fbpx

چترال کے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو فوری رہا کردیا جائے۔ایم پی اے سلیم خان

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) ایم پی اے سلیم خان نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ گذشتہ جمعے کو شاہی مسجد چترال میں توہین رسالت کے مرتکب معلون شخص کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں لوگوں نے اشتعال میں آکر پولیس پر اسٹیشن اور پولیس لائین پر پتھراؤ کیا تھا جس کے بعد مقامی پولیس نے شرپسندی کے آڑ میں کافی معصوم لوگوں کو گذشتہ ایک ہفتے سے حوالات میں بند کرکے رکھا ہے جو انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی اور معصوم چترالیوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جو لوگ بے قصور ہیں جن کے خلاف شرپسندی کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں ان کو فوری طورپر رہا کردیا جائے۔کیونکہ چترال کے لوگ فطری طورپر پرآمن لوگ ہیں،حالانکہ یہ واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔جوبھی شخص توہین رسالت کامرتکب ہوتا ہے تو ہرمسلمان کو غصہ ضرور آتا ہے مگر چترال کے لوگوں نے پھر بھی آمن کا دامن نہیں چھوڑا۔لہذا ان حالات میں حکومت اور پولیس بھی چترال کے آمن وآمان کو برقرار رکھنے کیلئے فراخدلی کا مظاہرہ کرے اور عام معافی کا اعلان کرکے چترال بے قصورلوگوں کو رہا کردے۔تاکہ آئیندہ بھی مقامی لوگ آمن وآمان کی بحالی میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ تعاون کرسکیں۔اُنہوں نے آئی جی پولیس خیبر پختونخوا،ڈی آئی جی ملاکنڈ،ڈی سی چترال اور ڈی پی او چترال سے حولات میں بند بے قصور لوگوں کو فوری رہا کرنے کا اپیل ک

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق