fbpx
تازہ ترینفرہاد خان

فکرو خیال ۔پولیس یا پولیس گردی

کہتے ہیں کہ لفظ پولیس چھ حروف کا مجموعہ ہے (Policte ,Obedient,Loyal,inteligent,Courageous and Encouraging) اِن چھ خصوصیات جنہیں اُردو میں شائستہ ،تابعدار ، مخلص،زہیں ،جرات مند اور ہمت بڑھانے والا کہا جاتا ہے یہ وہ خصوصیات ہیں جو ہر ملک کی پولیس فورس میں موجود ہونی چاہئے ۔کسی بھی ملک میں امن و امان کا قیام پولیس کی بنیادی زمہ داریون میں شامل ہے ،قانون و انصاف کے اُصولون کے تابع رہتے ہوئے امن و امان کی زمہ داریون کو فرض شناسی سے نبھانا پولیس کی اولین زمہ داری ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ تر قی یافتہ ممالک کی پولیس اپنے تمام تر فیصلوں میں سرکاری دباو سے مکمل طور پر آزاد اور درج بالا خصوصیات پر ہمیشہ پورا اُترنے کی مکمل کوشش کرتا ہے اور انصاف کی فراہمی میں کردار بھی ادا کرتاہے اور سیدھے سادے الفاظ میں پولیس ٓانسداد جرائم ،امن و اماں قائم رکھنے اورقانون کی عملداری کو یقینی بنانے والا ادارہ ہے اس لئے اگر آپ کو یہ یقین ہے کہ آپ کے ملک کا پولیس درج بالا ان چھ خصوصیات پر پورا اترتی ہے تو یہ یقین کرلیں کہ یہ پولیس ہے اور اگر آپ یہ محسوس کریں کہ آپ کے ملک کی پولیس درج بالا ان تمام خصوصیات کا اُلٹ ہے تو سمجھ لیجئے کہ یہ پولیس نہیں بلکہ پولیس کے نام پہ پولیس گردی ہے ۔جس طرح دہشت گردی ایک قبیح فعل ہے بلکل اُسی طرح پولیس گردی بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں پولیس کا نام سنتے ہی زہن میں خوف و گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے گویا لفظ پولیس خوف و دہشت کا نام ہے نہ کہ عوامی خدمت گار۔ ہم پولیس کو کچھ اور ہی مخلوق سمجھ بیٹھے ہیں اور ہماری نظر میں پولیس خوف و دہشت کے علامت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ پولیس کا رویہ ہی عموما ایسا رہاہے کہ اس وردی میں ملبوس ہر شخص خوف کی علامت ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس ترقیافتہ ممالک جہان قانون و انصاف کی حکمرانی ہے وہیں پولیس عوام دوست فورس کانام ہے جسے عوام کی خدمت کی زمہ داری دی گئی ہے اور وہ اس معاملے میں اتنا آزاد ہے کہ کسی سیاسی اثررسوخ اورکسی بااثر طبقے یا کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتابلکہ اپنی قانونی دائرے میں رہتے ہوئے عدل و انصا ف کی تمام تقاضون کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کے عوام کا اپنی پولیس فور س پر مکمل اعتماد ہے ،یہ پولیس کی وردی میں ملبوس شخص کو دیکھ کر سکون و اطمینان محسوس کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس ترقی پزیرممالک میں پولیس ایک مکمل سیاسی فورس ہے جو برسراقتدار جماعت کیا ہر جائز و ناجائز احکامات کی تعمیل کا کام کرتا ہے ۔ ہر آنے والی حکومت اپنی اور ہر اثررسوخ والا شخص پولیس کے زریعے اپنا کام نکالتے ہیں ۔پولیس فورس میں اصلاحات کے نام سے قوانیں تو پاس کئے جاتے ہیں مگر ان پر من و عن عمل ابھی تک نہیں ہوسکا ۔ وطن عزیز کی پولیس کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ کسی غریب کی فریاد پر ایک معمولی ایف۔ائی ۔ار بھی درج نہیں کرتا یون انصاف کا عمل رُک جاتا ہے اور عام آدمی کا پولیس پر اعتماد بھی ختم ہوجاتا ہے ۔ یہاں سے پولیس گردی کا عمل شروغ ہوجاتا ہے اور اسی کو پولیس گردی کہا جاتا ہے ۔پولیس کی پولیس گردی کے اور بھی بہت سے نام ہیں یہ اپنے ناشائستہ عمل سے خود کو خدمت گار کی بجائے مطلق العنان تصور کرتے ہیں اور یون خدمت کا فریضہ بھی خوب انجام دیتے ہیں یہ عوام کی وفاداری کی بجائے امرا کی فرمانبرداری کا فریضہ انجام دیتے ہیں،یہ ڈاکووں کے نگہبان بن جاتے ہیں یہ لیڈ مافیا کے سرپرست بن جاتے ہیں یہ اغواکارون کے دست راست کا کام سرانجام دیتے ہیں ،یہ منشیات فروشون کے دائیں بازو کا کردار بھی ادا کرتے ہیں اور یہ بھتہ خورون کے ساتھ مل کر اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہیں اور پھر اپنا کمیشن بھی وصول کرتے ہیں ، یہ ہمت و حوصلہ دینے کے بجائے کمزور و ناتوان کو ڈرادھمکاکر اپنی مرضی کا بیان لے لیتے ہیں ،یہ ڈرا دھمکا کر مقدمات کی پیروری کرنے والوں اور متاثرہ خاندان کو دھمکی دے کر اثررسوخ و صاحب ثروت لوگون سے اپنا حصہ کمالیتے ہیں اور یہ سب پولیس گردی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ملک میں لاکھون ایسے مقدمات ہیں جہان پولیس کی پولیس گردی کی وجہ سے معاملات الجھے ہوئے ہیں جبکہ چارہ دست اور بااثر لوگ جرم کرتے ہوئے بھی انصاف کے کٹہرے میں نہ لائے جاسکے ۔ پنجاب پولیس کی حالت زار اور جرائم کی حالیہ داستانیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ قانون کی عملداری کتنی مظبوط ہے۔ یہاں اس بات کی بھی وضاحت ہو کہ سب پولیس والے بُرے نہیں ان میں ایسے ایسے ایماندار ،فرض شناس اور دیانت دار لوگون کی بھی کمی نہیں جو اپنے جیتے جی عوامی خدمت کو عبادت سمجھ کر کرتے ہیں اور وہ ایماندار ی میں اور اپنے عمل و کردار سے اپنی مثال آپ ہیں جنہیں سلام پیش کرنا ہمارا فرض ہے ۔ اندرون سندھ اور خصوصاکراچی پولیس کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ اپنے اپنے مخصوص علاقون کے بادشاہ ہیں جہان کوئی بھی جائز و نا جائز کام ان کی رضامندی کے بغیر نہیں ہوتا ،ہر علاقے کا ایس۔ایچ او اپنے علاقہ کا بادشاہ ہوتا ہے ،وارداتون کا ایک خاص حصہ کمیشن کے طور پر وصول کرتا ہے اور اسی طرح یہ نظام چل رہا ہے ۔شکر ہے کہ موجودہ آئی جی سندھ نے پولیس اصلاحات کے زریعے معاملات کو صحیح ٹریک پر لانے کی کوشش کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سائیں کی سندھ سرکار کو آئی جی صاحب ایک آنکھ نہیں بھاتی اور کئی دفعہ اس معاملے پر عدالت سے رجوع کیا گیا مگر سپریم کورٹ تبادے پر حکم امتناعی جاری کرکے آئی جی سندھ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا ہے سیاسی اثررسوخ کے ہوتے ہوئے بھی ائی۔جی ۔سندھ کا پولیس نظام میں اصلاحاتی اقدامات حوصلہ افزا ہیں جن کی ستائش آج پورے کراچی کے باسی کررہے ہیں ۔اسی طرح خیبر پختونخواہ کے موجودہ حکومت نے بھی پولیس کو سیاسی اثررسوخ سے حتی الامکان آزاد کرانے کی جو سعی کی ہے اور پولیس فورس میں جو اصلاحا ت کئے گئے ہیں سب کے سب قابل ستائش ہیں اور امید ہے کہ پولیس فورس میں اصلاحات سے انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی ۔ گزشتہ تین چار سالون کے قلیل عرصے میں پولیس کو عوام دوست بنانے اور معاشرے سے پولیس گردی کو ختم کرنے کی صوبائی حکومت کے اقدامات بجا طور پر تعریف کے قابل ہیں اور انہی اصلاحات کی بدولت پولیس فور س کی کارکردگی میں بھی خاطر خواہ بہتری آئی ہے اور عوام کا پولیس پر روز بروز اعتماد بڑھ رہا ہے مگر ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔خیبر پختونخواہ سمیت پورے ملک میں پولیس فورس کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اسے مکمل طور پر سیاسی اثررسوخ سے باہر نکال کر ایک آزاد و خود مختار ادارہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تمام صوبون کے عوام کا پولیس پر اعتماد بڑھے اور پولیس بھی آزادانہ طور پر مکمل انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے اور پولیس گردی کا مکمل خاتمہ ممکن ہو۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق