fbpx
تازہ ترین

خیبرپختو نخوامیں پولیوکے 2کیسزسامنے آنے کے بعد21اضلاع میں 18فروری سے تین روزہ انسدادپولیو مہم کا آغاز کیا جارہاہے 

پشاور(چترال ایکسپریس)سال رواں کے دوراں خیبرپختو نخوامیں پولیوکے 2کیسزسامنے آنے کے بعد21اضلاع میں پیر 18فروری سے تین روزہ انسدادپولیو مہم کا آغاز کیا جارہاہے جس کے دوران ان اضلاع کی مقامی آبادی سمیت یہاں مقیم افغان مہاجرین اورٹی ڈی پیز کے 65کیمپوں میں مجموعی طورپرپانچ سال سے کم عمر کے47لاکھ45ہزار748بچوں کوپولیوسے بچاؤکے قطرے پلائے جائیں گے۔
اس بات کافیصلہ پولیوکی روک تھام کے لیے قائم ادارہ ایمرجنسی آپریشن سنٹرمیں ای او سی کوآرڈینیٹر کیپٹن (ر) کامران احمد آفریدی کی صدارت میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیاگیا اجلاس میں ڈائریکٹرای پی آئی ڈاکٹراکرم شاہ،بی ایم جی ایف فوکل پرسن ڈاکٹرامتیازعلی شاہ، عالمی ادارہ اطفال(یونیسیف)کے ٹیم لیڈڈاکٹرمحمدجوہرخان،عالمی ادارہ صحت( ڈبلیوایچ او)کے ٹیم لیڈعبدی ناصر،این سٹاپ آفیسرڈاکٹراعجازعلی شاہ،ڈاکٹر صاحبزادہ محمد خالد پروگرام منیجر ای پی آئی /پی ای آئی قبائلی اضلاع اوردیگرمتعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں خیبرپختونخوا اورضم ہونے والے سابق قبائلی اضلاع میں پولیوسے متعلق مجموعی صورت حال بالخصوص سال رواں کے دوران باجوڑ اوربنوں میں سامنے آنیوالے پولیو کے پہلے 2کیسزسے متعلق تفصیلی غوروخوض کیاگیااجلاس میں خیبرپختونخوا اور ضم ہونے والے21اضلاع پشاور،چارسدہ،نوشہرہ،مردان،صوابی،ملاکنڈ،لوئردیر،کوہاٹ،کرک،بنوں،ہنگو،لکی مروت ،ٹانک،ڈیرہ اسماعیل خان،باجوڑ،خیبر،کرم،مہمند،اورکزئی،شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں 18فروری سے شروع ہونے والی تین روزہ انسداد پولیو مہم کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی اجلاس کو بتایا گیا کہ اس مہم کے دوران مجموعی طورپر پانچ سال سے کم عمرکے 47لاکھ45ہزار748 بچوں کوپولیوسے بچاؤکے قطرے پلائے جائیں گے اس تین روزہ مہم کے لیے 16ہزار532تربیت یافتہ پولیوہیلتھ ورکرزمقررکیے گئے ہیں جس میں 14ہزار377موبائل ،1ہزار230فکسڈ،802ٹرانزٹ،123رومنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن کی موثرنگرانی کے لئے 3832ایریاانچارجزبھی مقررکئے گئے ہیں مہم کے دوران ڈیوٹی سرانجام دینے والے اہلکاروں کی سیکورٹی کے لئے بھی خاطرخواہ انتظامات کئے گئے ہیں اجلاس کو خصوصی طور پربتایا گیا کہ اس مہم کے دوران جہاں دیگر21اضلاع میں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے وہاں صوبائی دارالحکومت پشاورمیں4ماہ سے 5سال تک کے 6لاکھ 91ہزار575بچوں کوآئی پی وی کے ٹیکے بھی لگائے جائیں گے جس کا مقصدبچوں میں پولیوکے خلاف قوت مدافعت کومزیدبڑھاناہے۔ آئی پی وی ویکسین خون میں شامل ہو کر فوری طور پر قوت مدافعت بڑھاتی ہے قطرے اور ٹیکہ جات دونوں مل کر بہتر حفاظت فراہم کرتے ہیں اور پولیو وائرس کا پھیلاؤ کوروکتے ہیں پولیو ٹیکہ جات مکمل طورپر محفوظ ہیں اور 4ماہ سے5سال تک کے تمام بچوں کودئے جاسکتے ہیں جس میں بیمار اور کم زور بچے بھی شامل ہیں آئی پی وی ٹیکہ لگانے کے لئے 1082تربیت یافتہ اور تجربہ کاراہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے اور پولیو سے بچاؤ کے یہ ٹیکے بچوں کوگھروں کے بجائے نزدیکی بنیادی مراکزصحت میں لگائے جائینگے کوآرڈینیٹر ای او سی کیپٹن (ر) کامران آفریدی نے معاشرے کے تمام طبقات خصوصا والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے میں بھرپور تعاون کریں اور اپنے بچوں کوپولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ ٹیکوں کے لئے اپنے قریبی بی ایچ یوزاور مراکز صحت ضرورلے کرجائیںیاد رہے کے2014میں صوبہ خیبر پختونخوا اور ضم قبائلی اضلاع میں مجموعی طور پر 247پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے جبکہ پولیو ورکرزکی انتھک محنت اور کامیابی کی وجہ سے2018 میں ان کیسز کی تعدادکم ہو کر 8رہ گئی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ خبریں/ مضامین

error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔
إغلاق