ذمہ دار کون؟۔۔۔۔۔ – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | تازہ ترین | ذمہ دار کون؟۔۔۔۔۔

ذمہ دار کون؟۔۔۔۔۔

…………….۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلیم بخاری

ذمہ دار کون؟۔۔۔۔۔

یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں یہ لوگوں نے پھیلائیں ہیں
تم انشاء جی کا نام نہ لو کیا انشاء جی سودائی ہے۔۔۔۔۔
موٹر سائیکل سوار کے ٹکر سے ایک ننھی پری موت کے آغوش میں چلی گئی۔ یہاں تین سوالات جنم لیتے ہیں۔اس چھوٹی پری کی اہمیت کیا ہے؟ غلطی کس کی ہے؟ اور اس پری کی موت کا زمہ دار کون ہے؟۔
اس پری کی موت کا پتہ اس کے ماں باپ کو بھی اس کے موت کے بعد چل گیا۔ کیونکہ یہ معصوم اپنے روزمرہ کے معمول سے بازار آئی تھی اس کے ننھی ننھی نازک ہاتھوں میں قلم کی جگہ پلاسٹک کی چھوٹی بوری تھی جس میں وہ روزانہ کاغذ اور لکڑی کے ٹکڑے بھر کر اپنے گھر جایا کرتی تھی لیکن کل وہ زندہ گی کے ساتھ لڑتی ہوئی اس بے رحم دنیا سے چلی گئی۔
قصور کس کا ہے ۔غلطی کس کی ہے؟ تو اس کے دو ہی جواب سامنے آتے ہیں ۔ یہ کہ ہمارا معاشرہ زوال کا شکار ہوچکا ہے اس میں سارے بے حس انسان رہتے ہیں ۔ اور اس میں کسی غریب کے بچے کی موت کوئی معنی نہیں رکھتے۔یہ کہ یہاں کسی غریب کے لئے کوئی قانون نہیں کوئی چائلڈ پروٹیکشن یونٹ والے نہیں۔ کسی نے کوئی پریس کانفرنس نہیں کی۔غریب مرتا ہے غریب کا بچہ مرتا ہے تو اس معاشرے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔جو آخری سوال ہے کہ اس پری کی موت کا زمہ دار کون ہے؟ ۔تو ہم سب اس کے موت کے ذمہ دار ہیں۔ قانون اور قانون کے برائے نام رکھوالے اس کے زمہ دار ہیں کیونکہ قانون کی کوئی تعریف ہمارے ہاں نہیں پائی جاتی۔
سول انتظامیہ؛ کیونکہ اس کے پاس اس ضلع کو چلانے کا کوئی انتظام نہیں۔اس نے کبھی ہوم ورک کرنے کی زحمت نہیں کی ہے،۔ان کے پاس معاملات سولجھانے کا صرف ایک ہی زریعہ ہے کہ شوشل میڈیا پہ اپنے کارنامے بیان کرنا۔
پولیس ؛ جو اس وقت حرکت میں آجاتی ہے جب سارے سوجاتے ہیں۔پولیس کا موٹو ہی یہ ہے کہ آرام کے نیند سو جائیں پولیس جاگ رہی ہے۔
بائی پاس روڈ شاید کبھی تکمیل نہ ہو وجہ یہ ملک کے ایسے محکمے کے پاس ہے جو سوائے کرپشن اور کمیشن کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ سڑک تو بن چکی ہے لیکن اس میں پیدل چلنے والوں کے لئے کوئی سہولت موجود نہیں۔
موٹر سائیکل سوار بھی اپنے حصے کے ذمہ داری نہیں چھوڑتے ۔ ان کے خیال میں تیز رفتاری ایک ہنر ہے جبکہ یہ ہنر آج ایک چھوٹی پری کی قیمتی جان لئے گئی ۔اس کے ماں کے دل پہ کیا گزری ہو گی، باپ کے کتنے سپنے بیٹی کے موت کے ساتھ دفن ہوگئے۔
فقہیہ شہر نے یہ تہمت لگالی ساغر پر
یہ شخص درد کی دولت کو آم کرتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

یہ خبر بھی پڑھیں

داد بیداد …..میرٹ یا اہلیت 

میرٹ کا انگر یزی لفظ ہماری زبان میں بار بار استعمال ہو تا ہے اس ...

اترك تعليقاً


دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔