fbpx
تازہ ترینمحمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان ۔۔۔اساتذہ ۔۔قوم کا ہراول دستہ

’’استاد ہر دور میں انمول رہا ہے ‘‘یہ جملہ اکثر اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لئے دھرایا جاتا ہے اور بہت سارے حوالہ جات اساتذہ کے بارے میں دیئے جاتے ہیں مگر اگر ان کی ضرورت نہ ہو تو ان کو بھلایا جاتا ہے۔۔ان کی قدر بھی اور احترام تک ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے ۔۔معاشرے میں ہر ایک کو اپنی سٹیٹسکو کی پڑی ہوتی ہے ۔۔اپنے پروٹوکول کی فکر ہوتی ہے ۔۔مگر استاد استاد ہی رہتا ہے ۔۔اب ان کی ضرورت کا وقت آتا ہے تواستاد ’’استاد محترم ‘‘بن جاتا ہے ۔۔ان پہ بھروسہ کیا جاتا ہے ۔۔توقعات کی ایک حبل متین دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ۔۔ان کے فرائض میں الیکشن،مردم شماری ۔متاثرین کی لسٹ بنانا،مستحقین زکوۃ کا شمار ،معذور افراد کو گننا،سیلاب زدہ گان کی رپورٹ تیار کرنا ،مختلف سروے کرنا ۔۔پھر کلاس روم میں پڑھانا ۔پھر بچوں کی بے ترتیباں اور والدین کی تنقید ۔۔یہ سب کچھ اُستاد کی زمہ داریوں میں شامل ہیں ۔۔مگر یہ سولیہ نشان ہے کہ کیا اُستاد یہ سب کچھ خوش اسلوبی سے انجام دے رہا ہے اور کیا ان کی ان خدمات کا احساس کیا جارہا ہے ۔۔مگر استاد نے کبھی اعتراض نہیں کیا کہ یہ سارے مجھے کیوں کرنے پڑتے ہیں ۔کرتا ہے فخر سے کرتا ہے ان کے نزدیک قوم کی خدمت کی اہمیت ہوتی ہے ۔۔وہ بھروسے کا کبھی نہیں سوچتا ۔۔ وہ حوصلہ افزائی کا انتظار نہیں کرتا ۔۔اس کو معاوضے کی فکر نہیں ہوتی ۔ابھی آنے والے الیکشن کی تیاری میں بھی اساتذہ کی خدمات کی ضروت پڑی اس سے تھوڑا پہلے ہی مردم شماری ہوچکی تھی اور اساتذہ کی ضرورت پڑ ی تھی۔۔مجھے بھی دو دن کی ٹریننگ میں شامل ہونے کا موقع ملا ۔۔میں نے دیکھا کہ اساتذہ ٹریننگ دے رہے ہیں اور اساتذہ ہی ٹریننگ لے رہے ہیں ۔۔خال خال دوسرے محکموں کے زمہ دار ہیں مگر کلاس میں دلائل اساتذہ دے رہے ہیں۔۔ پریزنٹیشن اساتذہ دے رہے ہیں۔۔باتیں اساتذہ کر رہے ہیں۔۔ دلچسپی اساتذہ لے رہے ہیں ۔۔مسائل کی نشان دہی اساتذہ کر رہے ہیں ۔۔ ان کا حل اساتذہ دھونڈ رہے ہیں ۔۔دوسرے محکموں کے لوگ آرام سے اساتذہ کو سن رہے ہیں ان دنوں ان اساتذہ کاا حترام بیٹھ گیا ہے ۔۔ مجھے بھی آزرو ہوئی کہ استاد بنوں ۔۔مجھے اساتذہ سے پیار ہوگیا ۔ان کا مقام ایک حوالہ بن گیا ۔۔اس سمے یقین سا ہو گیا کہ یہ واقع معمار قوم ہیں ۔۔میں دوڑ کر شہزاد ندیم اے ڈی ای او ایجوکیشن کے پاس پہنچا ۔شہزاد صاحب اس حوالے سے میرے ایڈئل ہیں۔ان کے پاس صلاحیت بھی ہے وژن بھی ۔۔آپ ٹریننگ دینے والوں میں شامل تھے ۔۔میں نے کہا ٹرینرز کی لسٹ ذرا تھما دو ۔۔ارٹیکل لکھ کر ذرا اپنا تعارف کراؤں کہ اساتذہ ہی اس قوم کے ہراول دستے ہیں ۔۔آپ نے ٹریننگ کی تفصیل بھی اور لسٹ بھی تھما دی ۔۔پہلے الیکشن کمیشن کی طرف سے ماسٹر ٹرینڑز کوٹریننگ دی گئی ۔۔ان میں شہزاد ندیم اے ڈی ای او ایجوکشن ۔شاہد حسین اے ڈی ای او ایجوکیشن ۔پروفیسر رضیہ ۔۔پروفیسر روزینہ ۔۔نور گلاب سابق الیکشن آفیسر ۔۔خوش والی سابق الیکشن آفیسر ۔۔حاجی مراد ہیڈ ماسٹر ہائی سکول مستوج ۔۔نور شبہ سابق پرنسپل شامل تھے ۔۔انہوں نے ماہ مئی سے عملے کو ٹرین کرنا شروع کیا اب تک پریذائڈنگ آفیسرز، اسسٹنٹ پریزائڈنگ آفیسرز اور پولینگ آفیسرز کل ملا کر ۲۴۹۹ افراد کو تربیت دی ہے اور ان کو اس عظیم قومی فریضے کے لئے تیار کیا ہے۔۔جس سیشن میں میں تھا اس میں چترال کے عظیم ماہرین تعلیم کو دیکھ کر دل باغ باغ ہوگیا ۔۔یہ ڈاکٹر تاج الدین۔۔ یہ ہیں پروفیسر مراد علی ،یہ ہیں پروفیسر سیف الالنام ،یہ ہیں پروفیسر مطیع ۔ یہ ہیں پروفیسر شفیق ۔۔چترال یونیورسٹی کے پروفیسرز ۔کالجوں کے پروفیسرز سکولوں کے اساتذہ یہ ہیں یونس سلطان ،یہ شفیق ،یہ ہیں حسام ،یہ ہیں عبدالعزیز ،یہ ہیں روشن خان ۔ایسا لگتا تھا کہ قوم کے روشن ستارے یہاں پہ جمع ہیں ۔۔پھر ایک احساس کی چھپن نے بے چین کیا کہ کیا ہمارے نمائندے ان عظیم ہستیوں کی نمائندگی کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔۔ایک اور چھپن تھی کہ اتنی تعلیم یافتہ قوم کو نمائندہ ایسا چننا ہے کہ وہ ان کی نمائندگی کی صلاحیت رکھتا ہو ۔۔مجھے اساتذہ پہ فخر ہو ا اور اس قوم پہ بھی کہ اس کے معمار باصلاحیت ہیں ۔۔استاد معاشرے میں اپنا منفرد مقام رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اس مرتبے کو بر قرار رکھے ۔۔وہ کا م کرنے صلاحیت رکھتا ہے اس لئے وہ قوم کی مجبوری بن جاتا ہے ۔۔یقیناًیہ ہر دور میں انمول ہے اور انمول رہے گا ۔۔بس قوم کے پاس ایسا شعور ہو کہ وہ اس کے مرتبے کو سمجھے ۔۔۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق