fbpx
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……….جنگل کا بھولا بسرا کمپارٹمنٹ

…………ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضیؔ ……………

خیبر پختونخواکے گذارہ جنگلات کا بھولا بسرا کمپارٹمنٹ ارندو جنگل اخبارات کی سرخیوں میں آگیا ہے اور یہ 10 ارب روپے کے میگا کرپشن کیس کی صورت میں اخبارات کی زینت بن گیا ہے ہزارہ اور ملاکنڈ کے جنگلا ت میں 10 ارب روپے مالیت کی قیمتی عمارتی لکڑی سمگلروں نے کاٹی ،ڈھلائی کا عمل مکمل ہوا،لکڑی کو نقدی میں بدلنے کا وقت آیا تو پاک فوج نے ضرب عضب کے حوالے سے اپریشن کے دوران لکٹری کو پکڑا اور منجمد کر دیا ارندو کے جنگل کا بھولا بسرا کمپارٹمنٹ ان چار جنگلات میں شامل ہے اراندو کی اہمیت یہ ہے کہ یہ افغانستان کی سرحد پر حساس ترین سرحد ی چوکی ہے اور اس پر پاک فوج کی گہری نظر ہے ملاکنڈ کے سابق جی او سی میجر جنرل نادر خان نے اراندو کے جنگل سے لکڑی کی سمگلنگ بند کر دی تو محکمہ جنگلات اور محکمہ ماحولیات کے لئے نیا مسئلہ پیدا ہوا اس مسئلے کو حل کرنے کا یہ طریقہ نکالا گیا کہ غیر قانونی طور جو قیمتی عمارتی لکڑی کاٹی گئی ہے یہ لکڑی 1100 گیا رہ سو روپے کے حساب سے سمگلروں سے خریدی جائے اور اس کو قانونی صورت دے کر مارکیٹ میں فروخت کیا جائے بظاہر یہ چھوٹا سا فیصلہ ،معمولی ساحل اور نہایت حقیر سی کاوش ہے مگر اس میں 10 ارب روپے کا میگا کر پشن آیا ہے چار جنگلات میں جو لکڑی غیر قانونی طور پر کاٹی گئی اس کا حجم بہت زیادہ ہے پا ک فوج کی مداخلت کے بعد سمگلنگ کا راستہ بند ہو اہے تو اگلا مرحلہ یہ تھا کہ سمگلروں کو پکڑا جائے ،عمارتی لکڑی کو بحق سرکارضبط کر کے نیلام کیا جائے اور نیلامی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو صوبائی محاصل میں شامل کیا جائے اس کا معقول اور قانونی حصہ جنگل کے حقدار وں میں رائلٹی کی صورت میں تقسیم کیا جائے یہ قانون اور انصاف کا نقاضا تھامگر ساغر صدیقی کہتا ہے
دستور یہاں بھی اندے ہیں فرمان یہاں بھی اندھے ہیں
مضمون یہاں بھی بہرے ہیں عنوان یہاں بھی اندھے ہیں
چنانچہ فنکار گروہ نے دوسرا راستہ اختیار کیا سیاستدانوں کو شیشے میں اتارا گیا لکڑی کی مالیت بتائی گئی اور اس میں اوپر کے حکام کا معقول حصہ ہائی لائٹ کر کے دکھایا گیا لکڑی کو بحق سرکار ضبط کر نے کی جگہ سمگلروں کی ملکیت قراردینے کے فوائد بتائے گئے اور سمگلر وں کے ذریعے حاصل ہونے والی بالائی آمدنی کے جائزاور ناجائز مصر ف دکھائے گئے اوپر سے حکم جاری ہوا کہ سمگلروں کو پروٹوکول دیدو ،چوری کی لکڑی ان سے خریدو اور اس کو قانونی حیثیت سے آگے لے جانے کا راستہ ہموار کرو چنانچہ نادر شاہی فرمان جاری ہوا فرمان کی روشنی میں کالا دھن سفید ہوگیا ،سمگلروں کی چاندی ہوگئی جنگلاتی علاقے کی کمیونیٹی ایک بار پھر پا ک فوج کی طرف دیکھ رہی ہے وجہ یہ ہے پاک فوج کے سوا کسی اور سے انصاف کی توقع نہیں ارندو کے بھولے بسرے جنگل اور کمپارٹمنٹ کی کہانی بہت عجیب ہے 1970 ؁ء کی دہائی میں فارسٹ ڈیو لیمنٹ کارپوریشن نے تجارتی بنیادوں پر دیار کی عمارتی لکڑی اُٹھانے کے لئے ورکنگ پلان بنا یا تو اس کی بنیاد فنی ،تکنیکی اور پیشہ ورانہ اصولوں پر نہیں رکھی ورکنگ پلان کی بنیاد یہ تھی کہ کسی طاقت ورجا گیردار کے پاس کتناجنگل ہے اور وہ رائلٹی میں حصہ دینے پر امادہ ہے طاقتور لوگوں نے اپنے حصے کے جنگلات کو ورکنگ پلان میں شامل کیا اُن کی مارکنگ ہوئی ،رائلٹی آگئی اور اوپر تک تقسیم ہوئی بالائی حکام میں سے ہر مستحق کو اُس کا حصہ ملا اراندوکا جنگل مقامی کمیونیٹی کے غریب ،غرباء کی ملکیت تھی یہ لوگ اوپر تک رسائی نہیں رکھتے تھے اس لئے نصف صدی کا عرصہ گزرنے کو ہے اراندو کے کمپارٹمنٹ کی مارکنگ نہیں ہوئی اس لئے یہ جنگل سمگلروں کے ہتھے چڑھ گیا کہانی یہاں سے شروع ہوئی سمگلروں نے مقامی آبادی کو مزدور رکھ لیا اور اپنا کام آگے بڑھایا یہ ایسی چوری تھی جو دن دیہاڑے سب کے آنکھوں کے سامنے سورج کی روشنی میں ہورہی تھی بقول خواجہ حافظ ’’چہ دلاوراست دزدے کہ بکف چراغ دارد‘‘یادش بخیر! جی ایم خٹک کا شمار جنگلات کے محافظوں میں ہوتا ہے ان کا قول ہے کہ درخت کی چوری محکمہ جنگلات کی شراکت کے بغیر نا ممکن ہے درخت کے پاس چور کلہاڑی لیکر جاتا ہے تو درخت شور مچاتا ہے اس کو آرے چیرتا ہے تو پھر شور مچاتا ہے اس کی ڈھلائی کر تا ہے ،پھر شور مچاتا ہے اس کو دریا میں ڈالتا ہے تب بھی شور مچاکر سب کو آگاہ کرتا ہے اس کو ٹرک یا لاری پر لاد کر لے جانا چاہے تب بھی شور مچاتا ہے اس لئے چور جب چوری کی نیت سے آیا ہے تو اُپر سے نیچے تک جنگلات کے پورے محکمے کو ،ماحولیات کے پورے سیٹ آپ کو اعتماد میں لیتا ہے تب جا کر چوری اور سمگلری کا دھندا چلاتا ہے 7 اکتوبر 2016 ؁ء کو صوبائی حکومت نے سمگلروں سے لکڑی خریدنے کا حکمنامہ جاری کر دیا اس کے بعد ڈیڑھ ماہ کے اندر صوبے کے مختلف حصوں سے نامور سمگلروں نے ارندو کا رخ کیا اور حکومت کے ہاتھ فروخت کرنے کے لئے مزید جنگلات کی کٹائی شروع کر دی اگر ایک جنگل میں دولاکھ مکعب فٹ لکڑی کی کٹائی دو سالوں میں ہوئی تھی تو 50 ہزار مکعب فٹ درختوں کی کٹائی ڈیڑ ھ مہینوں میں کی گئی ہونا یہ چاہئے تھا کہ حکومت کے حکم پر سمگلروں کا گروہ بھاگ جاتا پناہ گاہ ڈھونڈتا اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کر واتا ہوایوں کہ سمگلروں کا پورا نیٹ ورک بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لئے سامنے آگیا ارندو کے عوام نے اس ظلم کے خلاف پشاور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا سابق ایم این اے مولانا عبدلا کبر چترالی نے اس کے خلاف آواز اُٹھائی مگر یہاں سنتا کوئی نہیں مسئلے کا آسان حل موجو د ہے اور حل یہ ہے کہ 7اکتوبر 2016ء کے حکمنامے کو منسوخ کر کے تمام عمارتی لکڑبحق سرکار ضبط کی جائے اس کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کا ایک حصہ سرکار ی خزانے میں جمع کیا جائے اس میں سے رائیلٹی ہولڈروں کا جو حق بنتا ہے اُسے جائنٹ فارسٹ مینجمنٹ کمیٹی کی وساطت سے کمیونیٹی کو دیدیا جائے اور سمگلروں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی عمل میں لائی جائے انصاف کا یہ آسان فارمولا ہے مکر جنگل کا بھولا بسرا کمپارٹمنٹ انصاف کو ترسا ہے ساغر صدیقی نے کیا بات کہی ہے !
بے رنگ شفق سی ڈھلتی ہے بے نور سو یرے ہوتے ہیں
شاعر کا تصور بھوکا ہے سلطان یہاں بھی اندھے ہ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق