fbpx

. کاروباری سوچ

………………..تحریر :سرقراز علی خان……………..
مشاہدے سے یہ حقیقت بار بار سامنے آئی ہے کہ کسی بھی کاروباری شعبے کامیابی پانے کے لۓ کاروباری سوچ کاہونا ضرور ہے جب مرغیوں اور ؎انڈوں کی بات چلی تو یار لوگوں نے ہرطرح کے تبصرے کۓ کچھ سنجیدہ اور کچھ مزاحیہ لیکنان مرغیوں اورانڈوں کےکاروبار کے متعلق ان مرغی والوں کے سوچ تک انہیں رسائی کہاں کہ صبح سویرے ایک بھائی کی آواز آتی ہے ” پھوک کوڑوچی جم کروچی صحت مند کروچ ” تو دوپہرکو دوسرے بھائی کی صدا بلند ہوتی ہے” جم متھریکی ارزان متھریکی” پھرعصرکی آذان ہورہی ہوتی ہے کہ تیسرا بھائی آوازدیتا ہے کہ”لوٹ کھک جم کھک ایوکن دراک کاہک”پھر چوتھابھائی چوتھی قسم کی مرغیوں کے ساتھ حاضر پھر پانچویں قسم آتی ہے گویا مرغیوں کے ساتھ بلحاظ عمر پانج قسم کے کاروبار منسلک ہوۓ کسی زمانے میں جب جدید ادویات ابھی متعارف نہ ہوۓ تھے تواطباحضرات مختلف بیماریوں کاعلاج طبی خواص کے لحاظ سے مختلف عمراور رنگ کی مرغیوں اور ان کے انڈوں سے کیا کرتے تھے کالی رنگت کی بڑی عمرکی مرغی کاسوپ اور اس کے انڈوں سے سرد مزاج رکھنے والے بیماروں کا طبی علاج سفید رنگ کی مرغی اور انڈے بادی مزاج رکھنے والوں کی بادی بیماریوں میں مفید سرخ رنگ کی درمیانہ عمر( متھریکی) اور مرغا گرم مزاج رکھنے والے بیماروں کے لۓ شفا ایک دفعہ ایسا بھی ھوا کہگاؤں کے نمبردار کی بیماری میں طبیب نے ان کے لۓ تین سالہ کالی مرغی کے سوپ سے علاج تجویر کی مگر یہ مرغی کہیں بھی نہ مل سکی تو ان کے پڑوسی میرزا قوڑق نے غصے میں آکر قسم کھائی کہ وہ ہر رنگ کی مرغیاں پالے گا اور اپنی زندگی میں کسی مرغی کو زبج بھی ہونے نہ دے گا پھر ان کی ایک مرغی کے متعلق مشہور ہے کہ پندرہ سالوں تک رہ کر نہ صرف اپنے مالک بلکہ کئی پشتوں تک ملحقہ دیہات کے بیماروں کی بیماری میں کام آئی جب ان کے والد سملتی اسقال بیمار ہوا تو ایک طبیب نے کالی رنگ کی لمبی عمر والی مرغی کا سوپ تجویز کی تو اس ناھنجارنے بخل سے کام لے کر تین سالہ مرغی کے سوپ کو کافی سمجھ کر اس آٹھ سالہ مرغی کی جان بخشی کی اورسات سال بعد جب خود بیمار ہوۓ تو پھر وہی طبیب حاذق وہی نسخہ تجویر کیا اور مرغی ذبح ہوگئی یہ زبح کیا ہوگئ کہ پورے علاقے میں اس کی خبر پھیل گئی اور ہرایک دوسرے کو بتا رہا تھا کہ میرزا قوڑق کی پندرہ سالہ آج زبح ہوگئی پھر دیہات والے اپنے اپنے برتن لے کر حاضرہوگئے کہ اگر سوپ میں سے چند قطرے بھی نہ ملتے تو نہ ملے مگر ایک دفعہ نلکے کے نیچے رکھ کر وہ پانی ہی ان میں تقسیم کیا جاۓ تاکہ ان کے بیماروں کو شفاملے۔ دیوان نمبردارتو صے میں اپے سے باہر ہو رہا تھا کہ مرغی کی صفائی میں مستعمل پانی کیوں ضائع کیا گیا نمبردار اسے سراسرمیرزا قوڑق کے گھروالوں کی نااہلی اورملحقہ دیہات کے ساتھ ذیادتی سمجھ رہا اور اس روز ہرمحفل میں اس پانی کے ضیاع کا رونا روتا رہااس مرغی کی دوا کے طور پرشہرت پورے علاقے میں مسلمہ حقیقت سمجھی جانے لگی تھی ایک بار جب پڑوسی حوالدار دورزن بیگ جب بیمار ہوا تھا تو ان کی بیوی عمدۃ الامرا بیگم اس کو پکڑ کر اس پر پانی ڈالتی اور برتن میں نچوڑتی بھی دیکھی گئی تھی اوریہ مرغی کوئی دانہ اٹھاۓ بغیر ھفتوں تک دھوپ سینکتی رہی تھی اب ذبح ہونے کے بعد دیہات سے اس کاپانی حاصل کرنے کے لۓ جمعم ہونے والوں کی طرف سے امن عامہ کا مسئلہ پیداہوا تو میرزا کا چھوٹا لڑکا انتظامیہ سے جب یہ طے کر رہا تھا کہ دور کے دیہات والوں کو اسے نلکے کے نیچے رکھ کر وہ پانی دیا جاۓ گا اور قریب والوں کو اس کے ھفت اندام کو جدعانی سات لگنوں ابال کر اس کے سوپ سے حصہ دیا جاۓ گا اتنے میں ایک شور اٹھا اور لوگ سارے بیمار مرزا قوڑق کے سرہانےپہنچ گئے جو ابتدائی علاج کے طور پر مرغی پاؤن اور سر سے تیار سوپ پی کر زندگی پارھا تھا اور رضائی سے نکالنے کی کوشش کر رھا تھا تو اس تیمادار منع کر رھے تھے اور یہ بڑ بڑانے میں یہ کہتا ہوا اٹھا کہ” نہیں مرغی مسلم رہے گی اس کو کاٹ کر ٹکڑوں میں نہ بانٹ دو اسے دھاگے سے باندھ کر بلی کتوں کے پہنچ سے دور ہوادار جگہ میں لٹکا دو جس کو ضرورت ھو وہ ایک مرغی اور انڈے لے کرآۓ اور پانی میں گرم کرکے وہ پانی لے جاۓ پانی میں گرم کرنے کے لۓ لکڑی کی زمہ داری بھی خود اس پر”

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Print Friendly, PDF & Emailاس خبر کو پرنٹ میں حاصل کریں

متعلقہ خبریں/ مضامین

إغلاق