fbpx
تازہ ترینفرہاد خان

فکرو خیال ……۔ ہمارے ممتحن اور امتحانی نظام

 ……فرہاد خان
مارچ کے وسط سے لیکر جولائی کے اخر تک میٹرک تا بی۔ایس سی۔ امتحانات شروع ہوتے ہی چترال کے طول عرض ممتحن صاحبان کی آمد شروع ہوجاتی ہے ۔یہ وہی ممتحن صاحبان ہیں جو کہ قوم کے بچوں کو پڑھانے کا بھی فریضہ انجام دیتے ہیں ، ہماری امتحانی نظام کی خوبیوں اور خامیوں کو اچھی طرح جانتے ہیں اور پھرطالب علموں کی خدمت کے لئے آن پہنچتے ہیں ، یہاں ہر امتحانی سنٹر میں ان کی خوب آو بھگت کی جاتی ہے ، جماعت نہم اور دہم کے طلباو طالبات کو پہلے ہی ان ممتحن صاحبان کے آنے اور ان کے لئے تمام آسائشات کی فراہمی کے لئے فنڈ جمع کرنے کی تاکید کی جاتی ہے ۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ امتحان میں پاس ہونے کی گارنٹی چاہئے تو ان کی آو بھگت میں کوئی کسر باقی نہ رہے ۔ فلان طلبا ان صاحبان کے لئے فلان چیزیں فراہم کریں گے نقد پیسے جمع کئے جاتے ہیں ان کے لئے گیس،جلانے کے لئے لکڑی اور کھانے کے تمام لوازمات جن میں بکری کے گوشت سے لیکر مچھلی،پنیر،دودھ ،دیسی گھی،خاص طور پر شامل ہیں سب کے سب پوری زمہ داری کے ساتھ پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہیں تاکہ کوئی کمی نہ رہے۔ان سب لوازمات کی تیاری میں سکول کے اساتذہ بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں کیونکہ اخر عزت کا سوال ہے ،طلبا فیل ہوگئے تو معاشرہ والے کیا کہیں گے ، والدین کو کیاجواب د یں گے، محکمہ تعلیم کے زمہ دار کیا کہیں گے۔اس لئے اس مہم کو کامیاب بنانے کی ہر ممکن سعی کی جاتی ہے اس طرح امتحانات بخیروخوبی ختم ہوجائیں گے، طلبا ، بڑی آسانی سے اچھے اچھے گریڈ کے ساتھ پاس ہونگے اور آساتذہ کی محنت رنگ لائے گی سکول کے نتائج پر محکمہ تعلیم والے عش عش کر اُٹھیں گے طلبا کی بھی نیک نامی ، اساتذہ کرام کی بھی۔یہ ہے ہمارے امتحانات کا حال اور یہ ہے ہمارے مستقبل کے معماروں کی حالت۔کے۔پی۔کے۔ حکومت اگر چہ تعلیم اور صحت کے شعبو ں میں کام کررہاہے ،سکولوں میں اساتذہ کی تعیناتی سے لے کر سکول کے تزئین وارائش اور مرمت کا کا م پہلے کے مقابلے میں بہترا نداز میں ہورہے ہیں تو دوسری طرف صحت کے شعبے میں بھی تبدیلی نظر آرہی ، ہسپتالوں کا نظام بڑی حد تک ٹھیک کرنے کی سعی کی جارہی لیکن ہزار دعوں کے باوجو د امتحانی نقل کی روک تھام ممکن نہیں ہوسکا۔ چترال کے تمام علاقوں سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق امتحانات کے آغاز سے لیکر اور اختتام تک ممتحن صاحبان کے بھر پور تعاون اور مہربانیوں سے کھلے عام نقل کا بازار گرم رہتی ہے اور محکمہ تعلیم ہمیشہ کی طرح با لکل خاموش تماشائی۔یہ ممتحن صاحبان ایک طرف سرکار سے امتحانی ڈیوٹی کے عوض ہزاروں روپے وصول کرتے ہیں تو دوسری طرف طالب علموں کے چندہ کشی سے وصول ہونے والے آمدنی سے عیش کرتے ہیں۔پورے چترال کی طرح گرم چشمہ کے امتحانی سنٹرز کا بھی یہی حال ہے ، اکثر طالب علم نقل کی فراوانی کی وجہ سے سال بھر محنت نہیں کرتے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ سال کے اخر میں یہی ممتحن صاحبان ان کی مدد و اعانت کے لئے حاضر ہوتے ہیں ۔بس چار پانچ سو روپے چندہ جمع کروالو ، ممتحن کا خیال رکھو ، نمبر خود بخود اجائیں گے آپ کسی قریبی کتابوں کے دوکان تشریف لے جائیے ، پاکٹ خریدیں ، رات سکون کی نیند سو جائیے اور صبح آرام سے امتحانی سنٹر پہنچ جائیں ، ریاضی کا پرچہ ہو یا کمیسٹری کا ،بیالوجی کا ہو یا انگریزی کا بس فکر مت کریں کام ہوجائیگا۔صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کے زمہ داران پتہ نہیں، جاننے کے باوجود کچھ نہیں کرپا رہے ۔مستقبل کے معمار قوم کے مستقبل پر کاری وار کرنے میں مصروف ہیں لیکں محکمہ تعلیم کو کچھ نظر نہیں آرہا۔ نقل عروج پر ہے اور ممتحن صاحباں کی عیاشی بھی، گرم چشمہ امتحانی سنٹرز میں آنے والے ممتحن صاحباں تو اتنے عادی ہوجاتے ہیں کہ ہرسال یہاں آنے کی تگ و دو میں لگ جاتے ہیں اور بعض اساتذہ تو کئی سالوں سے امتحانی ڈیوٹی کے نام پر یہاں کا ہی رُخ کرتے ہیں گویا یہ لوگ اس کام کو ٹھیکے میں لئے ہوئے ہیں ، اور اسی طرح مستقبل پر کاری وار جاری و ساری ہے ۔ اب اس طرح سے پاس ہونے والے طلباوطالبات کالجوں کا رُخ کرتے ہیں تو وہاں بھی یہی سب کچھ ہوتا ہے ، چونکہ نقل سے پاس ہونے کے تمام لوازمات میٹرک میں ہی سکھائے جاتے ہیں اس لئے یہ طالب علم پھر اُسی طرح اوارہ گردی کے بعد امتحان دینے ان پہنچتے ہیں ، پھر وہی سب کچھ کئے جاتے ہیں امتحان کے بعد پریکٹیکل کے لئے آنے والے اساتذہ کی بھی اسی طر ح او بھگت کی جاتی ہے پھر اسانی سے نمبر بھی ملتے ہیں اور مفت میں نیک نامی بھی ۔اسی طرح امتحانات کے نام سے نسل در نسل تباہی و بربادی کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ایک اور افسوسناک امر یہ ہے کہ امتحان دینے والے بچوں کے والدین بھی بچوں کی نقل میں مدد دینے کے لئے ممتحن صاحباں سے ملتے ہیں بچوں کے رول نمبر تھما دیتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ اس معاملے میں مدد کی جائے۔اب نہیں معلوم کہ تبدیلی کے دعویدار کے۔پی۔کے۔ حکومت اور محکمہ تعلیم کے زمہ داراں خاموش کیوں ہیں،عرصہ دراز سے یہ سلسلہ اسی طرح جاری و ساری ہے ، پچھلے سال یہ خبر گردش میں رہی کہ امتحانی نظام کو صاف اور شفاف بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔امتحانی کمروں میں کیمرے لگائے جائیں گے تاکہ نقل کے نظام کو روکا جائے اور اس ضمن میں ایک واضح تبدیلی آئے گی لیکن اس پر ابھی تک عمل درامد ممکن نہ ہوسکا، مانیٹرنگ کے نام سے اساتذہ اور سکولوں کی نگرانی کا نیا نظام متعارف کروایا گیا ہے جس سے سرکاری سکولوں کی حالت زار اور تعلیمی کارکردگی بڑھ رہی ہے ، سکولوں میں این۔ٹی۔ایس۔کے زریعے بھرتیوں سے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان سکولوں میں آرہے ہیں جس سے گورنمنٹ سکولوں کی انرولمنٹ روز بروز بڑھ رہی ہے ۔ لیکن ایک بڑی خامی جسے ابھی تک پورا کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی وہ ہے نقل کے نظام کا خاتمہ ، اس طرف توجہ ہی نہیں دی گئی اور اب یہ ناسور بن چکا ، ہمیں اب بھی اُس مشہورِ زمانہ پختہ ماسٹر کی طرح ایماندار ممتحن کی ضرورت ہے جو ایک زمانے میں جس اِمتحانی سینٹر بھی جاتا تو وہان کے طالب علموں پر کپ کپی طاری ہوجاتی، نقل کرنے اور کروانے والے اتنے ڈر جاتے کہ نقل نام ہی بھول جاتے، نہ صرف طالب علموں پر بلکہ اُس پورے علاقے میں پختہ ماسٹر کی آمد کا چرچا ہوجاتا، وہ نقل کے دشمن کے طور پر مشہور و معروف تھا ۔منصب سے ریٹائرڈ ہوچکے، اللہ اُسے لمبی زندگی دے، اس کا نظریہ یہ تھا کہ طالب علم جب تک اپنی محنت اور صلاحیت پاس نہیں ہوتا اُسے فیل ہونا چاہئے تاکہ فیل ہونے کے بعد پھر محنت کرے اور کامیاب ہوجائے ۔ لیکں افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجو د ہم اُس ایماندار (پختہ ماسٹر ) جیسا کوئی مرد بہادر پیدا نہ کرسکے جو اس سسٹم کی بیخ کنی کرکے آنے والے نسلوں کی بربادی روک سکے ۔ایک اور ضروری بات یہ ہے جب تک صوبائی حکومت امتحانات میں ہونے والے نقل کی بیخ کنی کے لئے کچھ نہیں کرتا ، محکمہ تعلیم میں ہونے والے دیگر تبدیلیوں کے نتائج صفر رہیں گے ، محکمہ تعلیم کے اعلی عہدوں پر براجماں صاحبان سے مودبانہ گزارش ہے کہ اس بگڑے نظام کو سدھارنے کی ہر ممکں سعی کی جائے وگرنہ یہ نظام ہمارے بچوں کے مستقل پر ایٹم بم کی طرح گررہا ہے اور کچھ بعید نہیں کہ یہ نظام ہمارے آنے والے نسلون کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق