کمرشل اشتہارات/ اعلانات
صفحہ اول | تازہ ترین | پوسٹ گریجوٹ کالج اف نرسنگ کو پرائیوٹائز کرنے کی سازش

پوسٹ گریجوٹ کالج اف نرسنگ کو پرائیوٹائز کرنے کی سازش

……….. تحریر۔ ناصر علی شاہ …….

گورنمنٹ کالجز, سکولز میں بہتر اور سستی تعلیم تک رسائی پاکستان تحریک انصاف کا انتخابی نعرہ تھا اور اسی نعرے کے بل بوتے پر جنرل الیکشن میں پی ٹی آئی کو دونوں صوبوں اور وفاق میں کامیابی ملی تھیں۔ البتہ یہ واضح نہیں کی گئی تھی کہ نظام تعلیم صرف Academic ایجوکیشں کا بہتر بنایا جاےُ گا یا ساتھ ساتھ پرفیشنل تعلیم پر بھی توجہ دی جائیگی. نرسنگ کے پیشے کا دنیا بھر میں ایک منفرد اور اعلئ مقام حاصل ہے. اس شعبے سے منسلک افراد خدمت کے جزبے سے سرشار ہوتے ہیں اور دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہوتے ہیں. آفسوس کا مقام یہ ہے کہ اس شعبے کی تعلیم کے لئے خیبر پختونخواہ کی سطح پر صرف ایک نرسنگ کالج گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ نرسنگ کالج حیات آباد موجود ہے اب یہ خبر محو گردش ہے کہ اس ادارے کو بھی پرائیوٹائز کیا جارہا ہے. یہ کالج 1999ء میں اس وقت کے وزیر اعلی مہتاب احمد خان عباسی کے دور میں تعمیر کی گئی تھی تاکہ خطے میں بہترین پروفیشنل نرسز کی تربیت کرسکیں۔ اس کالج میں این ٹی ایس کے تھرو قابل اور اہلیت رکھنے والے سٹوڈنٹس کو داخلے دی جاتی ہے. سرکاری ادارہ ہونے کے ناطے گورنمنٹ ہونے کے ناطے اس کی فیس سٹرکچر بھی موزوں ہے. کالج چار سالہ ڈگری کورس, 2 سالہ پوسٹ آر این ڈگری کورس, نرسنگ سپشیلٹی ایک سال کورس فراہم کررہا ہے۔یہاں کا ایجوکیش بہ نسبت دوسرے انسٹیٹوٹ کے قدرے بہتر ہے. کمپیوٹر لیب , لائبری, تجرباتی لیب, اسٹڈی روم جیسی سہولیات یہاں کے طالب علموں کو دستیاب ہیں. قابل ترین پرنسپل اور لیکچررز کی زیر نگرانی میں ادارہ بہترین مسیحا پیدا کر رہی ہے. اور ایسے پروان چڑھتے پروفیشنل ادارے کو جسمیں غریبوں کے بچے موزوں فیس سٹرکچر کیساتھ تعلیم حاصل کرتے ہے کو پرائیوٹائز کرنا ظلم کی انتہا اور پروفیشنلز کے مستقبل کیساتھ کھلواڑ ہوگا. ہماری وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خاں, وزیر اعلی کے پی جناب محمود خاں صاحب اور وزیر صحت خیبر پختونخواہ ڈاکٹر ہشم اللہ سے پرزور مطالبہ اور گزارش کرتے ہیں کہ گورنمنٹ کے اس عظیم اثاثے کو گورنمنٹ کے ماتحت ہی رکھا جائے اور نرسز اور عوام کی بہتر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کی منظوری دی جائے.وزیراعظم ہاوس کو یونیورسی کا درجہ دیا جا سکتاہے تو نرسز کے لئے پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ کو privatise کرنے کے بجائے یونیورسٹی آف نرسنگ کا درجہ دیکر مثال قائم کیوں نہیں کی جاتی

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

یہ خبر بھی پڑھیں

دھڑکنوں کی زبان ……کیا اس محفل میں بھی ہماری باتیں ہوتی ہیں؟

کیا اے سی لگے کمرے میں بیٹھے ہوئے بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور ڈگری یافتہ …