فکروخیال …لواری ٹنل ۔ ۔ سب کا شکریہ .. – Chitral Express

کمرشل اشتہارات/ اعلانات

صفحہ اول | مضامین | فرہاد خان | فکروخیال …لواری ٹنل ۔ ۔ سب کا شکریہ ..

فکروخیال …لواری ٹنل ۔ ۔ سب کا شکریہ ..

……….۔فرہاد خان

لواری ٹنل پر بہت کچھ لکھا جاچکا، سوشل میڈیا پر تو اج کل لواری ٹنل پر گرما گرم بحث جاری ہے ، سیاسی جماعتوں کے ورکرز ایک دوسرے کے خلاف بیان بازیوں میں مصروف ہیں ، مگر عقلی طور پر جائزہ لیا جائے تو ہم سب کو ایک دوسرے کے گریبان پکڑنے کے بجائے اللہ تعالی کے حضور سربسجود ہوجانا چاہیئے کہ اخر لواری کے مصیبت سے ہمیں نجات مل گئی، اب تک سینکڑون جانون کے ضیاع ، خاندانوں میں ماتم اور درد و دکھ بھری واقعات کے بعد بالااخر لواری ٹنل کی صورت میں ہمیں ایک محفوظ گزرگاہ مل گئی ہے ، سیاسی رقابتون سے بالاتر ہوکر دیکھا جائے تو تقریبا ہر پارٹی نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس ٹنل کے لئے نہ صرف آواز اُٹھائی بلکہ اس پر کام کو جاری و ساری رکھنے اور اسے وقت پر مکمل کرنے کی کوشش کی ۔ زلفتقار علی بھٹو اور صدر جنرل پرویز مشرف دونون کو ہم محسن چترال کے نام سے یاد کرتے ہیں اور ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ، 1975 میں زلفقار بھٹو کے حکم پر کام کا آغاز ہوا لیکں ڈھائی کلومیٹر کام کے بعد حالات پلٹ گئے زلفقار بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی لواری ٹنل  قصہِ پارینہ بن گیا اور پھر کئی حکومتیں آئیں لیکں کسی نے اس مسلے پر کان نہ دھری ، جمہوری حکومتوں نے اس مسلے کو مسلہ ہی رکھا اور پھر اللہ بھلا کرے مشرف صاحب کا ، جمہوریت پسندون کے اس دشمن نے زلفقار علی بھٹو کے اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کا تہیہ کر لیا ، کورین کمپنی سامبو کے ساتھ معاہدہ طے پایا اور پھر لواری پر کام کا اغاز ہوا ، مشرف دور میں تقریبا 6 ارب روپے اس پر خرچ ہوئے ، مشرف کے بعد پی۔پی۔ کی حکومت کے میں ایک ارب جبکہ نواز شریف کی حکومت نے اس منصوبے کے لئے 23 ارب روپے کی خطیر رقم مہیا کئے یوں زلفقار علی بھٹو، پرویز مشرف ، زرداری اور نواز شریف صاحب کے حکومتوں نے اس عظیم منصوبے کی تکمیل میں اپنا اپنا کردار ادا کیا ، سیاسی رقابتوں سے بالاتر ہوکر ہمیں ان سب کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ ان سب کے تعاون اور مدد سے اج ایک سب سے بڑا دیرینہ مسلہ حل ہوچکا،سوشل میڈیا میں ٹنل کے معاملے میں ایک لمبی بحث جاری ہے اور تقریبا ہر سیاسی جماعت کا نمائندہ یا کارکن اس ٹنل کی تکمیل کو اپنے اپنے کھاتے میں ڈال رہے ہیں ،پی۔پی۔والے اسے صرف اور صرف بھٹو کی حکمت قرار دے رہے ہیں تو پرویز مشرف کے حامی یہ کہتے نظراتے ہیں کہ یہ پرویز مشرف کا احسان ہے ،نواز لیگ والوں کا بھی یہی رائے ہے کہ چونکہ سب سے زیادہ پیسہ وزیراعظم نواز شریف کی حکومت نے دی اس لئے نواز شریف ہی داد و تحسین کے مستحق ہیں ، سب کی الگ الگ رائے اور کبھی ختم نہ ہونے والی بیانات کا یہ سلسلہ سوشل میڈیا پر جاری ہے لیکں حرف اخر یہ ہے کہ ہمیں ان سب کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ ان سب حکومتوں کی اعانت سے یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچا ، زلفتقار علی بھٹو اور پرویز مشرف بلاشک و شبہ ہمارے محسن ہیں اور ہمیشہ رہیں گے کہ ان کی سیاسی بصیرت اور دوراندیشی نے اس کام کو انجام تک پہنچانے کا راستہ فراہم کردیا، سیاسی بیانات سے ہٹ کردیکھا جاتے تو وزیراعظم نواز شریف کا بھی یہ احسان ہے کہ اج اس کے دور حکومت میں اس کام کی تکمیل ممکن ہوئی۔ ہم ان سب لوکل رہنماون اور سیاسی پارٹیون کے بھی شکرگزار ہیں کہ ان سب نے اپنی اپنی بساط کے مطابق اس عظیم کام کو انجام تک پہنچانے کی جہدوجہد کیں ۔اتالیق جعفر علی شاہ کی روح کے لئے دعائے مغفرت کے ساتھ ساتھ سابق ایم۔این۔اے عبدالاکبر چترالی کی لواری ٹنل کے لئے جہدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انہون نے اپنے دور میں لواری ٹنل کے لئے اواز بلند کی ، چترال کا تقریبا ہر سیاسی جماعت و نمائندہ ٹنل کے معاملے میں کردار ہے اس لئے اسے کسی ایک فرد یا جماعت کے کھاتے میں ڈالنا زیادتی ہوگی۔  سیاسی رقابتون اور سیاسی بیانات کو پس پشت رکھ کر ہمیں ٹنل کی تکمیل کے بعد پیش انے والے حالات کا نہ صرف ادراک کرنا ہےبلکہ دوراندیشی کے ساتھ اس کے لئے منصونہ بندی کی بھی ضرورت ہے  ، ٹنل سے امدورفت کا اغاز ہونے اور مستقبل قریب میں وسطی اشیائی ممالک کے ساتھ تحارتی روابط بحال ہونے کی صورت میں چترال انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا ، بلکہ یون کہیئے کہ ان تمام تربین الاقوامی تجارت کا مرکز ہوگا اور اسی طرح کی سرگرمیوں کے اغاز کے بعد حالات ناقابل یقین حد تک بدل سکتے ہیں جس کے لئے ابھی سے تیاری اور منصوبہ کی ضرورت ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

دنیا بھر سے

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔