس سے بڑا نادان دنیا میں کوئی نہیں، جسے اذان اٹھا نہ سکے، جسے لاالہ الا اللہ بے قرار نہ کر سکے، جو راتوں میں اللہ کے سامنے رونا نہ جانتا ہو، جو تنہائیوں میں بیٹھ کر اس کی یاد میں تڑپنا نہ جانتا ہو، یہ جاہلوں کا جہاں ہیں۔ ہاں ہاں! یہ جاہلوں کا جہاں ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

اترك تعليقاً

Copyright © All rights reserved. | Newsphere by AF themes.
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔