fbpx

نرسنگ سروس اسٹرکچر کا اجرا، ایک جائزہ

……… تحریر۔ سید ناصرعلی شاہ ……..
پانج سالوں کی مسلسل کوششوں کے بعد پانچ نکاتی سروسز اسٹریکچر کی منظوری نرسنگ پروفیشن اور نرسسز کے لئے انتہائی اہم اور خوش آئند امر ہے. ان 5 سالوں کے دوران نرسس نے قیدوبند کی تکلیفیں جھلیں. ان پر لاٹھی چارج کیا گیا. کئی دفعہ مذاکرات کئے گئے.ہمارے لیڈرز نے پروفیشن کو بہتر بنانے کی خاطر اپنا وقت, خاندان, رشتہ داروں کو بالائےطاق رکھ کر مسلسل جدوجہد کے بعد دیرینہ مطالبہ یعنی سروس اسٹریکچر منظور کروالئے.وہ تمام نرسس جنہوں نے اپنے لیڈراں کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے گھروں سے باہر نکلے. جلسے اور دھرنے میں شامل ہوکر قوت بازو بنے. آج ان سب کے لئے خوشی اور مسرت کا دن ہے. ایسی خوشی تب بھی ملی تھی جب سابق صدر پاکستاں پرویز مشرف نے نرسز کو گریڈ 16 سے نوازا تھا. فرق یہ ہے اس وقت سولہ گریڈ دیس گیا تھا اور اب ہمارے لیڈرز کی انتھک محنت اور کوششوں کی بدولت ے پروفیشن کو ایک مستقل اسٹریکچر مل گیاہے۔ تحریک کا آغاز اس وقت کے صوبائی قیادت جناب فروغ جلیل اور جناب اول خان صاحب نے کیا تھا اور بہترین انجام موجودہ قیادت کے دور میں ممکن ہوا.اور یہ سب کچھ صوبائی نرسس ایسوسی ایش کے صدر عنایت الحق کے خلوص نیت اور ولولہ انگیز قیادت ,جنرل سیکٹری انور سلطانہ کی ہمت و جرات,ڈپٹی ڈائریکٹر نرسنگ فریداللہ شاہ صاحب کا وژنری رہنمائی’ تمام ضلعی نرسز ایسوسی ایشنز کی پروفیشنلزم اور محنت کی وجہ سے ممکن ہوا. یہ ان تمام کا اپنے پیشے کیساتھ دلی لگاؤ کا منہ بولتا ثبوت ہے. پانچ درجاتی سروسز اسٹریکچر کے مطابق نرسس 20 گریڈ تک ترقی پاسکیں گے .اس رول کے تحت گریڈ 20 کے لئے 12 اسامیاں, گریڈ 19 میں 289 اسامیاں, گریڈ 18 میں 900 اسامیاں اور گریڈ 17 میں 1800 اسامیوں پر تعیناتی کی جائیگی جبکہ گریڈ 16 میں 3200 نرسس کو رکھا جائے گا. وہ تمام عناصر جو صوبائی قیادت کے خلاف منفی پروپگنڈہ کرکے نرسس کی روشن مستقبل کو تاریک کرنے کی کوشش کررہے تھے- وہ میڈیا میں آئے اور معافی مانگے. میری تمام نرسنگ آفیسرز سے گزارش ہے کہ آپ لوگوں کو پہچانے اپنے لئے اپنے پروفیشن کی بہترین مفاد کیلئے۔ اور میری صوبائی اور ضلعی قیادت سے گزارش ہے کہ وہ نرسنگ کے شعبہ کی بہتری کیلئے اپنی کوشش جاری رکھیں.ہم آپ کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں.
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Print Friendly, PDF & Emailاس خبر کو پرنٹ میں حاصل کریں

0 Reviews

Write a Review

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق