fbpx

پوسٹ گریجویٹ نرسنگ کالج حیات آباد کے مسائل

……….. تحریر۔ ناصر علی……

پوسٹ گريجويٹ کالج آف نرسنگ حيات آباد پشاور کا سنگ بنیاد 1999 ميں جناب مہتاب آحمد خان نے رکھا تھا يہ گورنمنٹ کی طرف سے نرسنگ ايجوکيش کو پروموٹ کرنے کے سلسلے میں اہم قدم تھا۔ اس ادارے کا مقصد تعليم يافتہ,ماہر, نرسنگ اخلاقيات سے بھرپور اور خدمت کے جذبے سے سرشار نرسنگ آفيسرز پيدا کرنا تھا۔ اور اس وژن کو پوسٹ گريجوٹ کالج آف نرسنگ کے ليکچرز نےعملی جامہ پہناۓ اور نرسس کے دلوں ميں خدمت کا جذبہ پيدا کیا۔ يہی نرسنگ آفيسرز اپنی مہارت اور حسن سلوک کيساتھ خدمت خلق میں مصروف عمل ہے ۔اس ادارے کی خدمت کو سراہتے ہوۓ تمام اساتذہ کو خراج تحسين پيش کرتا ہوں جنھوں نے تن من دھن سے کام کرتے ہوۓ مظلوموں کيلئے اخلاق سے بھر پور,مہارت رکھنے والے مسيحا پيدا کئے۔اس ادارہ کے اساتذہ اپنی صلاحيت کا بھرپور اندز ميں استعمال کرتے ہوۓ اپنی فرائض منصبی احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں۔ چونکہ ٹيکنولوجی کا دور ہے اور علاج معالجہ کے نظام ميں بہتری آرہی ہے اور ہم بھی وہی مہارت کے طلبگار ہيں جو دور جديد کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ ہمارے اساتذہ اپنی محنت سے سٹوڈنٹس کو جديد تعلیم دينے کی بھر پور کوشش ميں لگے رہتے ہيں مگر جدید علوم و ٹیکنالوجیکل تبدیلوں تک رساٸی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے چہروں ميں مسکراہٹ کے بجاۓ اداسی نظر آتی ہے۔ آغا خان ہسپتال سے ٹرين نرسس کی پاکستان کے ساتھ ساتھ دنيا بھر ميں بہترين خدمتگار کے طور بالکل ہی الگ پہچان ہے۔اسلامک ميشن ( انڈس ) ہسپتال کراچی کے نرسس کی خدمات ميں الگ مقام ہے۔اور پی جی سی اين کا بھی خدمتگار پيدا کرنے ميں ايک الگ مقام اور نام ہے اور ہم چاہتے کہ اس کو ايسا ادرہ بنايا جاۓ جو بين الاقوامی مہارت کے اصولوں پر مبنی ہو۔ نرسنگ کا يہ تعليمی ادارہ PHSA کے ماتحت کام کر رہا ہے۔اور ايسا لگ رہا ہے کہ PHSA کو نہ مريضوں کی خدمت سے دلچسپی ہے نہ نرسس کی مہارت اور تعليم سے۔ان کی دلچسپی ٹرين اور تجربہ کار اساتذہ کی ٹرانسفر کراکے اپنے دل کی بھڑاس نکالنا ہوتا ہے۔سٹوڈنٹس کی مستقبل کے بارے ميں نہ سوچتے ہيں نہ آج تک کوٸی ايسا کام کيا ہے جس پر سٹوڈنٹس فخر کر سکيں۔بلکہ PHSA اپنی زمہ داريان پوری کرنے سے قاصر ہے۔ اسی ادارے کی زمہ داری ہے کہ وہ بيمار لوگوں کے علاج ميں کردار ادا کرنے والے نرسس اور نرسس کو علاج کے قابل بنانے والے ٹيچرز پہ اپنا خاص توجہ مرکوز کرے۔ PHSA اور گورنمنٹ آف خیبر پختونخوا کی توجہ کچھ ضروری ايشوز کی جانب دلانا چاہتا ہوں۔ PHSA اپنی زمہ داری کا احساس کرتے پی جی سی اين کے ٹيچروں کے ليے ورکشاپ کا اہتمام کيا کريں۔ نرسنگ شعبے کی بہتری کيلۓ ٹيچرز کو باہر ملک ٹرنينگ کيلئے بھیجوايا جائے۔ نرسنگ شعبے کی بہتری کيلئے آغا خان يونيورسٹی ہسپتال سے رابطہ کرکے ٹرينگ کے لئے اساتزہ کو بھجوايا جاۓ اور ان کو ادارے کے اوپر کام کرنے پر امادہ کيا جاۓ۔ نرسنگ شعبے کی بہتری کيلۓ کسی اين جی اوز کے ساتھ کوٸی بٹھک کرکے ان کے تجربے سے سٹوڈنٹس کو فائدہ پہنچانے کی کو شش کی جاۓ۔ سٹوڈنٹس کيلے سکالرشپ پروگرام کا آغاز کيا جاۓ۔ ميری کے پی گورنمٹ سے پرزور مطالبہ ہے کہ نرسنگ ايجوکيش کی کوالٹی کو بہتر بنایا جاۓ اور ساتھ ساتھ يہ مطالبہ بھی کرتے ہيں کہ جن قابل , تجربہ کار اور مہارت رکھنے والے ليکچررز کو , جنہوں نے PGCN کو بہترين تعليمی ادارہ بنانے اور نرسس کی قابليت کو ابھارنے ميں اپنی دن رات ايک کئے, ان کا تبادلہ روکا جاۓ تاکہ ہم ان قابل ترين ليکچرز سے فائدہ حاصل کرتے رہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق