fbpx

خاک شناسی۔۔۔۔مسلسل تذلیل…..

………………شمس الرحمن تاجکؔ …………..

یہ صرف لواری ٹنل کا ایشو نہیں ہے، لواری ٹنل سردیوں کے تین مہینے کا ایشو ہے یہ تین مہینے ہم رو دھو کے گزار لیں گے اور ہمیشہ سے گزارتے آرہے ہیں مگر اس انا کا کیا ہوگا جو روزانہ کی بنیاد پر پشاور کی گلیوں میں مجروح ہورہا ہے، مجروح شاید مہذب لفظ ہے، ہم کب تک اپنی ذہنی لیول کے حساب سے، اپنی تربیت کے حساب سے اور چترالی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے الفاظ بھی مہذب رکھیں گے، کم از کم ہم لکھنے والوں کو اب غیر مہذب الفاظ کا استعمال شروع کرنا چاہئے تاکہ ارباب اختیار کو اندازہ ہونے لگے کہ چترال میں اب غیر مہذب لوگ بھی پیدا ہورہے ہیں جو کہ اچھی بات نہیں ہے، آپ کے ملک میں واحد خط چترال رہ گیا ہے جہاں لوگ اب بھی ایک دوسرے کی جیبیں نہیں کاٹتے، کسی اور کے مال کو حرام سمجھتے ہیں، کسی کی گردن کاٹنے کا کوئی تصور چترال میں نہیں پایا جاتا، حکومت اور حکومتی اداروں کا احترام کیا جاتا ہے اور وہ پروٹوکول دیا جاتا ہے جو انگریزوں کے زمانے میں وائسرائے ہند کو بھی میسر نہیں ہوا کرتا تھا، ریاست کے ملازمین یہاں وائسرائے بن کر آتے ہیں سیاسی لوگ الیکشن جیتنے سے لے کر اگلے الیکشن تک مغلیہ شہزادوں جیسے زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، غلطی سے سیاسی لوگ یا حکومتی ملازمین میں سے کوئی اپنے فرائض میں سے دو فیصد بھی ایمانداری سے ادا کریں کسی سڑک کی مرمت میں کردار ادا کریں، کوئی نہر بنادیں، پینے کے لئے صاف پانی کا کوئی منصوبہ چترال میں چل رہا ہو اس میں کوئی کردار ادا کریں تو ہمارا بس نہیں چلتا کہ پورا چترال ان کے حوالے کردیں۔ یہ ہمارا خود ساختہ تہذیب ہے جسے مہذب دنیا کے لوگ اب بھی غلامی سے تعبیر کرتے ہیں۔کیا لکھنا تھا کہاں نکل آئے!۔
پشاور سے پبلک ٹرانسپورٹ چترال کے لئے کب سے شروع ہوا اس کی تاریخ کا صحیح اندازہ نہیں ہے مگر جب سے شروع ہوا ہے ہماری رہی سہی عزت نفس کا کباڑہ ہوگیا ہے، چترال سے منتخب سیاسی افراد میں سے شہزادہ محی الدین واحد شخص ہیں جن کے آباؤ اجداد کے موٹر کوچترالی لوگوں نے دور مہتر کے دوران اپنے کندھوں پر اٹھا کر چترال لایا تھا باقی تمام سیاسی افراد کو ہم نے اپنے کندھوں پر بٹھا کرصوبائی اور وفاقی دارلحکومتوں تک پہنچایا مگر وہاں پہنچنے کے بعد پتہ نہیں انہیں کیا کھلایا جاتا ہے کہ وہ گاڑی استعمال کرنے کے بجائے عوامی کندھوں پر سوار ہو کر ہی واپس آنا چاہتے ہیں حالانکہ مہتر دور کے مقابلے میں اب موٹر گاڑیوں کی کوئی کمی نہیں اور نہ ہی پرویز مشرف، نجم الدین اور آفتاب احمد خان شیرپاؤکے بنائے ہوئے سڑکوں سے سفر کرنے میں کوئی مسئلہ ہے۔
ہمارے کندھوں پر سوار ہوکر اسمبلیوں تک پہنچنے سے چند دن پہلے جب یہ لوگ پشاور میں انتخابی اشتہارات چھاپ رہے ہوتے ہیں تو بالکل عام عوام کی طرح پشاور کی گلیوں میں ذلیل و خوار ہورہے ہوتے ہیں، رات کے اندھیروں میں چترالی اڈہ چلانے والے افراد پشوری ڈرائیورز کے ہاتھوں چترالی مسافروں کو تھوک کے حساب سے چترال ڈی پورٹ کررہے ہوتے ہیں پشاور سے ڈی پورٹ ہونے والوں میں ہمارے یہ سیاسی انتخابی اشتہارات چھاپنے والے مستقبل کے سیاسی افراد بھی شامل ہوتے ہیں،انتخاب جیتنے کے بعد یہ سیاسی افراد چند دنوں کے اندر اپنی تذلیل کے ساتھ عوام کی تذلیل بھی بھول جاتے ہیں، حالانکہ ہونا یہ چاہے کہ یہ لوگ اقتدار میں آنے کے بعد چترال کے مہذب لوگوں کو ذلالت سے بچانے کے لئے چترال کے لئے پشاور میں کوئی مستقل بس اسٹینڈ بناتے، گلی کوچوں میں چترالیوں کو ذلیل کرنے والے اڈے بند کرادیتے، رات کے وقت سفر کرنے کی وجہ سے چترالیوں کو لوٹنے میں آسانی رہتی ہے اس سے اپنے ووٹرز کو بچانے کے لئے کوئی حکمت عملی بناتے، اسمبلی میں اس سلسلے میں آواز اٹھانا دور کی بات، وہاں شاید ان کی کوئی سنتا ہی نہیں، تذلیل کا شکار ہونے والے چترالیوں کو ہی جمع کرکے پشاور میں کوئی جلسہ کراتے، آج کل لواری ٹنل شام کے پانچ بجے پشاور اور ملک کے دوسرے حصوں سے چترال آنے والوں کے لئے کھولا جاتا ہے مگر پشاور میں اڈے چلانے والے شام سات بجے مسافروں کو پشاور سے ڈی پورٹ کرتے ہیں، رات بھر سفر کے بعد یہ مظلوم و مجبور مسافر صبح چار بجے دیر پہنچ جاتے ہیں پھر بارہ گھنٹے لواری ٹنل کے سامنے بے یارو مددگار انتظار کرتے ہیں، ہمارے محترم لیڈرز پشاور میں اپنے پر تعیش ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر بیان داغ دیتے ہیں کہ لواری ٹنل ان کی وجہ سے بنا ہے، اتنے بڑے پاکستان میں آٹھ بائی چھ فٹ کا ایک بس اسٹینڈ چترال کے نام پر 65 سالوں میں نہ بنا سکے، عوام خود ہی فیصلہ کریں کہ لواری ٹنل کس نے بنایا ہوگا۔
سب سے زیادہ حیرت ایم پی اے فوزیہ بی بی کی اس ایشو پر خاموشی ہے حیرت اس لئے کہ وہ ایک خاتون ہیں اور جہاں تک ہمیں معلومات میسر ہیں وہ مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہیں وہ یقیناًایم پی اے بننے سے پہلے پشاور میں چترالی بیٹیوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اس تذلیل کا ذاتی تجربہ کرچکی ہوں گی اور خاتون ہونے کے ناطے زیادہ حساس بھی ہوں گی، ان کے ایم پی اے بننے پر پڑھے لکھے طبقے کوخوشی اس بات کی تھی کہ خاتون ہونے کے ناطے وہ کم از کم چترال کے عوام کو اس تذلیل سے بچانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں گی مگر ان کی بے حسی نے چترال کے پڑھے لکھے طبقے کو بے تحاشہ مایوس کیا ہے، اب بھی ہم ان سے توقع رکھتے ہیں کہ ان کے پاس جتنا ٹائم بچا ہے وہ اس سلسلے میں ضرور کوئی کردار ادا کریں گے۔
چترال میں ووٹ ذات برادری، مسلک اور شخصیات کو دی جاتی ہے ایشوز پر سیاست اور ووٹ دینے کا رواج پرواں چڑھنے میں وقت لگے گا تاہم گزشتہ الیکشن میں کچھ حد تک اس رویے میں تبدیلی دیکھی گئی ہے جو کہ خوش آئند ہے،اگر پولنگ سے ایک دن پہلے چترال سے الیکشن لڑنے والے افراد مسلک کے نام پر ووٹ نہیں مانگتے تو شاید الیکشن کے نتائج کچھ اور ہوتے، کوئی درد دل رکھنے والا بندہ اسمبلیوں تک پہنچ جاتا تو کم از کم چترال کے لئے پشاورمیں ایک بس اسٹینڈ ضرور بنواتا، اور پشاور کی گلیوں میں رات کے اندھیروں میں ہماری بہو بیٹیاں یوں ذلیل و خوار نہیں ہوتیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

اترك تعليقاً

إغلاق